15اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 18 اپریل کو ہونی ہے۔ اس مرحلے کے تحت 13 ریاستوں کی 97 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس میں آسام کی 5، بہار کی 5، چھتیس گڑھ کی 3، جموں و کشمیر کی 2، کرناٹک کی 14، مہاراشٹر کی 10، منی پور کی 1، تمل ناڈو کی 315اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)9، اترپردیش کی 8، مغربی بنگال کی 3 اور پونڈیچری کی 1 سیٹ شامل ہے۔دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کئی معاملات میں کافی اہم ہے۔ اس سے یہ طے ہوگا کہ کیا اترپردیش میں جاٹ، دلت اور مسلم ووٹرس واقعی بی جے پی کے ساتھ ہیں یا ان کا موڈعظیم اتحاد کے ساتھ جانے کا ہے۔ بہار میں جینت رام مانجھی اور چراغ پاسوان این ڈی اے کے ساتھ ٹکر میں اپنی سیٹیں بچا پائیں گے یا نہیں، اس ووٹنگ سے یہ بھی ثابت ہو جائےگا۔سب سے پہلے بات کرتے ہیں اترپردیش کی 8 سیٹوں کی۔ 2014 میں ان 8 سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ تھا۔ اس بار حالات کچھ مختلف ہیں۔ ایسے میں بڑے لیڈران پر اپنے گڑھ کو بچانے کا چیلنج رہےگا۔ 18 اپریل کو نگینہ، امروہہ، آگرہ، فتح پور سیکری، علی گڑھ، بلند شہر، متھرا اور ہاتھرس لوک سبھا سیٹ پر ووٹنگ ہونی ہے۔ متھرا کو بی جے پی کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے اور یہاں سے گزشتہ 5 سالوں میں ہیما مالنی ایک بڑا نام بن کر ابھری ہیں۔ ایک بار پھر وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ ہیما کو اس بار کانگریس اور آر ایل ڈی امیدوار سے زبردست چیلنج مل رہا ہے۔ وہیں، دوسری جانب اگر بات کریں علی گڑھ سیٹ کی تو اس سیٹ کو بی جے پی کے سینئر لیڈر اور اب راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ کلیان سنگھ لودھ ووٹرس کے بڑے لیڈر مانے جاتے ہیں متھرا، علی گڑھ سے آگے بڑھتے ہیں اور بات کرتے ہیں فتح پور سیکری، نگینہ، ہاتھرس اور آگرہ کی۔ یہاں 18 اپریل کو ووٹنگ کافی دلچسپ ہونے والی ہے۔ اس سے جاٹ ووٹرس کا مزاج طے ہوگا۔ وہیں، لودھ ووٹرس اس بار کس کا ساتھ دیں گے، یہ بھی دیکھنے والی بات ہوگی۔ بلند شہر، علی گڑھ، آگرہ اور فرخ آباد میں لودھ ووٹرس کی بڑی تعداد ہے جو یو پی کی آبادی کا صرف 2 فیصدی ہیں، لیکن ان سیٹوں پر 10- 35 فیصدی ووٹرس ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here