احساس نایاب(شیموگہ، کرناٹک)

11 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو کھلے عام بیحیائی کا ننگا ناچ چل رہا ہے وہ مغربی کلچر کا ایک حصہ ہے اور ہمارے آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہیں میں سے ہوگا. (ابوداؤد)اس لئے اس بات کو جاننا بیحد ضروری ہے کہ آخر یہ ویلنٹائن نامی وبا ہے کیا؟ اور اس بیحیائی کی شروعات کہاں سے کس وجہ سے اور کس کے ذریعہ عام ہوئی ہے؟دراصل ‘‘ویلنٹائن’’ ایک یہودی پادری کا نام تھا جس نے انگلینڈ میں شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کے بیچ زنا جیسی بدکاری کو جائز قرار دے دیا، جس کی وجہ سے انگلینڈ کی حکومت نے اس ویلنٹائن نامی شخص کو 14 فروری کے دن پھانسی کی سزا دے دی، پھر اس کے مرنے کے بعد اس کے ہم خیال، اس کے مرید اور انگلینڈ کی نئی نسل نے اس کو اپنا لو گرو مانتے ہوئے ہر سال 14 فروری کو اسکی یاد میں ویلنٹائن کے ہی نام سے اس بیحیائی کو کھلے عام منانا شروع کردیا اور انکا دیکھا دیکھی انکے نقش قدم پہ چلتے ہوئے آج ہماری قوم کے مسلم نوجوان لڑکے، لڑکیاں بھی بڑے ہی جوش و خروش سے اس بیحیائی کو مناتے ہوئے اپنا دین و دنیا بگاڑ رہے ہیں اور اس ویلنٹائن کے نام پہ ہمارے معاشرے میں جس قدر بیحیائی عروج پہ ہے اسکو بیان کرنا بھی مشکل ہے.کمسن عمر کے لڑکے لڑکیوں سے لیکر سمجھدار نوجوان یہاں تک کے چند عمر دراز افراد بھی اس کو ایک جشن کی طرح منارہے ہیں، بازاروں میں سرخ گلاب اور گلدستوں کی تو دھوم مچی ہوتی ہے، سارا بازار سرخ رنگ میں رنگ چکا ہوتا ہے، تحفوں کے نام پہ آفرس کی بھرمار کی جاتی ہے، ہوٹل، ریزارٹس اور دیگر کئی جگہوں پہ ناچ گانے اور شراب جیسی چیزوں کو زور و شور سے پیش کیا جاتا ہے، لڑکے اور لڑکیوں کو کھلی آزادی دینے کی خاطر کچھ لوگ دلالی تک کرتے ہیں، کوئی اپنے پیشے سے جڑ کر مجبوری میں تو کوئی جان بوجھ کر اپنے مفاد کے لئے اور انکے بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے والا پہلا شکار ہوتے ہیں کمسن عمر کے لڑکے اور لڑکیاں جو آج کے دن کے انتظار میں نہ جانے کتنے دنوں سے منتظر رہتے ہیں، اس ایک دن کی محبت کو پروان چڑھانے کے لئے کئی کئی دنوں سے تیاریاں کی جاتی ہیں، جس کے لئے پہلے تو والدین کی جیب پہ ڈاکے ڈالے جاتے ہیں، ویلنٹائن پارٹنر کو تحفے تحائف دینے کے چکر میں کبھی جھوٹ تو کبھی چوری کرنے سے بھی باز نہیں آتے، ایک گناہ کرنے کی چاہت میں ناجانے کتنے ہی کبیرہ گناہ کر بیٹھتے ہیں اور تو اور سنا ہے اس دن سرخ و سیاہ لباس کا بھی اہم کردار ہوتا ہے مثلاً جس لڑکے لڑکی نے سرخ یا سیاہ لباس پہنا ہو وہ خود کو اینگیج بتاتے ہیں، جنہوں نے پنک کلر کا لباس پہنا