14مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)برطانوی پارلیمان نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق وزیرِ اعظم تھریسا مے کا تجویز کردہ نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی بھاری اکثریت سے مسترد کردیا ہے۔وزیراعظم تھریسا مے کی جانب سے برطانیہ کو یورپی یونین سے نکالنے کی ڈیل کو پارلیمانی اراکین نے دوسری بار مسترد کر دیا ہے اور اب اس معاہدے کے لیے اپنائے گئے لائحہ عمل پر مزید ابہام پیدا ہو گیا ہے۔جنوری کے بعد ایوان میں اراکین نے منگل کو اس معاہدے کو 242 کے مقابلے میں 391 ووٹ سے مسترد کیا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اب اراکین پارلیمان اس بارے میں ووٹ ڈالیں گے کہ کیا برطانیہ کو معاہدے کے بغیر ہی 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیے اور اگر اس میں بھی ناکامی ہوئی تو پھر سوال یہ ہو گا کہ کیا بریگزیٹ کو التوا میں ڈال دیا جائے۔بریگزٹ ڈیل پر اراکینِ پارلیمان کی ووٹنگ سے پہلے برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے کہا کہ وہ اس ڈیل پر لازمی قانونی تبدیلیوں کے حصول میں کامیاب رہی ہیں۔تاہم یورپی کمیشن کے صدر ژان کلاؤڈ جنکر نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس ڈیل کو ووٹنگ میں شکست ہوئی تو تیسرا موقع نہیں ملے گا۔وزیرِ اعظم تھریسا مے کی حکومت نے منگل کو بریگزٹ معاہدہ پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں پیش کیا تھا جسے ارکان نے 242 کے مقابلے میں391 ووٹوں سے مسترد کردیا۔وزیرِ اعظم نے معاہدے کو پارلیمان میں پیش کرنے سے ایک روز قبل پیر کو فرانس کے شہر اسٹراس برگ کا ہنگامی دورہ کیا تھا جہاں وہ یورپی قائدین سے مذاکرات کے بعد معاہدے کی بعض متنازع شقوں پر نظرِ ثانی کی یقین دہانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔لیکن ان کی یہ کامیابی اور یورپی یونین کی جانب سے معاہدے پر نظرِ ثانی کی یقین دہانی بھی برطانوی ارکانِ پارلیمان کو قائل نہ کرسکی۔پارلیمان نے نظرِ ثانی شدہ معاہدہ ایسے وقت مسترد کیا ہے جب برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی ڈیڈلائن میں صرف 16 دن رہ گئے ہیںبرطانوی پارلیمان کی جانب سے معاہدہ مسترد کیے جانے کے بعد ‘بریگزٹ’ کا معاملہ انتہائی غیر یقینی کا شکار ہوگیا ہے۔برطانوی پارلیمان کے پاس اب دو ہی راستے رہ گئے ہیں: یا تو وہ تھریسا مے کی حکومت کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدگی کا اختیار دے دے یا علیحدگی کبرطانوی پارلیمان نے اس سے قبل حکومت کو پابند کیا تھا کہ وہ بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے علیحدہ نہیں ہوسکتی۔لیکن نظرِ ثانی شدہ معاہدہ مسترد ہونے کے بعد حکومت اب بدھ کو پارلیمان میں بغیر معاہدے کے یونین سے علیحدگی کی تجویز دوبارہ پیش کرے گی۔حزبِ اختلاف کی جماعت ‘لیبر پارٹی’ نے بریگزٹ بحران کے تناظر میں ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ لیبر اور بعض دیگر جماعتیں بریگزٹ کے معاملے پر ایک اور ریفرنڈم کی تجویز کی بھی حمایت کرچکی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمان کی جانب سے نظرِ ثانی شدہ معاہدہ بھی مسترد کیے جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی امکان بروئے کار آسکتا ہے۔برطانوی پارلیمان نے اس سے قبل جنوری میں بریگزٹ سے متعلق معاہدے کا ابتدائی مسودہ بھی بھاری اکثریت سے مسترد کردیا تھا جس پر وزیرِ اعظم مے نے 18 ماہ کی محنت اور طویل مذاکرات کے بعد یورپی یونین کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔برطانیہ کے عوام نے 2016ء میں ہونے والے ریفرنڈم میں 48 فی صد کے مقابلے میں 52 فی صد کی اکثریت سے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔لیکن اس ووٹ کے نتیجے میں برطانوی معاشرہ، سیاست اور سیاسی جماعتیں بری طرح تقسیم کا شکار ہوچکی ہیں اور گزشتہ تین سال سے یہ معاملہ برطانیہ اور یورپی یونین کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here