ریاض العلوم الجدید عربک کالج ہبلی میں عظیم الشان جلسہ دستاری بندی و تقسیمِ اسناد

ہبلی : 04مارچ (سیدھی بات نیوز سرویس ) ریاض العلوم الجدید عربک کالج ہبلی میں عظیم الشان جلسہ دستاری بندی و تقسیمِ اسنادکا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ریاست کرناٹک و بیرون کرناٹک کے معز ز علماء کرام نے شرکت کرتے ہوئے اپنے پند نصائح سے عوام کومستفید فرمایا ، نو زیرِ تعمیر ریاض العلوم الجد ید کی عمارت کے سامنے کشادہ احاطہ جو کہ لبِ سڑک موجود ہے، سجائی گئی تھی ، اور عوام کا جمِ غفیر اس میں شریک ہوا تھا، دو نشستوں میں منقسم اس اجلاس کے پہلی نشست میں فارغینِ مدرسہ و زیرِ تعلیم طلباء نے اپنی تقریری صلاحیتوں کا مظاہرہ فرمایا جس میں مولانانثار احمد، اختر ملا اعتدالی فیاض احمد ،محمد زبیری اور منہاج الحق سمیت ان کے رفقاء موجود تھے، جب دوسری نشست بعد مغرب سجائی گئی تو جس میں طلباء و فارغین کے علاوہ مہمانانِ علماء کرام نے عوام سے مختلف موضوعات پر پرمغز روشنی ڈالی میں جس میں قابلِ ذکر مولانا قاری محمد کلیم اللہ قاسمی دامت برکاتہم حفاظ کرام اور قرآن کریم کے عنوان پر بات کی تو مولانامسعود احمد ہاشمی صاحب نے اتحاد و اتفاق کے لئے مدارس عربیہ کا کیا کرردار ہوسکتاہے، اس پر سیربحث مکمل علمی بحث کی اور آسانی سمجھانے کی کوشش کی کہ عقائد کے اختلاف میں سمجھوتہ ہرگز نہیں ہوسکتا، مولانا بشیر افضل قاسمی نے مذکورہ عربک کالج میں موجو برج کورس اور ڈپلومہ کورس کا تعارف پیش کیا۔اس موقع پر کنڑااور انگریزی زبانوں میں بھی تقاریر پیش کئے گئے طلباء کی جانب سے، اس موقع پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے اجلاس کے مہمانِ خصوصی حضرت مولانا اکبر شریف ندوی دامت برکاتہم نے کہا کہ آپ ﷺکاسب سے بڑامعجزہ قرآن کریم ہے جب کہ دیگر کئی معجزات ہیں آپ ﷺ کے ،لیکن جو معجزہ دیا گیاہے قرآن کا اس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، جس زمانے میں جیسے چیلنج ہوں گے ویسے ہی مقابلہ کرنا ہوگا، اسی لئے دعوت الی اللہ کی ضرورت ہے، علماء کرام طلباء مدارس کے علاوہ عوام کی بھی ذمہداری ہے کہ وہ انفرادی دعوت کی جانب اپنے آپ کو کھپائیں، اس سے زندگی و آخرت میں فلاح ہی فلاح ہے، کہا کہ جو اپنے آپ کو اس میدان میں لگادیتاہے، اس کے لئے چار چیزیں ملیں گی، جو آخرت میں ملیں گی وہ ملے گی، دنیامیں اچھے علماء و بندوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوگی، فاسق و فاجر کے دلوں میں ہیبت ڈالے گا ، روزی میں برکت ہوگی،دین میں مضبوطی دیں گے، کسی باطل سے متاثر نہیں ہوگا۔آج کے زمانے میں مادیت کا مقابلہ روحانیت اور دعوت سے کی جائے اور اس امت کو داعی بن کر ہی رہناہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ مدرسہ کا نام کسی عمارت کا نہیں بلکہ جہاں شاگرداور اُستاد بیٹھ جائے وہی مدرسہ ہے، لہٰذا عالم دین کے زندگی کا مقصدصرف دعوت ہونا چاہئے: اس سے پہلے مولانا محمد احمد صاحب قاسمی صدر جمعیۃ علماء ایودھیا نے بھی آج کے نازک حالات میں علماء کرام کی ذمہدار ی پر پرمغز روشنی ڈالتے ہوئے خطاب کیا۔مولانا شاکر صاحب قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء کرناٹک نے مائیک سنبھالتے ہوئے یہاں نئی زیرِ تعمیر مدرسہ و مسجد کے لئے دل کھول کر مدد کرنے کی اپیل کی اور اس موقع پر مجمع میں سے ئی اہلِ خیر حضرات نے لاکھوں روپئے عطیہ دینے کا وعدہ بھی کیا اخیر میں اس مجلس کے روحِ رواں او رپورے اجلاس کے داعی و میزبان مولانا احمد سراج صاحب نے بھی گفتگو کرتے ہوئے مدرسہ و مسجد کے تعاون کے سلسلہ میں بہت ہی قیمتی باتیں کہی ، مولانا اسماعیل صاحب قاسمی کے دعا پر یہ اجلاس اپنے اختتا م کو پہنچا نظامت کے فرائض مولوی معین الدین نے ادا کئے :جب کہ محمد ہاشم اور محمد حیات نے تلاوت سے اس اجلاس کا آغاز کیا تھا، او رمنہاج الحق نے حمد باری تعالیٰ پیش کیا تھا۔

                               

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here