سعودی عرب:03اپریل 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)امریکہ کے روزنامے واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھ کر سعودی عرب کے حکمراں کے خلاف آواز بلند کرنے والے سعودی نژاد صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد ان کے چار بچوں کو ہر ماہ 10ہزار ڈالر کی رقم مالی امداد کے طورپردی جارہی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے یہ قدم مقتول صحافی کے اہل خانہ کو خاموش کرانے کے لئے اٹھایا ہے۔ سعودی اہلکاروں کے مطابق، خشوگی کے چار بچوں ،دو بیٹے اور دو بیٹیوں کو اس کے علاوہ جدہ میں 40لاکھ ڈالر کے مکان بھی دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا،ہر بچے کو 10ہزار ڈالر اور مکان دئےگئے ہیں اور یہ رقم ہر ماہ دی جارہی ہے۔ ممکن ہے کہ مکان بعد میں بیچ دئے جائیں گے اور بچے وہ رقم لے لیں گے۔اہلکاروں کا خیال ہے کہ خشوگی قتل کی سماعت پوری ہونے کے بعد بچوں کو اور بڑی رقم مل سکتی ہے۔ کچھ افسروں کا خیال ہے کہ صحافی کے قتل کے بعد سعودی حکمراں کے خلاف سخت مذمت سے بچنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے،حالانکہ ایک دیگر اہلکار نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں مارے جانے والوں کے رشتہ داروں کے لئے حکومت مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ سعودی عرب کے ایک سابق افسر نے کہا کہ یہ خشوگی کے بچوں کو رقم کی ادائیگی ایک طرح سے اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ خشوگی گزشتہ سال اکتوبر میں ترکی میں سعودی عرب کے قونصل خانے جانے کے بعد سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ بعد میں ترکی نے انکشاف کیا تھا کہ صحافی کو قونصل خانے میں ہی قتل کردیا گیا ہے۔ سعودی عرب نےترکی کے اس الزام کی سخت تردید کی تھی لیکن عالمی برادری میں اس کی سخت مذمت ہونے پر اس نے اعتراف کیا کہ قونصل خانے میں جھڑپ کے دوران صحافی کی موت ہو گئی۔ قتل کے معاملے کی جانچ کی جارہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here