افغانستان:11 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو افغانستان میں اپنا دفتر کھولنے کی پیش کش کرتے ہوئےکہا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن ضرور لائیں گے۔افغان میڈیا کے مطابق صوبہ ننگرہار میں تقریب سے خطاب کرتے اشرف غنی نے کہا کہ افغان حکومت تیار ہے۔ طالبان کابل، قندھار یا ننگرہار کہیں بھی دفتر کھول سکتے ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن واپس آئے گا اس کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔طالبان اور افغان سیاستدان امن بات چیت کیلئے ماسکو کیوں گئے انہیں اس کا جواب دینا چاہئے۔ عوام کے ووٹوں سے صدر بنا اس بات میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا، اس سلسلے میں ہمیشہ ہماری پالیسی کا عمل دخل تھا۔خصوصی انٹرویو میں ترجمان نے کہا کہ اگر طالبان، افغانستان میں اقتدار میں آگئے تو وہ پاکستان سے برادر ملک اور پڑوسی کے تحت باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات کے قیام کے لیے رسائی حاصل کریں گے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے کے دوران پاکستان، افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک اہم مرکز رہا یہاں تک کہ افغان شہری اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے۔مذاکرات کے وقت سے متعلق سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکہ کے حملے سے قبل طالبان نے واشنگٹن سے جنگ کے بجائے مذاکرات کا آغاز کرنے کا کہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی مقصد کے لیے طالبان نے 2013 میں دوحہ میں ایک سیاسی دفتر بھی کھولا تھا لیکن اس وقت واشنگٹن مذاکرات پر آمادہ نہیں تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ اب امریکہ مذاکرات چاہتا ہے اس لیے انہوں نے بات چیت کا فیصلہ کیا۔ طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کسی ملک نے اس سلسلے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، اس میں ہمیشہ ہماری پیش قدمی اور پالیسی کا عمل دخل تھا۔طالبان قطر دفتر کے ترجمان نے افغان صدر اشرف غنی کی پیشکش پرردعمل میں کہا ہے کہ طالبان کے سرکاری سیاسی دفترکا مطالبہ واضح ہے ہم اپنے دوحہ کے سیاسی دفتر کیلئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی حمایت چاہتے ہیں۔ افغان صدر کی اصل بات سے ہٹ کر کی گئی پیشکش امن کیلئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ترجمان نے کہا کہ طالبان کا کوئی تدوین شدہ منشور نہیں لیکن ہمارے واضح مقاصد میں افغانستان میں قبضے کا خاتمہ، اسلامی حکومت کا نفاذ، امن و امان کا قیام، افغانستان کی تعمیرِ نو اور انتظامی امور کی فراہمی شامل ہیں۔ کوئی ملک ایسے آئین کو قبول نہیں کرے گا جو اس وقت تیار اور مسلط کیا گیا جب ان پر بمباری جاری تھی۔ ہمارے آئین کو ہمارے لیے بنایا جائے اور شریعت کی تعلیمات کی روشنی میں نافذ کیا جائے گا۔افغانستان میں عبوری حکومت کے ممکنہ قیام سے متعلق سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے نگراں حکومت سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی نہ ہی ایسی کوئی تجویز پیش کی۔ طالبان نے ایک اسلامی معاشرے کا خواب دیکھا تھا اور وہ حقوق کے لیے ایسا طریقہ کار تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرے اور معاشرے کے تمام مرد و خواتین کے لیے ہو۔ ترجمان نے یہ بات افغان خواتین اور انسانی حقوق کے گروہوں کی تشویش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کی جنہیں 20 سال قبل ملک میں طالبان کی حکومت میں خواتین پر عائد کی گئیں پابندیوں کی واپسی کا خوف ہے۔فغان صدر کی پیشکش پر ردعمل میں طالبان قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہےکہ طالبان کے سرکاری سیاسی دفترکا مطالبہ واضح ہے، طالبان دوحا سیاسی دفتر کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی حمایت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان صدر کی اصل بات سے ہٹ کر کی گئی پیشکش امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here