05 جنوری2019(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)امریکی یوان نمائندگان میں آٹھ برس تک ریپبلکنز کے چھائے رہنے کے بعد اب پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیا ایوان امریکا کی تاریخ میں نسلی اور ثقافتی لحاظ سے سب سے زیادہ متنوع ہے جب کہ اس بار خواتین کی نمائندگی بھی ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹروئٹ سے تعلق رکھنے والی پہلی فلسطینی نژاد رکن پارلیمنٹ رشيدہ طليب نے اجلاس میں فلسطینی لباس پہن کر شرکت کی اور انہوں نے اپنا حلف قرآن کریم پر لیا۔رشیدہ کے فلسطینی لباس زیب تن کرنے کے باعث متعدد فلسطینی نژاد امریکی خواتین نے فلسطینی لباس پہن کر اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ایوان نمائندگان کی سب سے کم عمر رکن الگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز ہیں جن کی عمر 29 برس ہے۔ انہوں نے اپنے چاہنے والوں اور گھر والوں کے لیے انگلیوں سے دل کا نشان بنا کر محبتوں کا اظہار کیا۔ایوان نمائندگان کے اجلاس کے موقع پر نئے ارکان کے عزیز و اقارب، اولاد، اولاد کے بچے اور یہاں تک کہ شیرخوار ننھے پھول بھی موجود تھے۔کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ نینسی پلوسی نے دوسری مرتبہ ڈیموکریٹس کی اکثریت رکھنے والے ایوان میں اسپیکر کا عہدہ سنبھالا۔یاد رہے کہ نئی کانگریس کے سامنے پہلا چیلنج مرکزی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے فنڈنگ کا معاملہ ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس معاملے میں سب سے بڑی پیچیدگی جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے حوالے سے اختلاف میں پوشیدہ ہے۔امریکی صدر بضد ہیں کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کے لیے پانچ ارب ڈالر فراہم کیے جائیں جب کہ ڈیموکریٹس سرحد کی سکیورٹی کے واسطے ڈیڑھ ارب ڈالر پر اصرار کر رہے ہیں۔ یہ وہ ہی رقم ہے جو گزشتہ سال بھی منظور کی گئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here