کرناٹک:08 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے پی ایم نریندر مودی کے خلاف سخت رخ اختیار کرتے ہوئے انھیں دوہری شخصیت کا مالک قرار دیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق انھوں نے نریندر مودی پر ملک کی جمہوریت سے کھلواڑ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ یہ باتیں یونہی نہیں کہہ رہے بلکہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ پی ایم کے خلاف انھوں نے اپوزیشن پارٹیوں کو بھی متحد ہونے کے لیے کہا۔ کمارا سوامی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ (نریندر مودی) سلسلہ وار طریقے سے ملک کی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ میری سبھی اپوزیشن پارٹیوں سے گزارش ہے کہ وہ سامنے آئیں اور پی ایم نریندر مودی کی حقیقت سے پارلیمنٹ میں پردہ اٹھائیں۔ دراصل کرناٹک میں سیاسی اٹھا پٹخ بہت تیز ہے اور بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک کی جے ڈی ایس-کانگریس حکومت کو گرانے کی کوششوں کی خبریں لگاتار سامنے آ رہی ہیں۔ کماراسوامی نے اس تعلق سے کئی بار بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی خرید و فروخت کے ذریعہ ریاستی حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔اپنے تازہ بیان میں کماراسوامی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ ایک طرف تو پی ایم نریندر مودی ملک اور سیاستدانوں کو تبلیغ دینے کا کام کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں کہ وہ کالے دھن کے ذریعہ جمہوریت کا گلا گھونٹ دیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں اب ان (پی ایم مودی) کی حقیقت سے پردہ اٹھا دوں گا، اور میرے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت موجود ہیں۔اپنی باتوں کو سچ ثابت کرنے کے لیے کماراسوامی نے ایک آڈیو کلپ ریلیز کیا جس میں بی جے پی کے ذریعہ کرناٹک میں جے ڈی ایس رکن اسمبلی کو خریدنے کی کوششوں کا پتہ چلتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جو آڈیو ریلیز کیا ہے اس میں بی جے پی ریاستی صدر بی ایس یدورپّا اور جے ڈی ایس رکن اسمبلی نگانا گوڈا کے بیٹے شرانا کے درمیان گفتو ہو رہی ہے۔ اس بات چیت میں یدورپا نے 25 لاکھ کا آفر پیش کرتے ہوئے شرانا سے کہا ہے کہ ان کے والد کو ایک وزارتی عہدہ بھی دیا جائے گا۔ دراصل کرناٹک میں بی جے پی کے ذریعہ جے ڈی ایس-کانگریس کے اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کی کوششیں ہوتی رہی ہیں اور خبریں بھی آتی رہی ہیں، لیکن بی جے پی نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا ہے۔ اب جب کہ کماراسوامی نے آڈیو ریلیز کیا ہے تو بی جے پی کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here