ساگر :21دسمبر (سیدھی بات نیوز سرویس ) شہر بھٹکل سے تعلق رکھنے والے دینی و عصری علوم کے سنگم علی پبلک اسکول اور اس شاخیں گذرتے ایام کے ساتھ سماج اور اپنے اپنے علاقوں میں بہترین اسلامی نقش پیوست کرنے میں کامیاب ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان بھر میں اس وقت علی پبلک اسکول کے دوسو کے قریب شاخیں کھل چکی ہیں یا پھران کی تیاری چل رہی ہے۔ شیموگہ ضلع کے ساگر میں کل ٹھیک دس بجے کے قریب طلبہ و طالبات کی جانب سالانہ تقریب میں بہترین ثقافتی پروگرام میں پیش کئے گئے، جس کو عوام نے خوب سراہا، اس تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، اور مہمانِ خصوصی کے طور پر مولانا اظہرالدین ندوی مہتمم مدرسہ مدینۃ العلوم شکاری پور نے شرکت کرتے ہوئے والدین سے بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں خطاب کیا اور اپنے پر مغزخطاب میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کی تربیت دینی نقطہ نظر سے کرنے پر زور دیااور بانی علی پبلک اسکول مولاناالیاس ندوی بھٹکلی کی اس اسکول کی بنیاد کی اصل تحریک کو لوگوں سے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ دینی و اسلامی بنیادوں پر رکھ کر عصری علوم سے آراستہ کرنا ہی اسکول کے قیام کا مقصد ہے اور یہ پورے ملک میں اس طرح کے اسکولوں کے شاخوں کو پھیلانا ہی مولانا کا خواب ہے، خطاب کے بعد بچوں کے ثقافتی پروگراموں کا آغاز ہوا، طلبہ نے بہترین اندازمیں مختلف قسم کے مکالمے، اُردو ،انگریزی و عربی نشید و نظموں پر رنگارنگ ادارکاریوں کے علاوہ ، تقاریر اور دیگر پروگراموں کو پیش کیا،جس کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ اساتذہ نے نھنے منے طلباء پر خوب محنت کی تھی، اسلامیات میں کامیاب ہونے والے طلباء کو بھی انعامات سے نوازا گیا، علی پبلک اسکول کے ذمہدار، مولانا توفیق قاسمی اور ان کے ایک رفیق نے بہترین انداز میں نظامت کی او رشکریہ کے کلمات پیش کئے، انعامی تقریب میں شہر کے عمائد ین کو دعوت دی گئی گئی۔ شکریہ کے کلمات پر جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

 

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here