جنوبی کوریا:11 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)جنوبی کوریا ، واشنگٹن انتظامیہ سے طے شدہ سمجھوتے کی رُو سے امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کے لئے ادا کردہ مصارف میں اضافہ کر ے گا۔نئے سمجھوتے کی رُو سے جنوبی کوریا نے، 850 ملین ڈالر کو بڑھا کر 890ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔1950 سے جنوبی کوریا میں موجود 28 ہزار 500 امریکی فوجیوں کے مصارف کا نئے سمجھوتے کی مدت، سابقہ سمجھوتوں کے برعکس 5 سالوں کی بجائے ایک سال ہو گی۔مذکورہ مدت پوری ہونے کے بعد فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں گے اور سمجھوتے کی شرائط طے کریں گے ۔مذکورہ نیا سمجھوتہ سیول میں طے پایا اور اس کے بعد جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ’ کانگ کیونگ وا’ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “یہ کافی حد تک طویل مرحلہ تھا لیکن آخر کار کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے”۔وزیر خارجہ’ کانگ کیونگ وا’ نے ملک میں سمجھوتے پر سنجیدہ سطح کی تنقیدوں کے باوجود اسے ایک “مثبت مرحلہ” قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ ماہِ مارچ سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے 10 راونڈ ہوئے۔امریکی فریق کا تقاضا تھا کہ جنوبی کوریا 1.2 بلین ڈالر ادا کرے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ ماہِ جولائی میں جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور علاقے میں کروائی جانے والی فوجی مشقوں پر بھاری مصارف اٹھے ہیں جس کی وجہ سے وہ مشقوں کو روک دیں گے۔ٹرمپ کے احکامات پر امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون نے فوجی مشقوں کو التوا میں ڈال دیا تھا۔علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کو، دونوں ملکوں کے درمیان موجود، آزاد تجارت کے سمجھوتے کو منسوخ کرنے کی بھی دھمکی دی تھی.

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here