شکاری پور : 08اپریل (سیدھی بات نیوز سرویس )جامعہ مدینۃالعلوم شکاری پور ضلع شیموگہ کا ایک قدیم ادارہ ہے جو تقریباً 30 سال سے علمی تشنگی کو سیراب کرنے میں لگا ہے،واضح رہے یہ مدرسہ 1990 میں جناب حضرت مولانا ایوب صاحب ندوی بھٹکلی،مولانا اقبال صاحب ندوی بھٹکلی اور ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے باہمی مشوروں سے وجود پایا ہے فی الحال اس مدرسہ کے اہتمام کی ذمہ داری اس مدرسہ ہی کے خوشہ چیں مولانا اظہر الدین صاحب ازہر ندویؔ کے سپرد ہے۔
مؤرخہ ۶/۷ اپریل 2019بروز سنیچر، اتوار کودو روزہ مہتم بالشان جلسہ کا انعقاد عمل میں آیا۔پہلے دن بعد نماز مغرب ابنائے قدیم جامعہ مدینۃ العلوم شکاری پور کرناٹک کا اعزازی پروگرام ہوا جس میں تمام ابنائے قدیم وجدید جامعہ کا اعزاز کیا گیا۔صدارتی کلمات ڈاکٹر حافظ امجد صاحب کرناٹکی نے کہے جس میں ابنائے قدیم جامعہ سے درخواست کی کہ ملک وملت کی ترقی وبرتری کے لئے متحد ہوکر کام کرے اور بعد نماز عشاء ابنائے قدیم جامعہ مدینۃالعلوم شکار ی پور کرناٹک کی مجلس مشاورت ہوئی الحمد للہ بہت سارے احباب نے اس مجلس میں شرکت فرماکر اپنے ابنائے جامعہ ہونے اور جامعہ سے دلی محبت کا ثبوت دیا اور مجلس کو زینت بخشی۔
دوسرے دن جامعہ مدینۃالعلوم شکاری پور کرناٹک میں جمعیۃالحفاظ کے بیانر تلے اک روزہ مسابقہ حفظ قرآن ہوا جس میں ضلع شیموگہ وداونگرہ کے تقریباً 16مدارس کے طلباء نے حصہ لے کر اپنی طبع آزمائی کی۔واضح رہے کہ جس میں پہلا انعام 12ہزار۔دوسرا انعام8ہزاراور تیسرا انعام 4ہزار طئے تھا اور زمرہئ ثانیہ میں 1تا 20 پاروں کا مقابلہ ہوا جس میں پہلا انعام 15ہزار۔دوسرا انعام10ہزار اور تیسرا انعام5ہزار مقرر تھا۔
ماشاء اللہ تمام مساہمین نے مقصد کے حصول میں مقدور بھر کوشش کی چنانچہ زمرہ اولیٰ میں پہلا انعام مدرسہ انوار العلوم شیموگہ کے طالب علم سید رفیق بن بشیر لمہ اور دوسرا انعام جامعہ یوسف ضیاء العلوم کے طالب علم محمد ممتاز بن مطیع الرحمن نے اور تیسرا انعام مدرسہ احیاء العلوم شیموگہ کے طالب علم محمد نثار بن محمد شعیب نے حاصل کرکے اپنے ادارہ کا نام روشن کیا۔
اور زمرہ ثانیہ میں پہلا انعام مدرسہ احیاء العلوم شیموگہ کے طالب علم محمد نظام الدین بن محمد ظہور عالم نے اور دوسرا انعام جامعہ مدینۃالعلوم شکاری پور کرناٹک کے طالب علم عمر فاروق بن ریاض صاحب اور تیسرا انعام جامعہ بلال دھرم کٹہ کے طالب علم محمد عرفات بن اصغر صاحب نے حاصل کرکے اپنا اور والدین اور ادارہ کا نام روشن کیا۔اس مسابقہ میں حکم کے فرائض بالترتيب مولانا رضوان احمد محتشم، مولانا مزمل عثمان ہلارے، مولانا عبد الباسط ندوی اور مولانا ساجد ندوی نے بحسن خوبی انجام دی.
جملہ تین نشتیں ہوئیں جس میں ڈاکٹر حافظ امجد حسین صاحب کرناٹکی کی سرپرستی رہی اور حضرت مولانا اظہر الدین ازہر ؔ ندویؔ مہتمم جامعہ مدینۃالعلوم شکار ی پور کرناٹک نے نظامت کا فریضہ انجام دیا اور بڑے بڑے علماء کرام ودانشوران عظام اور عمائدین شہر کی شرکت شامل حال رہی. ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے ہاتھوں حضرت مولانا خواجہ معین الدین ندوی مدنی دامت برکاتہم اور خادم القرآن حضرت مولانا محمد نعمت اللہ صاحب ندوی دامت برکاتہم کا اعزاز بھی ہوا جس میں مذکورہ دونوں علمائے کرام کی خدمت میں منظوم سپاس نامہ پیش کیا گیا….
الحمدللہ اس وقت جامعہ مدینۃ العلوم روز افزوں ترقیات کی جانب گامزن ہے. عصری تعلیم اور کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے دو مشہور و معروف ادارے دارالعلوم دیوبند اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے نصاب کی آمیزش اور معیاری اور لائق و فائق اساتذہ کی تربیت کی وجہ سے ضلع شموگہ اور اس کے اطراف و اکناف کے لئے ایک مثال بنا ہوا ہے

۔واضح رہے کہ آخری نشست میں حضرت مولانا خواجہ معین الدین مدنی ؔندویؔ صاحب کے ہاتھوں جامعہ میں درسِ بخاری ومسلم وترمذی کا آغاز ہواجس میں مولانا موصوف نے حدیث کی اہمیت اور اس کے حصول کی افادیت اور ائمہ حدیث کے مقام مرتبہ پر بڑا پر مغزدرس اور اثر انگیز خطاب پیش کیا ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے اپنے خطاب میں حضرت مولانا ایوب صاحب ندوی بھٹکلی دامت برکاتہم اور مولانا اقبال ندوی رحمہ اللہ کی کوششوں اور احیاء المدارس بھٹکل کی ابتدائی قربانیوں کو عوام الناس کے سامنے بیان کیا اور کہا کہ ان علماء کے فیوض و برکات سے آج یہ مدرسہ جامعہ کی شکل اختیار کیا ہے اس طرح قرآن وحدیث دونوں کی خدمت کا حسین سنگم دیکھنے کو ملا اور یہ ضلع شیموگہ کا پہلا مدرسہ ہے جہاں دورہ حدیث تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اخیر میں خادم القرآن حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب نے اپنےصدارتی کلمات میں جامعہ اور بانیان جامعہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے قرآن اور حافظ قرآن کی فضیلت پر مختصر مگر جامع خطاب کیا. شہر شکارپور میں جمعیت حفاظ کے قیام پر مولانا ازہر ندوی کو مبارکبادی پیش کی اور اس اقدام کو مستقبل کے لئے خوش آئند قرار دیااس کے بعد آئے ہوئے مہمانوں کا اعزاز ہوا اور دعائیہ کلمات کے ساتھ جلسہ اختتام کو پہونچا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here