بنگلور: 17دسمبر (سیدھی بات نیوز سرویس ) شہر بنگلور کے بومن ہلی میں کل بعد نمازِ عصر مورخہ سولہ دسمبر کوصدائے اتحاد کرناٹک کے زیرِ اہتمام اور انجمن الانصار اور مسجد بلال چاریٹیبل ٹرسٹ ،منگم پالیہ کے زیرانتظام ایک عظیم الشان اجلاس بعنوان عظمتِ رسولﷺ ، اتحاد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں متہمم دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی اور مشہور ومعروف اسکالر ، سابق ممبر پارلیمنٹ جناب عبید اللہ خان اعظمی مہمانِ خصوصی، کے شرکت کی تو اوریہ اجلاس شمس العلماء سید شاہ حسن محمد شمس الحق الحسنی و الحسینی کے زیرِ صدارت منعقد کیا گیا تھا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد سفیان صاحب اتحاد پر روشنی ڈالی اور حسن اخلاق کو اپناتے ہوئے اور نماز کی ادائیگی کے ساتھ تمام عبادات کا مقصد رضائے الٰہی کو حاصل کرنا بتایا، احادیث اور قرآن کی آیتون کی روشنی میں بتایا کہ مرنے سے پہلے مرنے کی تیاری کرنا ہی ہر مسلمان کی فکر ہونی چاہئے، ان سے پہلے سابق ممبر پارلیمنٹ جناب عبید اللہ خان اعظمی اتحاد کی ضرورت کیوں ، اس پر روشنی ڈالتے ہوئے پرمغز خطاب کیا ،شاہ بانو کیس سمیت، تین طلاق اور بابری مسجد معاملہ مسلمانوں کے تمام مسالک و مشرب کے پیروکاروں کی اتحاد کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، کسی کے مسلک کو نہ چھیڑا جائے اور اپنے مسلک کو نہ چھوڑا جائے، اس پر قائم رہتے ہوئے، اتحاد کو قائم کریں، جہاں تمام مسالک کے لوگوں کی کسی مسئلہ میں اختلافات ہی نہیں تو وہاں اتحاد کیا معنیٰ رکھتاہے، اصل اتحاد تو اُس وقت نظر آتاہے ،اختلافات ہونے کے باوجود ایک نکتہ پر جمع ہوجائے، موصوف نے اپنے لمبے خطاب میں ملکِ کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ کس طرح دشمنانِ اسلام میڈیا میں آخر ہماری مسلکی اختلافات کو بڑھاوادے کر اپنا فائدہ اُٹھانا چاہتاہے، مگر اسکے باوجود مسلمان ہوش کے ناخن نہیں لے رہے، انہوں نے سبرامنیم سوامی کے ایک میڈیا کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ہمیں دشمن لڑانا چاہتاہے، اور سب کچھ دیکھ کر بھی آپس میں دست وگریباں ہیں، اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے اپنے اخلافات اپنے گھر اور مساجد تک محدود رکھیں ، جب عوامی پلیٹ فارم پر آئیں تو اختلافات کو نہ چھیڑا جائے۔ اس سے پہلے دہلی سے تشریف فرما جناب عسکری صاحب نے بہت ہی خوبصورت اندازہ میں اتحاد پر بیان دیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں حاضرین بہترین انداز میں سمجھاتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلہ کا حل قرآن میں موجود ہے، احادیث میں موجود ہے ، کیوں کر ہم بکھر رہے ہیں،انہوں نے عالم بھر میں مسلمان اور شیعہ کے مابین دوریاں پید اکرنے کی سازش کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ طاقتیں سنی ممالک کے پیچھے ہیں تو کچھ طاقتیں شیعی دنیا کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں تاکہ اور ایسے کچھ میڈیا کو پال رکھا ہے جو سنیوں کے خلاف بکواس کرتے ہیں، اور شیعوں کے خلاف بکواس کرتے ہیں، ایسے میں ہم لوگوں کی ذمہداری ہے کہ دشمن کے سازش کو سمجھیں اور اتحاد کو فروغ دیں، ملحوظ رہے کہ قاری مسعود صاحب کے تلاوت سے اس اجلاس کا آغاز ہوا، اور قاری شہباز نے نعت پیش کی ، اس موقع پر مفتی اسلم رشادی مہتمم غیث الہدیٰ، اورمولانا مقصود عمران رشادی صاحبان بھی اپن پرمغز خطابات سے سامعین کو جھنجوڑا۔ نظامت کے فرائض مفتی عبدالرحمٰن او رمفتی عمران صاحبان نے بخوبی انجام دئے اور اجلاس کو آخر تک بحسن و خوبی لے گئے، مجلس کے صدرمولانا شمس الحق شاہ قادری الحسنی والحسینی صاحب کے دعائیہ کلمات پر یہ اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا، عوام کا جم غفیر اس اجلاس میں شرکت کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here