پانچ سالہ تجربہ کو بروئے کار لاتے ہوئے وقف بورڈ کرناٹک کی خدمت کروں گا: ڈاکٹرمحمد یوسف 

بنگلور : 07مارچ (سیدھی بات نیوز سرویس )ایک لمبے عرصے کے بعد وقف بورڈ کی متولیوں کے لئے انتخابات ہوئے اورا سکے بعد آج قریب بارہ بجے وقف بورڈ متولی زمرے کے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آگئے ہیں،جس میں توقع کے مطابق سابق وقف چیرمین ڈاکٹر یوسف صاحب جملہ 279ووٹ حاصل کرکے پہلے پوزیشن پر رہے جب کہ سیکنڈ پوزیشن پر جناب انور پاشاہ چترادرگہ نے حاصل کی اور اس طرح وقف بورڈ کے نامزد متولیوں کے ساتھ دو اور متولی جڑگئے: ملحوظ رہے کہ دو متولیوں کے لئے چودہ اُمیدواروں نے قسمت آزمایا تھا، جملہ 913متولیان میں سے 883ممبران نے ووٹ ڈالا تھا جس میں82 ووٹ رد کردئے گئے ہیں، نتائج کے اعلان اور سرٹیفکیٹ کو حاصل کرنے کے بعد جناب ڈاکٹر یوسف صاحب نے کہا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمام سرکاری و سیاسی لیڈران کا اور کمیٹی کے ممبران و دیگر لوگوں کا تعاون رہا جس کی وجہ سے کامیاب حاصل کیا اور ساتھ ہی تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ سال کے تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے وہ کرناٹک کے وقف بورڈ کو ہندوستان کے لئے قابلِ مثال وقف بورڈ بنا کر پیش کریں گے ، اور وقف بورڈ سے وابستہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا اب تو ممبر بنے ہیں، تمام ممبران کے ساتھ مل کر اگلی کارروائی کی جائے گی۔ باہر انتظار کررہے ان کے حامیوں نے نعرے بازی کے ساتھ ان کا استقبال کیااور گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کو مبارکبادی پیش کی اور ساتھ ہی گل پوشی بھی کی گئی ، نامہ نگاروں سے رکن پارلیمنٹ جناب ڈاکٹر نصیراحمد اور گلبرگہ کے کی رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے بھی اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ،اگلے دنوں میں بورڈ کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے ہوئے ، وقف بورڈ کی آمدنی سے قوم کے لئے آسانیاں بنانے کی یقین دہانی کی اس موقع پر جناب انور پاشاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منتخب کئے جانے پر شکریہ ادا کیا اور اپنی خدمات پیش کرنے کی بات کہی :ملحوظ رہے کہ یہ وقف بورڈ چیرمین کا انتخاب نہیں تھا بلکہ وقف بورڈ کے لئے درکار 11اراکین میں سے دو رکن کا انتخاب تھا، اس کو آسانی سے سمجھنے کے لئے یہ یاد رکھیں وقف بورڈ میں گیارہ رکنی کمیٹی ہوتی ہے جس میں دو پارلیمانی زمرہ سے رکن راجیہ سبھا داکٹر نصیر احمد کو چن لیا گیاہے ، ، دوسرے لیجسلیٹر کے زمرہ سے گلبرکہ کی ایم ایل اے کنیز فاطمہ اور میسور کے ایم ایل اے تنویر سیٹھ کو چن لیا گیاہے، میسور کے ایم ایل سی رضوان ارشد نے جو متولی زمرہ کے لئے نام پیش کیا تھا جب کہ دو ہی اراکین اسمبلی ک لئے منتخب کرنا ہوتاہے تو مشورہ کے بعد اپنا نام واپس لے لیا تھا ۔، متولی کے زمرہ سے اب جناب ڈاکٹر یوسف اور انور پاشہ کا انتخاب ہوچکاہے، بار کونسل زمرہ سے ایڈوکیٹ آصف علی منتخب ہوئے ، اور دو عالمِ دین جن کا تعلق اہلِ سنت والجماعت اور شیعیت سے ہونا ہے، ان کو حکومت منتخب کرے گی، اور پھر دو معروف اداروں سے بھی دو ارکان کو لیا جائے گا، وہ بھی حکومت نامزد کرے گی، اور پھر ایک سرکاری افسر ہوگا، اس طرح گیارہ ارکان کے بالاتفاق کمیٹی تشکیل دئے جانے کے بعد یہ کمیٹی طئے کرے گی کہ وقف بورڈ کے چیرمین کے عہدے پر کون ہوگا: لہٰذا اب کچھ دنوں میں یہ بات بھی سامنے آجائے گی، حالیہ آج کے انتخابات اس لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان کو ریاست بھر کے متولیان انتخاب کرتے ہیں، اور اصل مقابلہ یہی ہوتاہے، عوام میں یہی اُمید ظاہر کی جارہی ہے کہ نئے وقف بورڈ کمیٹی کا بھی فیصلہ چیرمین شپ کے لئے شاید ڈاکٹر محمدیوسف کے ہی حق میں ہوگا۔ پھر بھی کہا نہیں جاسکتا،کیوں کہ ابھی کئی اراکین کا حکومت کرناٹک کی جانب سے انتخاب باقی ہے۔

            

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here