سعودی عرب:09 مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سعودی عرب میں حیاتیات کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور تدریس کے شعبے سے وابستگی کے بعد ایک مقامی شہری نے اپنا مشن تبدیل کرتے ہوئے گونگے لوگوں کی معاونت اور جمعہ کے خطبات کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی کو اپنا مشن بنا کر سب کو حیران کر دیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے بیالوجی کے استاد صالح النفیعی نے 20 سال قبل اسکول میں حیاتیات کے استاد کے طور پر کام شروع کیا مگر جلد ہی انہوں‌ نے اپنا پیشہ ترک کر دیا اور گونگے لوگوں کی مدد اور جمعہ کے خطبات کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی کو اپنا مشن بنا لیا تھا۔صالح النفیعی سعودی عرب کے القرآن چینل پرجمعہ کے خطبات کی اشاروں میں ترجمانی کرتے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے النفیعی نے بتایا کہ انہوں نے سنہ 1999ء میں ام القریٰ یونیورسٹی سے بائالوجی میں گریجوایشن کی۔ گریجوایشن کرنے کے بعد اپنے متعلق مضمون میں تدریس شروع کر دی مگر یہ سلسلہ ایک سال سے زیادہ نہ چل سکا۔ اسی عرصے میں انہوں‌ نے اشاروں کی زبان سیکھنے اور گویائی کی صلاحیت سے محروم افراد کی مدد کرنے کا منصوبہ بنایا۔ یہ بھی کافی محنت طلب کام تھا مگر انہوں‌ نے ہمت نہ ہاری اور دن رات ایک کر کے اشاروں کی زبان سیکھ لی۔النفیعی کا کہنا تھا کہ میرا مقصد گویائی سے محروم افراد کی مدد کرنا اور دینی خطبات اور تقاریر کی اشاروں کی زبان میں ترجمانی کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے انہوں‌نے الریاض کی شاہ سعود یونیورسٹی میں ایک کورس بھی کیا جس کے بعد انہیں اشاروں کی زبان کے ڈپلومہ کا سرٹیفکیٹ ملا۔ایک سوال کے جواب میں النفیعی کا کہنا تھا کہ اشاروں کی زبان ایک نادر علم ہے اور بہت کم لوگ اسے سیکھتے ہیں۔ یہ فن سیکھنے کے بعد میں‌ نے نجران میں ‘مھد الامل’ میں دو سال تک کام کیا۔ اس کے بعد مدینہ منورہ آگیا اور پھر ریاض میں بھی اشاروں کی زبان میں متعدد اداروں میں خدمات انجام دیں۔ تین سال تک مسجد حرام میں جمعہ کے خطبات کی اشاروں میں‌ ترجمانی کی۔ القرآن چینل پر جمعہ کے خطبات کی ترجمانی میرے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کیونکہ پوری دنیا کے گونگے لوگوں کی ترجمانی کر رہا ہوں۔ایک سوال کے جواب میں صالح النفیعی کا کہنا تھا کہ انہوں‌نے سورۃ الفاتحہ، حج کی تلبیہ اور سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے قومی ترانے کی بھی ترجمانی کی جسے بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ طائف میں جید علماء کے خطبات کی اشاروں میں ترجمانی کا بھی شرف حاصل ہوا۔ مختلف اداروں اور تنظیموں کی طرف سے اشاروں کی زبان کو مزید بہتر بنانے کے لیے معاونت بھی فراہم کی گئی۔ حج کے ایام میں اس کی مصرفیات مزید بڑح جاتی ہیں اور وہ حج کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں کی اشاروں میں ترجمانی کرتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here