متحدہ عرب امارات:31 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں بحرین کی حزب ِاختلاف کے ایک گروپ کے دفتر کے قیام پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ انھوں نے 14 فروری تحریک کو دفتر کھولنے کی اجازت دینے پر عراق کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس اقدام کو بحرین کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا ہے۔انھوں نے ایک ٹویٹ میں بحرین کے اتحاد ِنوجواناں برائے 14 فروری انقلاب کے نام سے معروف اس گروپ کا بغداد میں دفتر کھولنے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی ایک بُری مثال قائم ہوگی۔انھوں نے لکھا ہے کہ ہم اس گروپ کو مسترد کرنے کے معاملے میں بحرین کے ساتھ ہیں۔یہ گروپ تشدد کے ذریعے بحرین کی سلامتی کونقصان پہنچانا چاہتا ہے۔عرب اقوام کی خود مختاری کے احترام اور ان کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول کی پاسداری کی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ بحرین کی وزارت ِخارجہ نے منامہ میں عراقی سفارت خانے کے نائب ناظم الامور کو گذشتہ سوموار کو طلب کیا تھا اور ان سے عراق کے سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے ایک بیان پر سخت احتجاج کیا تھا اور اس کو اپنی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ملک کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا تھا۔ سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کے مطابق بحرین نے نوری المالکی کے بیان کو ملک کے داخلی امور میں ایک ننگی اور ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here