میسور:11 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(محمد فرقان)علماء کرام ہی انبیاء عظام کے وارثین و جانشین ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے علماء کرام کو رسول اللہؐ کی نیابت و خلافت کیلئے منتخب فرمایا۔ لہٰذا علماء کرام اللہ تبارک و تعالیٰ کے منتخب کردہ بندے ہیں۔ اللہ نے انہیں نبیؐ کی جانشینی کیلئے منتخب کیا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم صدیقیہ، میسور میں اساتذہ و طلبائے مدرسہ کے درمیان خطاب کرتے ہوئے شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔شاہ ملت نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عصری تعلیمات کے مقابلے میں دینی تعلیم کو بڑی فضیلت اور مقام عطاء کی اور قرآن و حدیث سے وابستہ لوگوں کا مقام و مرتبہ دیگر کے مقابلے میں بلند و بالا کیا ہے ۔ مولانا نے فرمایا کہ علماء کرام کو امت کی رہبری کیلئے بھیجا گیا ہے۔نیز فرمایا کہ علماء ہی امت کے اصل رہبر ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ علماء کرام کو نبیؐ کی وراثت میں صرف امامت، موذنی، خطابت، درس و تدریس، وغیرہ ہی نہیں ملی بلکہ ان پر الزامات کا لگایا جانا، انکو گالیاں دیا جانا، انکو مارا جانا، جیلوں میں قید کیا جانا، انکو ہجرت کرنے پر مجبور کرنا یہ سب وراثت میں ملی ہیں۔نبیؐ کا راستہ حق کا راستہ ہے، اور حق کے راستے پر چلنے والوں پر امتحانات، آزمائش و حالات کا آنا طے ہے۔ کیونکہ کہ حق اور باطل کبھی یکجا نہیں ہوسکتے ۔ حق آتا ہی ہے باطل کو مٹانے کیلئے۔مولانا نے فرمایا کہ طلباء اس بات کی ذہن نشین فرمالیں۔ مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ علماء کرام پر حالات کا آنا قبولیت کی نشانی ہے۔ امتحان کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ اسکا پھل انکی عزت، عظمت، مقام و مرتبہ بلند کر دیتے ہیں۔ مولانا نے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ مستقل میں قوم کے رہبر بننے والے ہیں۔ لہٰذا آپ دین کی خدمت، اسلام کی سربلندی کیلئے علم حاصل کریں، نیز فرمایا کہ اگر کوئی پیسے کمانے کے ارادے سے تعلیم حاصل کررہا ہو تو وہ فوراً مدرسہ کو چھوڑ دے ، تاکہ دوسرے اسکا فائدہ اٹھا سکے۔ پیسے کمانے کے ہزاروں راستے ہیں۔ پیسے کمانے کیلئے نبی کا نائب بن نے کا ڈرامہ نہ کریں۔ قابل ذکر ہیکہ صدر جمعیۃ علماء ہند، جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کی عیادت کیلئے شاہ ملت میسور تشریف لائے تھے۔ شاہ ملت نے مجلس کے اختتام پر اپنے استاذ مولانا مدنی کی صحت و تندرستی کیلئے دعا کی اپیل کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here