ایکسلنٹ اسکول ،ولیمس ٹاؤن بنگلور میں سالانہ ثقافتی اجلاس کا انعقاد

بنگلور: 24فروری (سیدھی بات نیوز سرویس ) جس دور سے ہم گذر رہے ہیں یہ قربِ قیامت کا دور ہے ، نئے نئے فتنے الگ الگ شکل میں اُبھرتے جارہے ہیں، ایسے حالات میں بچوں کی صحیح نگرانی کرنا، اور دینی واسلامی نہج پر اپنے بچوں کی تربیت کرنا جوئے شیئر لانے کے مترادف ہے ، کیوں کہ سوشیل میڈیا نے بچوں اور بڑھوں کو اپنے جادو میں ایسے پھنسایاہے کہ اس سے باہر نکلنامشکل ہے، جس کی وجہ سے بچے بیچیاں ہاتھوں سے نکلتے جارہے ہیں، جھوٹے موٹے، عاشقی کے چلتے دین و اسلام سے نکلتے جارہے ہیں،ایسے حالات میں اگر ہم نے بچوں کی صحیح نہج پر تربیت نہیں کی اور ان کے تعلیم کے لئے ایسے اداروں کا انتخاب نہیں کیا جہاں دین واسلام کی ، اور اللہ و رسول کی تعلیمات دی جاتی ہیں تو پھر بروزِ قیامت، والدین اور سرپرستان سے سوال ہوگا،او راس سوال سے کوئی نہیں بچ پائے گا، ان باتوں کا اظہار ایڈیٹر سیدھی بات چینل مولانا انصارعزیزندوی نے کیا وہ یہاں کل ایکسلنٹ اسکول ولیمس ٹاؤن کے احاطے میں منعقدہ بچوں کے سالانہ ثقافتی اجلاس سے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت فرماکر خطاب کررہے ہیں، موصوف نے کہا کہ حالات بہت ہی ناساز گار ہیں، ہر اعتبار سے تعلیم کے نام پر ہم دین و اسلام سے اس قدر دور نکل جارہے ہیں، ہماری بہنوں کو نہ عزت و آبرو کا لحاظ رہا نہ ہی اپنے ایمان کا، ارتداد کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہاں موجود بچوں کے سرپرستان نے مولانا نے کہا کہ یہ مت بھولیں کہ ایک دن سب کو موت آنی ہے، قبر کے اندھیر کوٹھری سے گذرنا ہے پھر حساب کتاب کا دن مقررہے ، وہاں ایسے ہی نکل جائیں گے، بچوں سے حد سے زیادہ لاڈ پیار کے چکر میں موبائل تھمادیتے ہیں اوربچے اور بچیاں موبائیل میں کونسا ایپ استعمال کررہے ہیں پتہ نہیں ، غیروں سے رابطہ بڑھ جاتے ہیں اب تو انتہا یہ ہوئی کہ برقعہ میں ٹھمکے لگاکر ایسے اسے اپلوڈ کردی جاتی ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کی، اور برقعہ ، حجاب کی بدنامی ہوتی ہے، دین کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹانے والے بن رہے ہیں، مولانا نے بڑی سنجیدگی سے اس پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اولاد کی صحیح نہج کر تربیت کرنے کی تلقین کی۔ ملحوظ رہے کہ ایکسلنٹ اسکول میں کئی سارے علماء کرام کی نگرانی میں بھٹکل علی میاں اکیڈمی کی اسلامیات کی کتابوں کی پڑھائی ہوتی ہے اور دیگرقرآنی و اسلامی تعلیم دی جاتی ہیں، دیگر علوم کے ساتھ، اس کے لئے ہر سال بچوں کے درمیان، سیرت مقالہ نگار، تقریری، نعت ، حمد ، قرات و مکالموں کا مقابلہ بھی کرایا جاتاہے، جس میں طلباء و طالبات بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اس بار بھی بچوں نے بہترین انداز میں اپنے تحریری، تقریری و دیگر ثقافتی پروگراموں کی صلاحیت کو سامنے رکھا، اس موقع پر اسکول کے اساتذہ کرام کے علاوہ طلباء و طالبات کے سرپرستان، والدین و دیگر مہمانانِ گرامی موجود تھے۔ نظامت کے فرائض مولان انیس ندوی نے انجام دئے ۔ مولانا سمیرندوی کے علاوہ ایک اور مہمانِ خصوصی جناب شاہد نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here