کیرل:11 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)کیرل پولیس نے بدھ کو نیدومنگد میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ضلع دفتر میں چھاپہ مارا اور ہتھیار بھی ضبط کئے۔ اس کی تصدیق پولیس نے کی ہے۔ یہ چھاپےماری آر ایس ایس کے کارکن نورانند پروین کی تلاش میں کی گئی۔ پروین کو پولیس نیدومنگد میں بم پھینکنے کے معاملے میں تلاش رہی ہے۔جن ستا کے مطابق، پولیس نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یہ چھاپےماری پچھلے ہفتہ نیدومنگد کے مقامی پولیس اسٹیشن پر مبینہ طور پر آر ایس ایس کارکنوں کے حملے کے بعد کی گئی۔یہ لوگ سبری مالا ایکشن کاؤنسل کے بینر تلے سبری مالا مندر میں دو خواتین کے داخلہ کی مخالفت میں ریاست میں مظاہرہ کر رہے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا ہے کہ آر ایس ایس کا ضلع کارکن پروین پولیس اسٹیشن پر بم سے حملہ کر رہا تھا۔ وہ اس واقعہ کو انجام دےکر وہاں سے بھاگ گیا۔ قریب ایک منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک شخص ہاتھ میں بم لےکر پولیس اسٹیشن پر بم پھینکتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی نظر آ رہے ہیں۔پولیس نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر آر ایس ایس کے دفتر پر چھاپےمارے۔ پولیس کو جانکاری ملی تھی کہ اسٹیشن پر حملہ کرنے کے بعد پروین آر ایس ایس کے دفتر میں چھپا ہوا ہے۔ چھاپےماری کے دوران پولیس نے چاقو اور خنجر بھی بر آمد کیا ہے۔ امر اجالا کی ایک خبر کے مطابق؛ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر چار آر ایس ایس کارکنوں کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ اس میں نورانند پروین بھی شامل ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے تین جنوری کو مظاہرہ کے دوران نیدومنگد پولیس اسٹیشن میں بم پھینکا تھا۔غور طلب ہے کہ پچھلے ہفتہ سبری مالا مندر میں کنک درگا (44) اور بندو (42) نام کی دو خواتین کے داخلہ کے بعد ریاست بھر میں تشدد آمیز مظاہرے ہوئے تھے۔ اس دوران پولیس نے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ درجنوں لوگ زخمی ہوئے تھے، جس میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اسی دوران 5 جنوری کو سی پی ایم ایم ایل اے اے این شمشیر، بی جے پی رہنما اور راجیہ سبھا رکن پارلیامان وی مرلی دھرن کے مکان اور سی پی ایم کے کنور ضلع کے سابق سکریٹری پی ششی تلاسیری کے گھروں سمیت کئی جگہوں پر بم پھینکے گئے تھے۔گزشتہ سال 28 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سبھی عمر کی خواتین کو مندر میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد سے کیرل میں مختلف ہندووادی تنظیم اور بی جے پی اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ بتا دیں کہ اس قدیم مندر میں 10 سال سے لےکر 50 سال تک کی عمر کی خواتین کا داخلہ ممنوع تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بھگوان ایپا برہمہ چاری ہیں اور چونکہ اس عمر کی خواتین کو ماہواری ہوتی ہے، جس سے مندر کا تقدس قائم نہیں رہ پائے گا۔(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here