نئی دہلی:11 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) اقوام متحدہ کےSustainable Development Goals (ایس ڈی جی)کو حاصل کرنے کی سمت میں چار ریاستوں/یونین ٹیریٹری ریاستوں کو چھوڑ‌کر ہندوستان کی بقیہ تمام ریاستوں کا مظاہرہ جنسی مساوات کے اسٹینڈرڈ پرکافی مایوس کن ہے۔غور طلب ہے کہ نیتی آیوگ نے پہلی بار 17مقاصد میں سے 13پر ملک کی الگ الگ ریاستوں کے مظاہرہ کا اندازہ لگانے کے بعد ایس ڈی جی انڈیا انڈیکس2018 جاری کیا ہے۔انڈیکس کے مطابق،جنسی مساوات کے معیار پر ہندوستان کی دو ریاست کیرل اور ہماچل پردیش کی کارکردگی ہی بہتر ہے۔وہیں اتر پردیش کی کارکردگی سب سے خراب رہی ہے۔واضح ہو کہ سال 2015 کےستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2030 تک کے لئے ایکSustainable Development Goalsطے کی گئیں تھیں۔ اس جنرل اسمبلی میں ہندوستان سمیت193 ملک شامل تھے جس میں دنیا کی بہتری کے لئے 17 مقاصد کا تعین کیا گیا تھا۔جن میں دنیا سے غریبی، جنسی عدم مساوات، بھوک، سماجی عدم مساوات اور مقوی غذاجیسے کئی اہم مقاصد شامل تھے۔ہندوستان نے ان مقاصد کا یہ ایجنڈہ1 جنوری 2016 سے 2030 تک کے لئے نافذ کیا ہے۔ انڈیکس میں دئے گئے اعداد و شمار کے مطابق، حال ہی میں سبری مالا مندر میں خواتین کے داخلے پر لگاتار مظاہرہ کا سامنا کر رہے کیرل اور ہماچل پردیش جنسی مساوات کے معیار پر سر فہرست ہیں۔ کیرل اور ہماچل پردیش دونوں کو ہی اس انڈیکس میں 100 میں سے 69 نمبر ملے ہیں۔ وہیں اتر پردیش کی کارکردگی42 نمبر کے ساتھ سب سے خراب رہی ہے۔13 ایس ڈی جی کے سیاق میں ہرایک ریاست اور یونین ٹیریٹری کی کارکردگی کو 0سے100 کے پیمانے پر رکھا گیا۔یہ ریاستوں کے اوسط مظاہرے کو دکھلاتا ہے۔اگر کسی ریاست/ یونین ٹیریٹری نے 100 نمبر حاصل کئے تو اس کامطلب یہ ہے کہ ریاست نے 2030 کے قومی مقاصد کو حاصل کر لیا۔65سے99 نمبر حاصل کرنے پر اس کو ترقی پذیراور 50سے64 نمبر حاصل کرنے پر اس کے مظاہرہ کو اچھا ماناجاتا ہے۔جن ریاستوں کو 0سے49 نمبر ملتے ہیں، ان کو پرعزم ریاستوں کے زمرہ میں رکھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہماچل پردیش، کیرل،تمل ناڈو، چنڈی گڑھ اور پونڈی چیری جیسی ریاستوں نے اہم ترین زمرہ میں جگہ ضرور بنائی ہے، لیکن ملک کی کوئی بھی ریاست/یونین ٹیریٹری طےشدہ ہدف کو حاصل نہیں کر پائی ہے۔آسام، بہار اور اتر پردیش کی کارکردگی جنسی مساوات کے معیار پر سب سے خراب رہی۔جنسی مساوات کے معیار پر تمام ریاستوں اوریونین ٹیریٹری کا کل اوسط دیکھا جائے تو یہ 100 میں سے صرف 36 ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنسی مساوات کے معیار پر ملک کی مجموعی صورت حال بےحد تشویش ناک ہے۔ایس ڈی جی انڈیکس میں عورتوں کی بات کریں تو Maternity ایس ڈی جی 1 کا حصہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی63.6 فیصد خواتین ایسی ہیں جن کو اس کا فائدہ نہیں مل پاتا ہے۔اسی طرح ہندوستان میں50 فیصد حاملہ خواتین میں خون کی کمی پائی گئی ہے۔ اس اشاریہ میں دادر اور نگر حویلی کی کارکردگی سب سے خراب رہی ہے۔یونین ٹیریٹری کی اس ریاست میں 67.9 فیصد حاملہ خواتین میں خون کی کمی ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ اشاریہ 2030 تک ایس ڈی جی 2 کا حصہ ہے۔وہیں ہندوستان میں ہر ایک لاکھ میں زچگی کے دوران مرنے والی خواتین کی تعداد کا اوسط 130 ہے۔2030 تک اس کو گھٹا کر 70 کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔یہ اشاریہ ایس ڈی جی 3 کا حصہ ہے۔اور آخر میں ہندوستان میں اب تک 56.2 فیصد گھروں میں کھانا پکانے کے لیے ایندھن جیسے رسوئی گیس، قدرتی گیس یا بایوگیس دستیاب نہیں ہے۔خواتین کی صحت کو اس سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ یہ اشاریہ ہندوستان کے ایس ڈی جی 7 ہدف کا حصہ ہے۔(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here