08 مارچ2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)آج آٹھ مار چ ہے اور دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔اس دن کی مناسبت سے سیمی نار ، کانفرنسیں اور جلسے جلوس منعقد ہوتے ہیں جن میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انھیں معاشروں میں مرد وں کے شانہ بشانہ لانے کے لیے اقدامات کےوعدے وعید کیے جاتے ہیں،گزرے سال میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر ہوتا اور اس ضمن میں کامیابیوں کا اعادہ کیا جاتا ہے۔سعودی عرب کی اسٹاک ایکس چینج ( تداول) میں بھی خواتین کا عالمی دن منانے کے لیے دنیا کی باقی 80 مارکیٹوں کی طرح کام کے آغاز پر گھنٹی بجائی گئی ہے۔کاروبار کے آغاز پر ایکس چینج کی تجارتی منزل پر یہ گھنٹی کسی اور نے نہیں بلکہ تداول کی چئیرپرسن سارہ جماز السحيمی نے اپنی ساتھی دو خواتین سے مل کر بجائی ہے اور یہ ایک طرح سے سعودی عرب میں خواتین کو بااختیار بنانے کی بھی ایک علامت تھی۔اس موقع پر باضابطہ ایک تقریب منعقد کی گئی اور اس میں خواتین کو بااختیار بنانے کے اصولوں سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط بھی کیے گئے۔یہ سمجھوتا سعودی معیشت میں خواتین کی مزید شرکت کی حوصلہ افزائی سے متعلق ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تداول کی چئیر پرسن کی حیثیت سے سارہ السحیمی کا تقرر دراصل ایک بڑا انقلابی قدم تھا کیوں کہ اس کے ذریعے دراصل مردوں کی بالادستی کے حامل مالیاتی شعبے میں خواتین کی ترقی کی راہیں کھولی گئی ہیں اور سعودی عرب ایسے نسبتاً قدامت پسند معاشرے میں خواتین کو بھی ملکی معیشت کی ترقی میں شریک اور دخیل کیا جارہا ہے۔تاہم مالیاتی شعبے میں تحقیقات کرنے والی فرم ڈیلواِٹ کنسلٹنسی کا کہنا ہے کہ کارپورٹ بورڈز میں خواتین کی نمایندگی میں تو مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن عالمی سطح پر بورڈز کی سربراہی کرنے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے۔اس وقت دنیا بھر میں مالیاتی اداروں کے بورڈز میں خواتین کی نشستوں کی تعداد 12 فی صد ہے لیکن ان میں سے صرف چار فی صد بورڈ کی صدارت کررہی ہیں۔39 سالہ سارہ السحیمی ان میں سے ایک ہیں۔وہ سعودی عرب کی 533 ارب ڈالرز مالیت کی اسٹاک مارکیٹ کی سربراہ ہیں ۔اس سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سعودی مملکت خواتین کو بااختیار بنانے کی حکمت عملی پر کس طرح عمل پیرا ہے اور وہ انھیں مردوں کی بالا دستی کے حامل شعبوں میں بھی سامنے لا رہا ہے۔ورلڈ فیڈریشن آف ایکسچینج کے مطابق تداول مشرقِ اوسط کے خطے میں سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج ہے اور دنیا بھر میں یہ اکیسویں نمبر پر ہے۔سارہ اس کی سربراہ بننے سے قبل مختلف مالیاتی اداروں میں خدمات انجام دے چکی ہیں۔وہ اس وقت نیشنل کمرشل بنک کیپٹل کی چیف ایگزیکٹو افسر بھی ہیں ۔وہ اس سے قبل جدہ انوسٹمنٹ میں چیف انوسٹمنٹ افسر رہی تھیں اور سامبا فنانشیل گروپ میں سینیر پورٹ فولیو مینجر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔وہ امریکا کی معروف دانش گاہ ہارورڈ اور سعودی عرب کی جامعہ شاہ سعود کی گریجو ایٹ ہیں۔انھیں ستمبر 2013ء میں سولہ دیگر خواتین کے ساتھ اسٹاک ایکس چینج کی مشاورتی کمیٹی کی رکن بنایا گیا تھا۔انھیں 16 فروری 2017ء کو خالد الربیعہ کی جگہ تداول کی چئیرپرسن مقرر کیا گیا تھا ۔وہ تب سے سعودی اسٹاک مارکیٹ کو عالمی مالیاتی نظام سے منسلک ومربوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here