ایران:11 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ایران میں آج 11 فروری کو انقلاب کی 40 ویں سال گرہ منائی جا رہی ہے۔ تاہم اس موقع پر برطانوی اخبارSunday Express کی جانب سے اتوار کے روز شائع ہونے والی خبر کے تحفے نے ایران کے ملائی حکمراں نظام کو سخت دھچکا پہنچایا۔اخبار کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کے عناصر نے اکتوبر 2018 میں ایران کے جوہری طبیعیات کے ایک سائنس داں کو حکمراں نظام سے منحرف کرنے میں اس کی مدد کی۔ اس 47 سالہ سائنس دان کو سرحد کے راستے ترکی پہنچایا گیا جہاں سے اس کا بطور پناہ گزین سفر شروع ہو گیا۔ سائنس دان 4800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے فرانس کے شمالی شہر Calais کے نزدیک واقع ساحل پہنچا۔ یہ شہر پناہ گزینوں کے ایک بڑے کیمپ کے حوالے سے جانا جاتا ہے جہاں پر مختلف شہریتوں کے حامل افراد موجود ہیں۔مذکورہ کیمپ میں اسے برطانوی انٹیلی جنس ادارےMI6 کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں امریکیCIA کے ساتھ رابطہ کاری سے اس کا پناہ گزین کا درجہ باقی رہا۔ بعد ازاں وہ 12 ایرانیوں کے ساتھ ایک ربڑ کی کشتی کے ذریعے 31 دسمبر کی رات برطانیہ کی جنوب مشرقی کاؤنٹیKent کے ایک قصبے Lydd پہنچا دیا گیا۔منحرف سائنس دان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھرپور معلومات رکھتا ہے۔ اخبار کے مطابق 2012 میں ایران کے ایک سینئر جوہری سائنس دان اور ماہر مصطفی احمدی روشن کی ہلاکت میں ممکنہ طور پر اس منحرف سائنس دان کا ہاتھ تھا۔ روشن ایرانی دارالحکومت تہران میں بم دھماکے میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ ہلاک ہو گیا تھا۔برطانوی اخبار نے اس خبر کے “ذریعے” کے بارے میں نہیں بتایا۔ البتہ اخبار کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے منحرف ایرانی سائنس دان کے ساتھ پوچھ گچھ کی اور پھر اسے امریکا کے حوالے کر دیا۔ برطانیہ نے امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کے تعاون کا سہارا لیتے ہوئے جاسوسی اور لوجسٹک کارروائی انجام دینے کے لیے “معمول کے خلاف” طریقے پر انحصار کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ اس بات کا خواہش مند تھا کہ تہران کے سامنے اس بات کا انکشاف نہ ہو کہ لندن اس معاملے میں براہ راست ملوث ہے کیوں کہ وہ ابھی تک ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here