سوڈان:15اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سوڈان میں عبوری فوجی کونسل وامی جس نے سیاسی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر جنرل عمر زین العابدین کے نام کی منظوری دی ہے نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معزول صدر عمر البشیر پر مقدمہ چلانے کے لیے انہیں بین الااقوامی عدالت آئی سی سی کے حوالے نہیں کریں گے۔سوڈان میں اس وقت برسراقتدار فوجی کونسل کے رکن لیفٹینیٹ جنرل یاسر العطا نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ عبوری سویلین حکومت قائم کرنے کے لیے ایک آزاد شخصیت کا نام تجویز کریں۔ سوڈانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے بھی جمہوری حکومت قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔سوڈان کی کمان جس نئے شخص کے ہاتھ میں دی گئی ہے وہ بھی فوجی ہیں لیکن ایسوسی ایٹیڈ پریس کا کہنا ہے کہ ان کا ریکارڈ دوسرے سوڈانی جرنیلوں کے مقابلے میں زیادہ شفاف ہے۔ ان کے بارے میں کہا گيا ہے کہ انھوں نے مظاہرین سے ملاقات کی ہے اور ان کے خیالات سنے ہیں۔فوجی کونسل نے یہ بھی کہا کہ وہ عمر البشیر کو آئی سی سی کے چارجز کا سامنا کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گی۔سوڈان میں صدر عمر البشیر کی برطرفی کے بعد احتجاج بدستور جاری ہے جہاں مظاہرین نے ملٹری حکام سے فوری اور بغیر کسی شرط کے آئندہ 4 سال کے لیے اقتدار سویلین کو دینے کا مطالبہ کیا ہے۔خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 4 ماہ سے جاری مظاہروں کے منتظمین اور سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج کریں گے۔افریقی ملک سوڈان میں مظاہرین نے فوجی حکومت سے سویلین حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ مظاہرین کے دس ارکان پر مشتمل نمائندوں کی ملکی فوجی کونسل کے ارکان سے مذاکرات کے دوران کیا گیا۔ سوڈانی فوج نے گزشتہ ہفتے صدر عمر البشیر کی حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔سوڈان کی فوجی کونسل کے سربراہ عود ابن عوف نے عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے ایک دن بعد ہی عوامی مظاہروں کے دوران اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر دفاع عود ابن عوف نے اپنے فیصلے کا اعلان سرکاری ٹی وی پر کیا۔ انھوں نے لیفٹینینٹ جنرل عبد الفتاح عبدالرحمان برہان کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔احتجاج کرنے والے مظاہرین نے سڑکیں چھوڑنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ تختہ الٹنے والے افراد عمر البشیر کے بہت قریبی لوگ ہیں۔فوج کا کہنا ہے کہ وہ دو سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد انتخابات کرائے گی۔ایک عرصے سے سوڈان کی سربراہی کرنے والے عمر البشیر کا زوال کئی ماہ کے احتجاج کے بعد سامنے آیا جب دسمبر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے۔عمر البشیر کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے دارفور جنگ کے معاملے میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کا مرتکب پایا ہے۔ تاہم عمرالبشیر آئی سی سی کے چارجز سے انکار کرتے ہیں۔کونسل نے تین مہینے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے جس دوران آئین منسوخ رہے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعے کو مظاہرے میں شامل کم از کم 16 افراد اندھی گولیوں کا نشانہ بننے سے ہلاک ہوئے ہیں۔سوڈان کے وزیر دفاع جنرل عود ابن عوف نے 12 اپریل کو ملٹری کونسل کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اگلے ہی دن عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد 13 اپریل کو جنرل عبدالفتح برہان نے حلف اٹھایا۔گزشتہ روز سرکاری نشریاتی ادارے سے جاری اپنے بیان میں عبدالفتح برہان نے کہا تھا کہ ملٹری کونسل نے سوڈانی عوام کے تمام مکاتب فکر کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔انہوں نے ایک ماہ تک رات 10 سے صبح 4 بجے تک نافذ کیا گیا کرفیو ہٹانے اور فوری طور پر مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔خیال رہے کہ 11 اپریل کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔فریقی ملک سوڈان کی ملٹری کونسل کے نئے سربراہ جنرل عبدالفتح برہان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سارے ملک میں سے عمر البشیر حکومت کی تمام باقیات کا پوری طرح صفایا کر دیا جائے گا۔ انہوں نے حکومتی ڈھانچے کی تشکیل نو کا اعلان کرتے ہوئے بدعنوانی کو ختم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ جنرل برہان نے عمر البشیر کی حکومت کو ہٹانے کے بعد قائم ہونے والی ملٹری کونسل کے سربراہ جنرل عود ابن عوف کو فارغ کر دیا ہے۔ عود ابن عوف معزول صدر عمر البشیر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ نئے فوجی سربراہ نے ملکی خفیہ ادارے کے سربراہ صلاح عبداللہ محمد صالح کو بھی ہٹا دیا ہے۔ دوسری جانب سوڈانی مظاہرین سول حکومت کے قیام کا مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here