واشنگٹن:12 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج نے الحسکہ صوبے میں واقع الرمیلان کے فوجی اڈے سے اپنی 10 گاڑیاں نکال کر عراق کی سمت روانہ کر دیں۔ المرصد کے مطابق مذکورہ اڈے سے بین الاقوامی اتحاد میں شامل کسی فورس کا انخلا عمل میں نہیں آیا”۔البتہ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ امریکا اپنے فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے باوجود شام میں رہنا چاہتا ہے۔واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کے ترجمان شان رائن نے جمعے کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ شام سے انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف امریکی فوجی کے بارے میں بات کر رہے تھے یا پھر تمام اتحاد کے بارے میں رائن نے بتایا کہ “شام میں زیر غور انخلا کے تحت مشترکہ مشن کی فورس کے نکلنے کا آغاز ہو گیا ہے”۔ ان کا اشارہ داعش تنظیم کے خلاف برسر جنگ واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی جانب تھا۔ البتہ رائن نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انخلا کے شیڈول یا فوجیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔اس سے قبل امریکی وزارت دفاع کے ایک ذمے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں بتایا تھا کہ شام میں موجود امریکی فوج نے اپنے ساز و سامان کا انخلا شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ شام میں تعینات 2000 امریکی فوجیوں کے انخلا کا شیڈول ابھی تک غیر واضح ہے۔مذکورہ امریکی ذمے دار کا کہنا تھا کہ “میں شام سے ساز و سامان کی منتقلی کی تصدیق کر سکتا ہوں۔ البتہ سکیورٹی وجوہات کے سبب میں فی الحال مزید معلومات نہیں دوں گا”۔اس سے قبل امریکی نیوز چینل “سی این این” نے آخری چند روز کے دوران اس ساز و سامان کے انخلا کی بات کی تھی۔ چینل نے امریکی انتظامیہ کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ساز و سامان کی منتقلی شام سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہونے کا اشارہ ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جمعرات کے روز بتایا کہ شام سے امریکی انخلا عمل میں آئے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ واشنگٹن شام سے آخری ایرانی فوجی کو نکال باہر کرنے تک “سفارت کاری” کو کام میں لاتا رہے گا۔گزشتہ اتوار کے روز وہائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے اسرائیل کے دورے میں کہا تھا کہ شام سے امریکی انخلا وہاں پر حلیفوں کے دفاع کی “ضمانت” کے ساتھ عمل میں آنا چاہیے۔اس وقت 2000 کے قریب امریکی فوجی شام میں موجود ہیں۔ خانہ جنگی سے تباہ حال ملک میں موجود امریکی فوجیوں کی اکثریت داعش تنظیم سے کے خلاف لڑنے والی مقامی فورسز کو تربیت دے رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here