30 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)سوشل میڈیا پر متحرک سعودی خواتین چہرے کے نقاب کے حوالے سے # نقاب میری جوتی کے نیچے یا ” hashtag “the niqab under my foot بھی استعمال کر رہی ہیں۔ بعض خواتین نے اپنی ایسی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں، جن میں وہ اپنے چہرے کے نقاب کو لہراتی دکھائی دی گئی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ انہیں یہ جبراً پہننا پڑتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب میں ایسے کوئی ضوابط یا وفاقی قوانین موجود نہیں ہیں کہ جن سے یہ ظاہر ہو کہ خواتین کے لیے کس انداز کے پہناوے درست ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی پولیس اور عدلیہ خواتین کے لباس کو شریعت کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ سعودی عرب میں قرآنی شریعت، قانون کا سب سے اعلیٰ ماخذ قرار دیا جاتا ہے۔حالیہ ایام کے دوران سعودی خواتین نے خاص طور پر ٹویٹر پر اپنے ایسے واقعات بیان کیے ہیں، جن کے مطابق انہیں چہرے کے نقاب کو پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے اور بسا اوقات سخت رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان واقعات میں کئی خواتین نے چہرے کے نقاب کو پہننے کے عمل کو دم گھٹنے سے بھی تعبیر کیا ہے۔ کئی خواتین نے نقاب کے ساتھ ایک جملہ بھی تحریر کیا کہ اس کے وجہ سے زندگی تلخ ہو کر رہ گئی ہے۔دوسری جانب اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ سبھی سعودی خواتین نقاب پہننے کے خلاف جاری احتجاجی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ اس تناظر میں چہرے کے نقاب کو پسند کرنے والی اور اس کی حامی خواتین نے ان عورتوں کے خلاف # بے ادب یا hashtag “disrespectful” کی مہم بھی سوشل میڈیا پر جواباً شروع کر رکھی ہے۔سعودی خواتین کا ایک حلقہ نقاب کے ساتھ ساتھ عبایہ مخالف مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان خواتین کا موقف ہے کہ سعودی اخلاقی تقاضوں کی روشنی میں عبایہ سے ہٹ کر بھی لباس پہنا جا سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سن 2018 کے مہینے مارچ میں کہا تھا کہ خواتین نقاب یا عبایہ کے علاوہ دوسرے مناسب لباس پہننے کا فیصلہ خود سے کر سکتی ہیں۔ شہزادہ محمد کے اس بیان کے جواب میں سعودی عرب کی پولیس کا موقف ہے کہ ابھی کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ابھی تک اس چہرے کے نقاب کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری احتجاجی کمپین یا مہم کے حوالے سے سعودی حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here