علماء کرام کے خطابات اور عوام کی کثیر تعداد میں شرکت 

ٹمکور۔یکم؍مارچ(سیدھی بات نیوز سرویس)آج مسلمان ہونا سب سے بڑا جرم گردانا جارہاہے۔ ہر سو مسلمانوں پر ابتلاء وآزمائش کے بادل منڈلارہے ہیں۔ انہیں سب وشتم کا نشانہ بنایاجارہے۔ اسلام اور مسلمانوں کو قدامت پسند اور بنیاد پرست قرار دیاجارہاہے۔ دین اسلا م پر شدت پسندی اور مسلمانوں پر انتہا پسندی کا الزام لگاکر انہیں احکام شرعیہ پر عمل آوری سے روکنے اور اسلام سے دور کرنے کی ناپاک سازشیں ہورہی ہیں۔ ایسے حالات میں جب ہم اپنے اکابرین اور اسلاف اورمولانا مفتی قربان اسعدی صاحب کی حیات پر نظردوڑاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ باد مخالف کی تندوتیزہواؤں کے باوجود انہوں نے احکامات شرعیہ اور سنت مصطفویؐ پر سختی کے ساتھ عمل کرکے ہمیں ایک سبق دیاہے۔ دارالعلوم حسینیہ عملہ پور کے گراؤنڈمیں حضرت مولانا مفتی محمد قربان اسعدی مرحوم کی حیات وخدمات کے سلسلہ میں منعقدہ اجلاس عام سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے نبیرۂ شیخ الاسلامؒ قاری محمد مودود مدنی نے کہا کہ ہمیں مفتی محمدقربان اسعدی کی زندگی سے یہ سب سبق ملتا ہے کہ اس زمانے میں بھی اتباع رسولؐ ممکن ہے۔ ہم مفتی صاحب کی زندگی کو دیکھیں گے تومعلوم ہوگا کہ یہ کام اب بھی مشکل نہیں ورنہ اس زمانے میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اپنی وضع قطع کے ساتھ رہنا اور احکام شرعیہ پر عمل مشکل ہے ایسے میں مفتی صاحب کی عملی زندگی دیکھ کر یہ کام آسان لگنے لگتے ہیں۔قاری مودود مدنی نے کہاکہ مفتی محمدقربان اسعدی نے اپنا وطن چھوڑکر ایک دورافتادہ علاقہ میں آکر علم کی شمع روشن کی جس کی روشنی دورتک پھیلی ہوئی نظرآرہی ہے۔دارالعلوم حسینیہ کی شکل میں اسلام کا ایک قلعہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ مفتی صاحب کے لگائے ہوئے پودے کو جوآج ایک تناوردرخت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے ہم اس کی آبیاری کریں۔ ہمیں یہ یادرکھناچاہئے کہ جس چراغ سے روشنی حاصل کرناہے اس میں تیل ڈالناہوگا۔ مدارس ومکاتب نبویؐ مشن کوآگے بڑھانے کاایک ذریعہ ہیں۔ مدراس ومکاتب دین کاایک حصہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم سب حضرت مفتی صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں۔ کیونکہ اکابرین کے محاسن کے تذکروں سے ہمیں طاقت وجلاملتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مفتی صاحب کی زندگی کھلی کتاب تھی، انہوں نے اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہیں پہونچایا بلکہ ہمیشہ دوسروں کیساتھ بھلائی وخیرخواہی کامعاملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مفتی صاحب کی فرقت کاغم توہے لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جب انہیں اپنے پاس بلایا تو کچھ اس انداز میں بلایاکہ دنیاجہاں والے رشک کریں۔ حج بیت اللہ جس کے بارے میں احادیت میں صاف طورہے کہ آدمی گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتاہے کہ جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیداہواہو۔ مفتی صاحب حج سے فارغ ہوئے اور پھر رب کے حضور چلے گئے۔ جنت المعلیٰ ان کی آخری آرام گاہ بنی۔ مولانا مزمل قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد سعیدی ،ناظم و متولی مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور، محتشم عبدالباری دبئی، مولانا قاری محمد یوسف ،استاد شعبۂ تجوید دارالعلوم دیوبند، مولانا ساجد حسن استاد حدیث و تفسیر مدرسہ مظاہر علوم جدید،سہارنپور، مولانا عرفان ،مولانا مفتی محمد اشفاق قاسمی ،مولانا عادل ،مفتی آفتاب، مولانا توقیر احمد صاحب، مولانا علی حسن ،قاری مرتضیٰ، مولانا ظہورقاسمی، مولا نا عمرقاسمی امام جامع مسجدٹمکور،مولانا اکرم مسجد عمرفاروق ٹمکور، مولانا نواب قاسمی، مولانا ذیشان مظاہری، مولانا حسین رشیدی،مفتی ابوبکر ٹمکور،مولانامفتی توفیق احمد ،شاعرِ اسلام اسعد بستوی نے بھی خطاب کیا۔قبل ازیں حضرت مفتی قربان اسعدی کی شخصیت و خدمات پرعبد اللہ سلمان ریاض قاسمی کی ترتیب دی ہوئی کتاب ’’عکس قربان ‘‘کا اجراء حضرت مفتی محمدیوسف تاؤلوی اور تمام علماء کرام کی موجودگی میں عمل میں آیااورعبد اللہ سلمان ریاض قاسمی کی شال پوشی کرکے حوصلہ افزائی کی گئی۔ مولانا شمیم سالک نے تحریک صدارت پیش کی جس کی تائید معروف عالم دین مولانا شمشاد قاسمی نے فرمائی۔حضرت الحاج شاہ صوفی معین الدین خانقاہ پٹھیڑہ، سہارنپور کی رقت آمیز دعا کیساتھ یہ تاریخ ساز اجلاس اختتام پذیرہوا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here