الریاض:06 فروری 2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سعودی عرب نے سرکاری اداروں کے اخراجات پر نظر رکھنے کے لیے ایک نیا دفتر قائم کیا ہے۔ مملکت کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس دفتر کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے نے پبلک پراسیکیوٹر سعود المعجب کے حوالے سے بتایا ہے کہ نیا فنانشیل رپورٹنگ دفتر جنرل آڈٹنگ بیورو کا حصہ ہوگا ۔یہ سرکاری محکموں میں مالی بے ضابطگیوں پر نظر رکھے گا۔انھوں نے کہا کہ کرپشن کسی خاص کمپنی یا سرکاری شعبے تک محدود نہیں ہے ۔متعلقہ حکام اب ان کی نگرانی کریں گے اور سرکاری پراسیکیوٹر ز کوئی بھی تحقیقات کریں گے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ نومبر 2017ء میں شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے مقاصد پورے گئے ہیں۔اس کریک ڈاؤن کے دوران میں سعودی عرب کے بعض با اثر شہزادوں سمیت اقتصادی اور سیاسی اشرافیہ کے خلاف کارروائی کی گئی تھی اور ان سے سرکاری خزانے سے لوٹی گئی رقوم وصول کی گئی تھیں۔شاہی دیوان کے مطابق شہزادوں ، سابق وزراء اور کاروباری شخصیات سے معاملات کے تصفیے کے ذریعے 106 ارب ڈالرز سے زیادہ وصول کیے گئے تھے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ حکومت سرکاری فنڈز کے تحفظ اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔شاہی دیوان کے مطابق بدعنوانی کے خلاف مہم کے دوران میں گرفتار کیے گئے چھپن افراد کو اب فوجداری الزامات کا سامنا ہے اور آٹھ دیگر افراد نے تصفیے کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here