11 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)اسلام خالقِ کا ئنات و مالکِ دو عالم کی جانب سے فوز و فلاح کی خاطر بھیجا ہوا ابدی آفاقی و عالمی دین ہے جس کے اولین پیرو کار کائنات کے سب سے پہلے فردِ بشر حضرت آدم ؑ ہیں، حضرت آدم ؑ اس ابدی پیغام کے پہلے پیغمبر ،اس راہ ہدا یت کے پہلے مسافر ہیں، اسی سلسلۃ الذہب کی اختتامی کڑی امت محمدیہ ﷺ ہے ،جس کے امام اور مقتداء رہبر و پیشوا نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ ہیں اصولِ فطرت کے جس شئی کی دیکھ ریکھ صحیح طور پر نہیں ہو تی اس میں بگاڑ لازمی ہے مذہب نام ہی چلنے کا راستہ اور طریقہ کا ہے اگر اس پر نہ چلا جائے تو اس راہ میں گرد و غبار اور دھول کی موٹی موٹی تہیں اور پرت جم جاتی ہیں وقفہ وقفہ سے جب عالم انسا نی میں یہ پرت اور تہیں جم جاتی ہیں تو پرور دگار کی جانب سے ان راہوں کی رکاوٹ یعنی عقیدۂ تو حید کی حفاظت اور مذہب اسلام میں تازگی پیدا کر نے کے لئے حضرات انبیاء کرام ؑ کی آمد اور محنتوں کا سنہرا سلسلہ چل پڑتا ہے ،زبان کے بگاڑ سے جس طرح ایک نئی اجنبی زبان وجود میں آجاتی ہے بالکل اسی طرح عقائد کے بگاڑ سے بھی ایک نیا اجنبی دین اور مذہب وجود میں آجاتا ہے، فرق یہ ہے کہ انسان نئی اجنبی زبان کو قبول کر لیتا ہے ،پر ور دگار عالم کو نیا دین ،اجنبی زبان قبول نہیں جس کا صاف اور بر ملا اعلان اپنے کلام مجید میں یوں فر مایا بیشک اللہ کے نزدیک دین حکم بر داری ہی ہے جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے اس کا وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہو گا ۔شاید مختلف ادیان کے وجود میں آنے کے یہی منطقی اور فلسفی اسباب ہیں ،لیکن دین فقط ایک ہی ہے جس کو خالق کائنات نے اسلام کا نام دیا مذکرہ خیالات کا اظہار جامع مسجد سٹی کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے سہہ ماہی مجلہ جامع العلوم کے اجراء کے موقع پر فر مایا نیز آپ نے اسلام کے ابدی مذہب کی کھلی وضاحت فر ما ئی اور فر مایا کہ اس فلسفہ کو سمجھنے کے بعد ممکن حد تک یہ مغالطہ بھی دور ہو جانا چا ہئے کہ اسلام نیا مذہب اور جدید دین ہے حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام کا ئنات کا اولین دین پہلا مذہب اور ابدی عالمی وآفاقی دین و مذہب ہے، کا ئنات کے پہلے فرد بشر بھی اسی راہ کے مسافر تھے اس کے آخری نبی بھی یہی پیغام لیکر آ ئے ۔زمانے بدلتے رہے قومیں بدلتی رہیں اور ساتھ ساتھ انبیاء بھی بدلتے رہے لیکن سب کا پیغام ایک ہی تھا اور سب کا دین ایک تھا اور اب صورت حال یہ ہے کہ سر کاری و غیر سر کاری عصری اسکول، کالج کے نصاب میں دین اسلام کو سب سے جدید اور نیا دین قرار دیا گیا ہے یہ بات تومسلم ہے کہ اسلام سب سے تازہ دین ہے لیکن یہ تسلیم نہیں کہ یہ دین سب سے نیا دین ہے ،اس بحث سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ دین اسلام کے علاوہ جتنے بھی مختلف ادیان اس وقت موجود ہیں وہ در حقیقت وقفہ وقفہ سے اسلام اور پیغام اسلام کی بگڑی ہو ئی شکلیں بلکہ بگاڑی ہو ئی شکلیں ہیں اگر کو ئی خوا ہش مند ہے کہ وہ قدیم اورباپ دادا کے دین اور اصلی دین کو اختیارکرے تو اس کو چاہئے کہ،دین اسلام اور مذہب اسلام کی طرف رجوع کرے بالفاظ دیگر ’’گھر واپسی ‘‘کرناچاہے تو اس کو چاہیئے کہ قدیم پیغا م ،اور ابدی دین ٗدین اسلام اور مذہب اسلام کی طرف رجوع کرے، اس کے بغیر چارۂ کار نہیں سہ ما ہی مجلہ جامع العلوم جس کا آج اجراء عمل میں آیا قارئین کے ہاتھوں میں ہے اس میں یہی ثابت کر نے کی کوشش و سعی کی گئی ہے کہ دنیا کا قدیم ترین مذہب اسلام ہے اور اسلام ہی ہے۔ اس میں مختلف ادیان کے تقابل علی الخصوص ’’حق جوار‘‘ کے ادا ئیگی کے پیش نظر برادران وطن کے ہندو مذہب کا ممکن حد تک مطا لعہ اور تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور یہ سمجھانے اور باور کرا نے کی کوشش کی گئی ہے کہ حقیقت میں وہ خود اپنے دین کی گہرا ئی سے واقفیت نہیں رکھتے جس میں صاف طور پر اسلام کی خوشبو مہک رہی ہے اور بحیثیت امت دعوت ہو نے کے ہم پر بھی ضروری ہے کہ حتی المقدر دعوتِ حق اور تبلیغِ دین کا فریضہ ادا کرنے کی خاطر خدائے پاک کی تو حید کو علم کی قوت سے پہچا نیں اور تو حید باری کی عظیم امانت کو دوسروں تک پہنچا ئیں۔ اس مجلہ میں مذکورہ مضامین میں سے بیشتر مضامین محقق دوراں حضرت العلام شمس نوید عثمانی نور اللہ مر قدہ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’ اگر اب بھی نہ جاگو گے تو ‘‘ اور بہت سے کتابوں سے مضامین اس میں قلمبند کے گئے ہیں ۔ضروری نہیں کہ اس پیش کر دہ مواد پر اتفاق ہو اور مناسب بھی نہیں کہ اس پر اکتفا ہو، مضمون نگار کی تحقیق اور اقرب الی الصواب ہو نے کے یقین کے پیش نظر ان مضامین کاانتخاب ہوا اور اکتفا اس لئے مناسب نہیں کہ اسلامی مواد علم کا سمندر ہے تشنگان اور غوطہ زنوں کوہر غوطے پر بیش بہا درّ نایاب ضرور ہاتھ لگتے ہیں لہذا اس کی بھی کوشش ضرور ہو نی چا ہئے ۔ ہم جملہ وابستگان ادارہ اپنے تمام قارئین سمیت اس راہ کے محنت کش مجاہدین کے لئے دعا گو ہیں کہ پر ور دگار ان تمام کو اپنے شایانِ شان اجرِ جزیل عطا فر ما ئے اور ان کے نقوش کو ہم تمام کے لئے مشعل راہ بنا ئے۔ مولانا موصوف نے اس موقع پرIMA کونسل کے سر براہ الحاج منصور احمد خان صاحب جامع العلوم جامع مسجد و مسلم چاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کی طرف سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس خصوصی مجلہ کی طباعت میں اپنی پوری آمادگی اور بشا شت کے ساتھ بھر پور حصّہ لیاسہہ ماہی مجلہ جامع العلوم جامع مسجد و مسلم چاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کے صدر الحاج علیم اللہ خان مشتاق او ر جامع العلوم جامع مسجد و مسلم چاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کے سکریٹری الحاج سید نور الامین انور ہا تھوں اجراء عمل میں آیا اس موقع پر حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی جامع العلوم جامع مسجد و مسلم چاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ کے نائب سکریٹری الحاج سید عبد الغفور جامع مسجد سٹی کے ٹرسٹی سید اسلم پاشاہ گلستان الیکٹریکل اینڈ فرنیچرس کے مالک نثار احمد وغیرہ حاضر تھے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here