محمد وسیم

14مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ہندوستان کی 29 ریاستوں میں 543 سیٹوں پر لوک سبھا کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اس میں تمام قوموں کے ماننے والوں کے یکساں حقوق ہیں، انھیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع دۓ گئے ہیں، ہندوستان کے قانون بنانے والوں نے یہ سوچا تھا کہ ہم جو دستور بنا رہے ہیں اس کے نتیجے میں عوام اور ملک کی خوشحالی اور ترقی ممکن ہو سکے گی اور کسی خاص مذہب کو کوئی برتری ح اصل نہیں ہوگی، مگر وہ دستور ابھی تک کاغذی ثابت ہوۓ ہیں، ہندوستان میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، اس کے بعد مسلمانوں کی اکثریت ہے، اس ملک میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، جین مت، بدھ مت اور پارسی وغیرہ مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، ہندوستانی سماج میں کئی مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ پیار و محبت سے رہتے آۓ ہیں اور یہی اس ملک کی خوبصورتی ہے۔ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے میں اور خوشحال ہندوستان بنانے میں مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے اور ان کو حاشیے پر لانے کی کوشش کے بعد مکمل نہیں بلکہ نامکمل ہندوستان ہے، ہندوستان میں نفرت کے جو بیج انگریز نہیں بو پاۓ اس نفرت کو یہاں کی سیاست نے ہر دل میں نہ صرف پیدا کیا بلکہ پروان بھی چڑھایا، مجھے یہ کہنے دیجئے کہ مولانا ابو الکلام آزاد بھی یہاں کی سیاست اور اپنے وقت کے سیاسی لیڈروں کی غلط پالیسیوں سے بدظن ہو گئے تھے۔ گو کہ یہاں کی سیاست مولانا آزاد کو بھی پسند نہ آئی، مگر یہی مولانا آزاد زندگی بھر ہندو مسلم اتحاد پر زور دیتے رہے اور کہا کہ اگر آسمان کی بلندیوں سے کوئی فرشتہ کہے کہ آزادی کل ہی مل جائے گی مگر ہندو مسلم اتحاد سے آپ الگ ہو جائیں، تو انھوں نے کہا کہ میں آزادی کے بجائے ہندو مسلم اتحاد پر زور دوں گا، یہ ایک تاریخی جملہ تھا، آج عوام کی محتاج حکومتیں عوام کے ہی خون کی پیاسی ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، بھکمری اور غریبی سے ہندو مسلم دونوں پریشان ہیں۔ہندوستان میں ماضی کے مقابلے میں آج عوام شدید مسائل سے دوچار ہے، ایسے وقت میں ضرورت ہے کہ عوام صحت، تعلیم، روزگار وغیرہ کو یقینی بنانے والوں کی حمایت کریں، کیوں کہ یہ عوام کے بنیادی حقوق ہیں، جب کہ نفرت کی سیاست کا حصہ بننے سے کسی ایک کا نہیں بلکہ پورے ملک کا نقصان ہوگا، ہندوستان کی آزادی کے بعد یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا کہ اس ملک سے غریبی اور جہالت کو ختم کریں گے مگر ملک پر قابض کانگریس حکومت نے جہاں اس ملک میں بے شمار مسائل پیدا کئے تو وہیں گزشتہ پانچ سالوں میں بھارتی جنتا پارٹی نے ملک میں بدحالی، بدامنی اور نفرت کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، گزشتہ ستر سالوں میں تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لئے عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے۔قارئینِ کرام ! آج ہندوستان میں بسنے والا ہر شخص پریشان ہے، بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، گاۓ کے نام پر مسلمانوں کا قتل، دلتوں کو زندہ جلاۓ جانے کے واقعات، عورتوں کا استحصال جیسے مسائل سرِفہرست ہیں، لوک سبھا 2019 کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، اپریل 11، 18، 23، 29، اور مئی 6، 12، 23 کو ووٹنگ ہونی ہے، اس بار رمضان میں الیکشن ہونے کی وجہ سے جس طرح سے مسلم سیاسی لیڈران اور علماء کرام احتجاج کر رہے ہیں وہ سمجھ سے باہر ہے، یہ الیکشن انتہائی اہمیت کا حامل ہے، گزشتہ 5 سالوں میں جس طرح سے ملک میں بدامنی پھیلی ہے برسرِ اقتدار پارٹی کی دوبارہ فتح سے ملک میں مزید بدامنی پھیلے گی، اس لئے اس الیکشن میں عوام میں ووٹ کے صحیح استعمال کی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ملک اور سماج میں نفرت کی سیاست کرنے والوں کو تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here