سعودی عرب:08اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سعودی عرب کی ایک معذور، بیمار اور بینائی کی کمی کی شکار خاتون نے بھی کوہ پیمائی کا اپنا خواب شرمندہ تعبیرکرکے اپنی بہادری اور بلند ہمتی کا ثبوت پیش کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوسن عبداللہ کی عمر تیس سال ہوگی۔ اس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے پرعزم اور مشکل مشن کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ’سنہ 2011ء میں میری زندگی مختلف تھی۔ میں اس وقت یونیورسٹی اسپتال کے شعبہ حادثات کی لیبارٹری میں ایک اسپیشلسٹ کے طور کر کام کرتی تھی۔ ایک دن اچانک میرے ہاتھ سے تجزیے کے نمونے گر گئے۔ میں نے اپنے پائوں ہر بہت زیادہ بوجھ محسوس کیا۔ معائنے سے پتا چلا کہ میرے دماغ میں ایک انوکھا ورم پیدا ہوگیا ہے’۔سوسن نے بتایا کہ شروع میں وہ ‘ٹیومر’ معمولی تھا مگر چند ہی دن میں وہ تیزی کے ساتھ پھیلتا گیا۔ اس نے میرے دماغ کے دائیں حصے کو متاثر کیا اور میں ایک اور دنیا میں چلی گئی۔ جب میں نے اپنے دماغی ٹیومر کو ختم کرانے کا فیصلہ کیا اور صحت کی اس خطرناک پریشانی کاچیلنج قبول کرتے ہوئے زندگی گذارنے کا عزم کیا تو میری یاداشت کافی حد تک متاثر ہوچکی تھی۔ بات کو سمجھنے اور گویائی کی قوت بھی متاثر تھی اور میری آنکھوں کی بینائی بھی مثاثر ہوچکی تھی۔ چلنے میں دشواری تھی اور میرا دایاں ہاتھ بھی مفلوج ہوگیا تھا۔ حتیٰ کہ اسے مسکرانے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی۔ طویل اور مسلسل علاج کا عمل شروع کیا گیا جسکے بعد بالآخر میں نے وہیل چیئرکا استعمال چھوڑ دیا۔ میں نے لاٹھی کے سہارے اپنے پائوں پر چلنا شروع کردیا۔ایک سوال کے جواب میں سوسن کا کہنا تھا کہ اللہ نے انسان کے اندر غیرمعمولی طاقت رکھی ہوتی ہے۔ میرے لیے میرے والدین نمونہ تھے۔ والد بھی فالج کی وجہ سے چلنے سے قاصر تھے اور والدہ بھی چھاتی کے سرطان اور الزھائمر کا شکار تھیں۔ دونوں کو چلنے میں دشواری تھی مگر وہ چلنے کی کوشش کرتے تھے۔میں نے بھی اپنے پائوں پرچلنے پھرنے کے لیے اپنی قوت مجمتع کی۔ ایک سائیکل لے لی اور ورزش کے ذریعےاپنا جسمانی توازن ٹھیک کرنے کی کوشش شروع کردی۔ اپنے نابینا ساتھیوں کے ساتھ چلنا شروع کیا۔ فہم اور گویائی کا علاج کرایا اور آج میں 30 کلو میٹرتک پیدل چل سکتی ہوں۔ پہاڑوں پر چڑھ سکتی ہوں۔ ابھا میں القرون گھاٹی کو عبور کیا۔ بلجرشی میں جبل عقبہ حمیدہ اور حال ہی میں جبل النور چڑھنے کا چیلنج مکمل کیا اور اب مائونٹ ایورسٹ سر کونے کا عزم کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here