سلفیت:14مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)فلسطین کی آزادی کے لیےاپنی جانیں قربان کرنے والے ہرشہید کی اپنی ایک داستان ہے۔ ان میں23 سالہ شہید محمد جمیل قزق آل شاھین کی زندگی اور شہادت کی اپنی ایک الگ کہانی ہے۔۔ اس کی عمر صرف دو سال تھی جب اس کےوالد اچانک انتقال کرگئے۔ اس طرح اس نے یتیمی کی زندگی بسر کی اور 23 سال کو پہنچا تو صہیونی فوج کی ایک قاتل گولی نے اس کی جان بھی لے لی۔ اس طرح اس نے یتیمی کی زندگی بسر کی اور شہادت کی موت سےسرفراز ہوا۔شہید محمد شاہین کی ماں عصفورہ شاھین نے بتایا کہ محمد اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے بچے کی ایک یتیم کے طورپر پرورش کی مگر کبھی اسے باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ اس نے ان بچوں کی طرح پرورش پائی جن کے والدین حیات ہیں۔ اس کی 23 سالہ زندگی یتیم کی زندگی تھی مگر صہیونی دشمن نے عین عنفوان شباب میں اس کی زندگی سلب کرلی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دوس سال پیشتر صہیونی فوج نے شمالی شہر سلفیت میں شہید محمد جمیل القزق آل شاہین کے مکان کا محاصرہ کیا۔ دشمن نے شاھین کو حراست میں لیا اور مجد جیل میں ڈال دیا، جہاں اس نے چھ ماہ تک صہیونی زندانوں میں قید وبند کی صعبوتیں اٹھائیں۔اس کے ٹھیک دو سال بعد 12 مارچ 2019ء کو صہیونی فوجیوں‌نے ایک بار پھر اس کے مکان کا محاصرہ کیا۔ قابض فوج نے نہتے فلسطینی کو گرفتار کرنے کی آڑ میں اس پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں کئی گولیاں اس کے جسم کے بالائی حصے میں پیوست ہوگئیں۔ ایک گولی اس کے دل کو چھو کر پار ہوگئی جو اس کے لیےجان لیوا ثابت ہوئی۔ اسے شدید زخمی حالت میں یاسرعرفات اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے جسم میں موجود گولیاں نکالنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی زندگی نہ بچا سکے۔جیسے محمد شاھین کی شہادت کی خبر اس کے اہل خانہ اور علاقے میں پہنچی تو شہری صہیونی ریاست کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ شہر میں محمد شاھین کی شہادت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا اور شہید کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پورا شہر امڈ آیا۔فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کہ طرف سے محمد شاھین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت شہید کیا گیا۔ اسے گولی تاک کر ایک جسم کےاس حصے پرماری گئی جو اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ دل کو زخمی کرنے والی گولی پیٹھ کی طرف سےنکل گئی۔اپنی شہادت سے قبل محمد شاھین نے ‘فیس بک’ پر آخری پوسٹ شیئر کی جس میں اس نے لکھا کہ شہید اللہ کی مشیت سے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوتےہیں۔ جب تک ان کے ساتھ اللہ کی مشیت اور رضا موجود ہے انہیں کوئی خوف اور ڈر نہیں۔ اس کے ان الفاظ نے لواحقین کو عزم اور ایک نیاحوصلہ دیا اور اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here