ہو اسکا مطلب یہ کھلے عام دعوت دے رہے ہیں کہ کوئی آکر ان سے اظہارِ محبت کرے، اور کہتے ہیں اس ویلنٹائن کا آغاز 7 فروری سے ہی ہوجاتا ہے جسکی نشاندہی کے لئے ہر دن کو ایک بیہودہ نام دیا گیا ہے جیسے 7 فروری روز ڈے، 8 فروری پرپوز ڈے، 9 فروری چوکلیٹ ڈے، 10 فروری ٹیڈی ڈے، 11 فروری پرومس ڈے، 12 فروری ہگ ڈے، 13 فروری کس ڈے اور آخر میں 14 فروری ویلینٹائن ڈے مطلب بیحیائی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اپنے ساتھ ساتھ اپنے خاندان اور معاشرے کو سرِعام ذلیل کر شرمسار کرنا . استغفراللہ.ایک وقت تھا جب محبت بھی ایک پاکیزہ احساس ہوا کرتی تھی جو آنکھوں سے شروع ہوکر نکاح کے رشتے میں ڈھل کر اپنی پاکیزگی کا ثبوت دیتے ہوئے تاحیات ایک دوسرے کی وفاؤں میں بندھ کر ہر پل اظہار محبت سے اپنی دنیا کو آباد کرتی رہتی، جو کسی مخصوص دن، وقت، جگہ یا تاریخ کی محتاج نہیں تھی، بلکہ اپنے وجود سے ہر ایک کا سر اونچا کرتی اپنوں کا مان، شان اور غرور تھی لیکن آج یہ کیسی محبت ہے جو عزت دار گھرانوں سے نکل کر کھلے عام سڑکوں، چوراہوں سے ہوتے ہوئے پارکس اور ہوٹلس کے کمروں کی تنہائی میں دم توڑ دیتی ہے، جس کی ابتداء4 پل بھر کی خوشی اور چند جھوٹے دعووں و وعدوں کے ساتھ بربادی کی چوکھٹ پہ لاکے کھڑا کر دیتی ہے، اور اس بربادی کی قیمت کمسن عمر کی نسلوں سے بزرگوں تک کو چکانی پڑتی ہے یعنی ماں باپ اور گھر کے تمام افراد.آخر یہ ویلنٹائن ڈے بنانے کا مقصد کیا ہے جو ہر ملک میں اتنی تیزی سے یہ رواج پروان چڑھ رہا ہے جس میں ہر مذاہب کے نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ہر لڑکا لڑکی اس دن خود کو رومیو جولیٹ، ہیر رانجھا، شیریں فرہاد اور لیلا مجنوں سمجھتے ہوئے محبت جیسے نایاب احساس کو اپنی گندی ہوس کی خاطر داغدار کر رہے ہوتے ہیں، کیا محبت صرف اسی ایک دن کا نام ہے؟ کیا محبت اس ایک دن میں محدود ہوکے رہ چکی ہے جو یہ 14 فروری کے دن کی محتاج ہے ؟؟؟یاد رہے آج جو آپ کررہے ہیں وہ آگے چل کر آپ کی آل و اولاد کرے گی جس طرح آپ اپنی محبوبہ کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر پارکوں اور ہوٹل میں وقت گذاررہے ہیں آنے والے دنوں میں وہی سب کچھ آپ کی اولاد دوہرائے گی، بیٹی یا بہن کی شکل میں کیونکہ ویلنٹائن کے نام پہ جو بیحیائی کی جارہی ہے وہ بھی زنا ہے اور زنا ایسا قرض ہے جو آل و اولاد کو چکانا پڑیگا، اسلئے وقت رہتے سنبھل جائیں ویلنٹائن کے نام پہ پاکیزہ محبت کو بدنام نہ کریں، چند لمحوں کی خوشی کی خاطر اپنی آل و اولاد کو اس گناہ کبیرہ کے قرض کی ادائیگی کا سامان نہ بنائیں ..

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here