07 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)گزشتہ دنوں پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ کیا جو کہ اس زمین پر قدم رکھنے والے ایسے پہلے لیڈر ہیں جو دنیا کے 1.3 ارب کیتھولک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس دورہ کے دوران پوپ فرانسس نے مذہب کے نام پر پھیلائی جا رہی نفرت اور تشدد کو غلط ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ بغیر کسی جھجک کے تشدد کی سبھی شکل کی مذمت کی جانی چاہیے اور مذہب کے نام پر کسی بھی تشدد کو مناسب نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ کیتھولک چرچ کے کسی سربراہ کا مسلم اکثریتی ملک یو اے ای کا یہ پہلا دورہ تاریخی ثابت ہوا اور اس دوران انھوں نے دنیا کے سرکردہ سنی مسلم مذہبی پیشواؤں سے ملاقات بھی کی۔پوپ فرانسس نے گزشتہ پیر کے روز کئی مسلم قائدین کے ساتھ میٹنگیں کیں اور یو اے ای میں مختلف مذاہب کے لوگوں سے ملاقات بھی کی۔ انھوں نے اس دوران یو اے ای کے صدر سے بھی ملاقات کی۔ پوپ فرانسس کی آمد پر یو اے ای افواج نے فوجی پریڈ کے ذریعہ ان کا استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں 21 فائرنگ بھی کی گئی۔ بطور جشن آسمان میں طیاروں نے پرواز بھر کر سفید اور پیلے نشان بھی چھوڑے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ویٹکن شہر کے پرچم کا رنگ ہے۔بہر حال، پوپ فرانسس کی یو اے ای آمد کو شیخ محمد نے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یو اے ای کے حکمراں ان سے ملاقات کر کے خوش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے حاکم کو پوپ سے مل کر خوشی ہوئی اور کئی ایشوز پر بات چیت کر کے اچھا لگا۔ شیخ محمد نے مزید کہا کہ ہم نے آپسی تعاون بڑھانے، بات چیت کو ٹھوس کرنے، امن و امان کو فروغ دینے، استحکام اور ترقی حاصل کرنے سے متعلق اہم ایشوز پر بات چیت کی۔پوپ فرانسس نے بھی اپنے یو اے ای دورہ کو تاریخی بتایا اور کہا کہ میں ایک بھائی کی شکل میں یہاں آیا ہوں تاکہ ہم ایک ساتھ مذاکرات کا صفحہ لکھ سکیں اور امن کے راستے پر ساتھ مل کر چل سکیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here