ادب اطفال کے فروغ کے لئے کرناٹک اردو اکادمی ہرممکن تعاون کرے گی: مبین منور

آج بروز بدھ ۶؍فروری ۲۰۱۹ء ؁ کو شکاری پور ضلع شیموگہ کرناٹک میں زبیدہ کیمپس کے طلبا و طالبات کا خوب صورت ثقافتی جلسہ اور مسابقاتی پروگرام عمل میں آیا۔ دن بھر بچوں کے رنگا رنگ ادبی اور ثقافتی پروگرام ہوئے تو رات میں شاندار کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ جشن ادب اطفال کی صدارت کے فرائض حافظ کرناٹکی نے ادا کیے جب کے اس جشن کا افتتاح الحاج مبین منور صاحب صدر کرناٹک اردو اکادمی بنگلور نے پودے کی سینچائی سے کیا۔ غالباً یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ہم تمام لوگوں کو ماحول کی حفاظت کرنی چاہیے اور اسے بچانے میں اپنا رول ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں گلشن زبیدہ کی شادابی کی تعریف کی اور کہا کہ کرناٹک میں مسلم ٹرسٹوں اور اداروں کی کمی نہیں ہے۔ مگر گلشن زبیدہ کے طلبا اور طالبات کے ادبی ذوق اور ان کی ادبی صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جس میں ظاہر ہے کہ زبیدہ کے اساتذہ کے ساتھ ساتھ ادارہ کے بانی اور سرپرست کے شب و روز کی محنتیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حافظ کرناٹکی کی ادبی تعلیمی اور تصنیفی خدمات بے مثال ہیں۔حافظ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ بچوں کے ادیب ہونے کا دعویٰ کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ مگر بچوں کو ادب سے جوڑنے والے ادیب شاید ڈھونڈھنے سے بھی نہ ملیں۔ میں ادب اطفال کی عملی ترویج پر بھی یقین رکھتا ہوں یہی وجہ ہے کہ میں اپنے کیمپس کے بچوں اور بچیوں کی ادبی تربیت پر خوب خوب توجہ کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس وقت اردو زبان و ادب وقت کی تیز آندھی کے رخ پر ٹمٹماتے چراغ کی صورت میں زندہ ہے۔ اس لیے اس وقت ناخن کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوانا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ تمام لوگ جو تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں وہ سب کے سب بچوں کی عملی تربیت پر توجہ کریں۔ آپ نے دیکھا کہ گلشن زبیدہ کے نونہالوں نے کس طرح ادبی پروگراموں میں حصّہ لیا اور شاعری بھی کی اور بڑے اور اہم شعراکے سامنے کلام سنانے کی جسارت بھی کی۔ اور داد بھی حاصل کی ظاہر ہے ان چیزوں کے پیچھے اساتذہ اور دیگر متعلقین کی محنت اور میری ذاتی دلچسپی شامل ہے۔ میں پچھلے کئی سالوں سے اعلان کررہا ہوں کہ رباعیات بازی میں زبیدہ کیمپس کے بچوں سے کوئی ٹیم یا اسکول مقابلہ کرنا چاہے تو سامنے آئے۔ اس کے سفر خرچ کے اخراجات میں برداشت کروں گا اور جیتنے والی ٹیم کو شاندار نقدانعام سے نوازوں گا۔ اس اعلان سے میرا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ دوسرے اسکولوں اور اداروں کے ذمہ دار اور بچے بھی زبان و ادب کے میدان میں آگے آئیں۔ جشن ادب اطفال کے موقع سے حافظ کرناٹکی کی تازہ کتاب ’’سلطان ٹیپو شہید‘‘ کا اجرا بھی کیا گیا۔ اس کتاب کا اجرا پروفیسر سید شاہ مدار عقیل نے کیا۔ اور اپنی اجرائی تقریر میں حافظ کرناٹکی کی تصنیفی خوبیوں اور تنظیمی صلاحیتوں اور تدریسی دوراندیشیوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اور کہا کہ حافظ کرناٹکی جس لگن اور ذوق و شوق کے ساتھ زبان و ادب کی ترقی کے لیے ہر سطح پر کام کررہے ہیں وہ بے مثال ہے۔ ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے حافظ کرناٹکی کی خدمات اور کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کے مقاصدکاتعارف کراتے ہوئے کہا کہحافظ کرناٹکی صاحب کا ماننا ہے کہ جب تک ادب اطفال کتابوں کی زینت بنارہے گا اس کی ترقی کی راہیں نہیں کھلیں گی۔ اس لیے وہ ادب اطفال کو عملی شکل میں بچوں کی زندگی میں داخل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس دن ادب اطفال کی روح کا بچوں کی روح سے ملاپ ہوجائے گا ادب اطفال کی کھیتی لہلہانے لگے گی اور بچوں کی روح کے گلاب بھی کھل کر مسکرانے لگیں گے۔ شاد باگل کوٹی نے بھی حافظ کرناٹکی کی ہمہ جہت خدمات اور زبان و ادب سے بے لوث محبت کا ذکر کیا اور اسے مثالی قرار دیا۔ حافظ کرناٹکی اپنے آپ میں ایک کارواں ہیں وہ اپنی کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کے بینر تلے اپنے صرفے سے ہر سال کتنے ہی مثالی پروگرام منعقد کرتے ہیں اور بچوں کے ادبی ذوق کی تربیت کے ساتھ ساتھ مشاعروں اور سیمیناروں کا بھی انعقاد کرتے ہیں۔ نیز اپنے ہی صرفے سے کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی کی طرف سے ادب اطفال، اردو زبان اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کا اعزاز بھی کرتے ہیں۔ اس بار کرناٹکا چلڈرنس اردو اکادمی نے نثار احمد ہاویری، محمد مظفر صاحب، ڈاکٹر شبینہ طلعت، سمیع اللہ عاقل اور محمد آصف کو ان کی خدمات کے لیے اعزاز سے سرفرازکیا اور کرناٹک اردو اکادمی کے صدر الحاج مبین منور صاحب کی خدمات کا بھی اعتراف کیا کہ ان کے جیسے باحوصلہ انسان اور بلند عزائم کے صدر کرناٹک اردو اکادمی کو کم ملتے ہیں۔
بچوں کے جو مسابقاتی پروگرام ہوئے مثلاً حمد خوانی، نعت خوانی، غزل سرائی، بیت بازی، رباعیات بازی، سیرت کوئز، اور مناقشہ وغیرہ اس کے فیصل کے طور پر شاد باگل کوٹی، ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن، پروفیسر سید شاہ مدار عقیل اور شبینہ طلعت وغیرہ نے اپنی خدمات پیش کیں۔ اور بچوں میں انعامات تقسیم کرنے کا فریضہ الحاج مبین منور صاحب نے ادا کیا۔ بہترین طلباکے اعزازات بھی اس موقع سے تقسیم کیے گئے۔ اور رات میں شاندار کل ہند مشاعرے کا انعقاد حافظ کرناٹکی کی سرپرستی اور جناب مبین منور صاحب کی صدارت میں ہوا۔ مہمان شعرا میں نعیم راشد برہان پوری، سراج شولاپوری، مہک کرانوی حیدرآباد، مومنہ مختار اور شاذ رمزی نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ اور مقامی شعرا میں ادارہ ہذا کے بانی و صدراورسرپرست حافظ کرناٹکی، مبین منور، شاہ مدار عقیل، شاد باگل کوٹی، داؤد محسن، علیم اللہ علیم، ارقم مظہری، شبینہ طلعت، اظہر ندوی اور سمیع اللہ عاقل نے اپنے اپنے خوش فکر کلام سے نوازا۔ جب کہ گلشن زبیدہ کے پرائمری اور ہائی اسکول کے طلبا و طالبات نے بھی مشاعرہ پڑھ کر خوب داد حاصل کی۔ چاچا شکاری پوری، ماما شکاری پوری، انکل شکاری پوری، شائستہ بانو، تنزیلہ بانو، مسکان، وغیرہ کے ترنم اور انداز نے سامعین کو بے حد محظوظ کیا۔کل ہند مشاعرے کی نظامت کے فرائض مشہو رناظم مشاعرہ شفیق عابدی نے اپنے دلکش اور دلچسپ انداز میں ادا کیا۔ اور اپنی قابلیت کا ثبوت دیتے ہوئے مشاعرے کو ہر وقت زندہ و تابندہ رکھا اور موقع کی نزاکت سے شعرا کو مائک پر لاکر اختتام تک مشاعرے کی رونق کو قائم رکھا۔ اس جلسے میں مہمان کی حیثیت سے فیاض احمد صدر ایچ کے فاؤنڈیشن، ہچرایپّا جرنلسٹ کنڑا زبان، شمشیر خان ضلعی صدر کراٹا، بشیر احمد سونور ریاستی صدر کراٹا، نثار احمد ہاویری تعلقہ صدر کراٹا، محمد رفیق نائب صدر کراٹا، محیب اللہ سکریٹری تعلقہ اساتذہ کمیٹی، محمد غوث سی، آر،پی، نور احمد کمدوڈ وغیرہ نے شرکت کی۔ جبکہ اس ایک روزہ جشن ادب اطفال اور کل ہند مشاعرے کو کامیاب بنانے میں جناب انیس الرحمن سکریٹری ایچ کے فاؤنڈیشن، انجنیر محمد شعیب، نذراللہ مڈی، اے جے سمیع اللہ ایچ ایم، محمد عادل، حافظ ناصر، مولانا محمد رضوان، شیخ مدثر، عارف اللہ، ڈاکٹر جمیل، ناہیدہ منتظمہ زبیدہ للبنات، خورشیدہ منتظمہ زبیدہ خواتین اردو ڈی ایڈ ہاسٹل اور اساتذہ و طلبانے بے حد اہم رول ادا کیا۔ جلسے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبینہ طلعت نے ادا کی۔ اور یہ جلسہ بہ شمول مشاعرہ رات دس بجے نہایت کامیابی سے اختتام کو پہونچا۔

                       

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here