قطر:12مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)قطر کے نائب وزیر اعظم اور سابق وزیر صنعت و توانائی عبداللہ بن حامد العطیہ نے دعوی کیا ہے کہ قطر دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر کا مالک ملک ہے جس کی وجہ سے اس کا محاصرہ کرنے والے ممالک اس پر قبضے کی خواہش مند ہیں۔قطر کے روزنامے الوسائل کے لئے جاری کردہ بیان میں العطیہ نے جون 2017 میں قطر کے حوالے سے خلیج میں پیدا ہونے والے بحران کے بنیادی اہداف کے بارے میں اہم اعلانات کئے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پوری دنیا حتمی شکل میں جانتی ہے کہ قطر کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔ قطر کے محاصرے کا بھی دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ محاصرہ کرنے والے ممالک ،ملک کے قدرتی گیس کے ذخائر کی وجہ سے، قطر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔العطیہ نے کہا ہے کہ محاصرہ کرنے والے ممالک اس سازش پر عمل کے لئے امریکہ سے اشارے کے منتظر تھے۔قطر کے سیاست اور اقتصادیات کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے العطیہ نے کہا ہے کہ ہم نے، قطر کا محاصرہ کرنے والے ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے شہریوں کے قطر میں داخلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ قطر میں اس وقت 3 لاکھ 50 ہزار مصری باشندے باوقار شکل میں کام کر رہے ہیں۔ اور اگر حقیقی معنوں میں حالات کو دیکھا جائے تو اصل میں نقصان اٹھانے والے ہم سے تعلق منقطع کرنے والے ہیں۔سال 2003 میں قطر کے سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنانے سے متعلق الزامات کی بھی تردید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنانے والے اصل شخص کا متحدہ عرب امارات میں مقیم ہونا اس الزام کی واحد وضاحت ہے۔قطر کے OPEC سے نکلنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے عبداللہ بن حامد العطیہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے کاموں کو OPECسے بالا بالا حل کرتا ہے اور اس کی نظروں میں تنظیم کا کوئی احترام نہیں ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here