عارف عزیز(بھوپال)

14 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)حالیہ اسمبلی الیکشن کے نتائج نے اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ عوام کو کچھ عرصہ تو وعدوں اور یقین دہانیوں سے باندھا جاسکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں ، یہ الیکشن پارلیمانی انتخابات سے عین پہلے ہوئے اس لئے ان کے نتیجوں نے سبھی سیاسی پارٹیوں کو کچھ نہ کچھ پیغام ضرور دیا ہے، جہانتک ملک میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کا تعلق ہے تو یہ بات واضح ہے کہ مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں اسے شدید صدمہ پہونچا ہے، ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی الیکشن اور اس کے بعد کئی اسمبلیوں کے الیکشن میں کامیابی کے ذریعہ بی جے پی نے اپنے لئے غیر مفتوح ہونے کا جو مقام حاصل کیا تھا، معمولی فرق سے ملی کامیابی کو یہانتک کہ گوا میں شکست کو وہ اپنے حق میں یکطرفہ عوامی فرمان بتانے میں کامیاب رہی تھی، لیکن پانچ ریاستی اسمبلیوں کے نتائج سے واضح ہے کہ اب فضا اس کے خلاف ہوگئی ہے۔ابتک بھارتیہ جنتا پارٹی وزیر اعظم نریندرمودی کے شخصی کرشمہ کے سہارے ایک کے بعد ایک الیکشن جیت رہی تھی ، لیکن کامیابی کا یہ سلسلہ اچانک ٹوٹ جانا، یہی ثابت کرتا ہے کہ وزیراعظم کے کرشمہ کے لئے آگے گنجائش نہیں ہے، ’’ہندوتوا‘‘ کا کارڈ جو وہ شروع سے آزما رہے تھے۔ ملک کو درپیش مسائل خاص طور پر نوٹ بندی ، جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ، کسانوں کی روز افزوں پریشانی، گائے کی حفاظت کے نام پر تشدد کی چھوٹ، عدلیہ اور دیگر آئینی اداروں پر گرفت کے آگے فیل ہوگیاہے عوام ساڑھے چار سال تک ان کے وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کرتے رہے، کم سمجھ ہندو ان کے مذہبی نعروں کے دھوکہ میں آتے رہے لیکن روز افزوں گرانی، بیکاری اور بدامنی نے انہیں حقیقت سے روبرو ہونے پر مجبو رکردیا۔سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ ووٹروں کو ہندی لسانی ریاستوں میں چھتیس گڈھ سے لے کر گجرات تک جو بی جے پی کی اصل طاقت رہی تھیں، اب کانگریس میں امید نظر آرہی ہے، اسے کانگریس کی واپسی ان معنوں میں کہا جاسکتا ہے کہ چھتیس گڈھ جیسی ریاست، جہاں کانگریس کی قیادت ہی ختم ہوگئی تھی، وہاں اسے یکطرفہ کامیابی ملی ہے، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں داخلی انتشار وتصادم سے ابھر کر اس نے اپنا زمینی ڈھانچہ دوبارہ کھڑا کرلیا ہے اس کامیابی سے یہ تصور بھی باطل ہوا ہے کہ کانگریس میں اب مودی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رہی، کانگریس کے صدر راہل گاندھی گزشتہ ایک سال میں مسلسل کسانوں، آدیواسیوں، دلتوں اور نوجوانوں کے مسائل اٹھاتے رہے اور مرکزی سرکار کی ناکامیوں پر عوام کو توجہ دلاتے رہے ہیں، کانگریس کے حق میں ظاہر ہوئی اس عوامی حمایت کو مستقبل کے قائد کی حیثیت سے راہل گاندھی کی قبولیت کی حیثیت سے بھی دیکھاجائے گا۔ حالانکہ ان کے آگے کا سفر اس پر انحصار کرے گاکہ کانگریس کی حکومتیں عوام کی توقعات پر کتنی کھری اترتی ہیں ، انہیں اس طرح کام کرنا ہوگا کہ پارٹی ان کی مثال آنے والے پارلیمانی الیکشن میں پیش کرسکے، اس کے علاوہ کانگریس کے ساتھ کبھی اقرار،کبھی انکار کے رشتے سے جڑی علاقائی پارٹیوں میں بھی راہل گاندھی کے بارے میں تذبذب کم ہوجائے، ایسا ہوا تو بھارتیہ جنتا پارٹی مخالف اتحاد کواستحکام ملے گا۔ دوسرا پہلویہ بھی پیش نظر رہے کہ تمام تر ناراضگی کے باوجود بی جے پی کے لئے صفایا ہوجانے والی صورت حال نظر نہیں آتی، دونوں ہندی لسانی ریاستوں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں اس نے کانگریس کا دوبد مقابلہ کیا ہے، ووٹروں کا پیغام یہی ہے کہ جو وعدے پارٹیاں کریں، وہ پورے بھی ہوں، جذباتی بالخصوص ہندوتوا کی ہوا نکلنا ان نتائج کا دوسرا پیغام ہے، عام انتخابات میں چار ماہ کا ہی وقت باقی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ برسراقتدار اور اپوزیشن دونوں ہی عوام سے قریب ہونے میں اس وقت کا کس طرح استعمال کرتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here