راحت علی صدیقی قاسمی

06 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ہمارے ملک کا اکثریتی طبقہ گائے کا عقیدت مند ہے، اس سے محبت رکھتا ہے، مذہبی عقیدے کے اعتبار سے گائے کو ماں کا درجہ دیتا ہے، اس کی پاکیزگی و تقدس کا قائل ہے، اس کو بہت اہم سمجھتا ہے، اسی کے پیش نظر ہمارے ملک میں گائے کاٹنا جرم ہے، چنانچہ وہ افراد جو گائیں کاٹتے ہیں، ان کو سخت ترین سزا دی جاتی ہے، جس کے باعث ملک میں گوکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے، اس کے باوجود ملک میں اب بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بسا اوقات اب بھی گائے کو کاٹا جاتا ہے، جس پر نام نہاد گورکشک لوگوں کی خبر لیتے ہیں، بھیڑ ٹوٹ پڑتی ہے، اور ملزموں کو جان تک سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے، جن میں بعض واقعات یقینی ہوتے ہیں، اور بسا اوقات ملک میں اس طرح کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں، جہاں محض گائے کا گوشت رکھنے کے شک میں ہی قتل کردیا گیا، اور گائیں لے جانے والے ڈرائیور تک کو بھی کو نہیں بخشا گیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس معاملہ کو لے کر گورکشک کس حدتک سنجیدہ ہیں، اور گوکشی ہمارے ملک میں جان پر کھیلنے کے مترادف ہے، پولیس سے پہلے عوام ہی اس کا فیصلہ کر ڈالتی ہے، جس کے باعث گوکشی کرنے والے افراد ہی نہیں بلکہ اقلیتی طبقہ کے اکثر افراد یقیناً سہم جاتے ہیں، کیا معلوم کب گائے کی حفاظت کادعوی کرنے والے ان پر قہر بن کر ٹوٹ پڑیں، عدلیہ بھی اس معاملہ میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو متنبہ کرچکا ہے، اس کے باوجود واقعات روکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، گائے کے تحفظ کے نام پر انسانوں کا قتل جاری ہے۔اسی قبیل کا ایک واقعہ قصبہ سیانہ کے گاؤں مہاو کے جنگل میں پیش آیا، پیر کو صبح مختلف ٹی وی چینلز پر یہ خبر نشر کی جارہی تھے کہ بلند شہر میں گوکشی کو لے کر بوال ہوگیا، حالات نازک ہیں، پولیس اور پی اے سی کو تعینات کیا گیا ہے، اور انتظامیہ حرکت میں ہے، ایک پولیس افسر سبودھ سنگھ کو بھیڑ نے قتل کرڈالا ہے، جس کے باعث ملک میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہورہا تھا، لوگ سہمے ہوئے تھے، افواہیں گردش کر رہی تھیں، اور لوگوں میں چہ می گوئیاں ہورہی تھیں کہ بلند شہر میں جاری عالمی اجتماع پر اس کا کوئی اثر تو نہیں ہوا ہے، لوگوں کو آنے میں پریشانیاں تو نہیں ہورہی ہیں، کیا وہاں سب خیریت سے ہیں یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہورہا تھا، حالانکہ بعض چینلز وضاحت بھی کر رہے تھے کہ اس کا اجتماع سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس کے باوجود بے چینی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، چونکہ بلندشہر میں کثیر تعداد میں مسلمان موجود تھے، اور اسی شہر کے تعلق سے خبریں موصول ہو رہی تھیں، جو تسلی بخش نہیں تھیں، جن خبروں سے ذہنوں میں خدشات جنم لے رہے تھے، چنانچہ جوں جوں وقت گذرا صورت حال آئینہ کے مثل ہوگئی، اور سارا معاملہ واضح ہو گیا، یہ حادثہ بلند شہر میں پیش نہیں آیا تھا، بلکہ ضلع بلندشہر کے قصبہ سیانہ جو وہاں سے تقریباً 30 کلومیٹر دوری پر واقع ہے، اس قصبہ کے ایک گاؤں مہاو میں پیش آیا، جہاں جنگل میں گائے کا گوشت ہڈیاں وغیرہ پائی گئیں، جن کو لے کر اکثریتی طبقہ کے لوگوں نے راستہ جام کر دیا، پولیس چوکی چنگراوٹھی میں توڑ پھوڑ کی، اس کے بعد پولیس کے ساتھ مقابلہ آرائی ہوئی، اس مقابلہ آرائی میں سبودھ سنگھ کے سر میں گولی لگنے کی وجہ سے موت ہوگئی اور احتجاج کر رہے ایک شخص کی بھی موت ہوگئی، جس سے علاقے میں ماحول کشیدہ ہوگیا، البتہ انتظامیہ نے محنت و مشقت سے حالات پر قابو پالیا، یہ واقعہ اپنے دامن میں بہت سے سوال رکھتا ہے، مہاو جس میں اکثریت جاٹوں کی ہے، وہاں گائے کاٹنے کی ہمت کون کرسکتا ہے؟ جنگل میں گائے کس نے اور کیوں کاٹی بہت بڑا سوال ہے؟ اس کے پیچھے کیا مقصد تھا؟ کیا یہ بہت بڑے حادثہ کی تمہید تھی؟ جس کو سبودھ سنگھ نے اپنا خون بہا کر روک لیا؟ اور نفرت پر محبت نے فتح حاصل کی، اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جب سارے مسلمان اجتماع میں شریک تھے، بلکہ پورے ملک سے لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اجتماع میں شریک ہورہے تھے، یہاں کون تھا جس نے اس خوفناک واردات کو انجام دیا؟ اور ملک کو نفرت کی آگ میں جلانے کی کوشش کی؟ یہ تو عین دعا کا وقت تھا، اور مسلمان رو رو ملک کی ترقی اور امن کی دعائیں مانگ رہے تھے، اس وقت گائے کے باقیات ملنا بہت سے سوالوں کو پیدا کرتا ہے، کیا یہ انہی افراد کام ہے جو احتجاج کر رہے تھے؟ کیا یہ ملک میں نفرت و تعصب کی آگ لگانے کی کوشش تھی؟ کیا یہ اجتماع کو ناکام بنانے کا منصوبہ تھا؟ کیا یہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کی تدبیر تھی؟بجرنگ دل کے سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا چکا ہے، چار افراد ہراست میں ہیں، یہ صورت حال ذہن میں مزید سوالات کو جنم دیتی ہے، اور اس واقعہ کے پس منظر و پیش منظر پر سوچنے کے لئے مجبور کرتی ہے، جس پیش منظر کو سبودھ سنگھ کی شہادت نے بدل دیا ہے، سوالات بہت ہیں لیکن حقائق کیا ہیں ؟ ابھی اس کا پورے طورے پر علم نہیں ہے، ریاستی حکومت کی ایجنسیاں اس سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے، امید ہے جلد ہی اس فساد کی جڑ تک پہنچا جائے گا، اس واقعہ کے مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے گی، وہ کوئی بھی ہوں اور کسی بھی طبقہ سے وابستہ ہوں، انہیں سزا دیا جانا اس ملک کی خوشگوار فضا کو باقی رکھنے کے لئے ضروری ہے، اس واقعہ نے ریاست کے لا اینڈ آرڈر پر بھی سوال کھڑا کردیا ہے، جہاں پولیس کے افراد محفوظ نہیں ہیں، وہاں عام آدمی کے تحفظ کا مسئلہ ذہنوں میں پیدا ہونا یقینی بات ہے، اس کے علاوہ ہمارے ملک کے نام نہاد گائے محافظوں کو بھی صبر سے کام لینا چاہیے، انہیں اپنے ملک کے قوانین پر یقین رکھنا چاہیے، اور قانون توڑنے سے گریز کرنا چاہیے، کیا انسانوں کا خون بہانا درست ہے؟ کیا مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے؟ کیا گائے کے نام پر انسانوں کا قتل کیا جانا انسانیت ہے؟ اس سلسلے میں گائے کی حفاظت کا علم بلند کرنے والے افراد کو سوچنا چاہیے، اور حکومت ہند کو اس بات خیال رکھنا چاہیے، کہ ان افراد کو باور کرایا جائے کہ اس طرح انسانیت کا قتل روا نہیں ہے، اور ہم قاتلوں کو سخت ترین سزا دیں گے،انہیں معاف نہیں کیا جائے گا، اب جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، یا جن کو مجرم خیال کیا جارہا ہے، ان کے جرم کو ثابت کریں، تحقیقات کی جائیں کہ وہ مجرم ہیں یا نہیں اگر وہ واقعتاً مجرم ہیں، تو انہیں سخت ترین سزا دی جائے، اور اس معاملے کا سچ جاننے کی حتی الامکان کوشش کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات ہمارے قلوب کو تکلیف میں مبتلا نہ کریں، اس کے علاوہ مذہبی پیشواؤں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ گائے کے محافظوں کو انسانیت کا سبق بھی پڑھائیں، اور انسانوں کی عظمت سے روشناس کرائیں، وزیر آعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیراعلی یوگی بھی اپنی تقریروں میں اس بات کو شامل کریں کہ گائے کے نام پر انسانوں کا قتل کیا جانا مذہبی اعتبار سے بھی ناپسندیدہ ہے، اگر ایسا ہوا تو ان واقعات میں بہت حدتک کمی آئے گی۔اس طرح کے مواقع پر میڈیا کو بھی خاص خیال رکھنا چاہئے، جب قریب میں عالمی اجتماع ہو رہا تھا، تو چینلز کو اپنی سرخیوں میں بلند شہر کو حاوی نہیں رکھنا چاہیے تھا اور سرخیاں اس طرح پر بنانی چاہئے تھیں کہ معاملہ واضح ہوجاتا اور ہر آدمی کو علم ہوجاتا کہ واقعہ بلندشہر میں نہیں، بلکہ اس سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں ہوا ہے، گاؤں کا نام ذکر کیا جاتا، جس سے لوگوں کے ذہن اجتماع کی طرف مائل ہی نا ہوتے اور قصبہ سیانہ کا ذکر کیا جاتا تو بھی بہتر تھا، خبر کو اتنا سنسنی خیز بنایا جانا اصولوں کے خلاف ہے کہ وہ خبر ہی باقی نہ رہے، بلکہ وہم پیدا کرنے کا سبب بن جائے، رپورٹس اس طرز پر ترتیب دینی اور پیش کی جانی چاہئیں کہ شکوک و شبہات ختم ہوجائیں، یہی ایک رپوٹر اور اینکر کی خصوصیت ہے، میڈیا کی عظمت اور فن صحافت کی آبرو کا خیال رکھنا اس شعبے سے متعلق ہر شخص کی ذمہ داری ہے، جمہوریت کا چوتھا ستون کمزور ہوا، تو جمہوریت کی خوبصورت عمارت بدرنگ ہوجائے گی۔سبودھ سنگھ کی شہادت نے یہ بھی واضح کر دیاکہ ملک کا کثیر طبقہ محبت و انسانیت کا حامی ہے، وہ مسلمانوں سے محبت کرتا ہے، انہیں اپنا بھائی خیال کرتا ہے، جس کی مزید تصدیق بلند شہر اور قرب و جوار کے غیر مسلموں کی محبت اور ضیافت سے ہوگئی، اجتماع میں شرکت کرنے والوں کی غیر مسلموں نے جس طرح ضیافت کی مسلمان اس کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے ہیں اور نمازیں ادا کرنے کے لیے ان کے لئے اپنے گھروں کے دوازے کھول دئے، حتی کہ مندر تک میں مسلمانوں کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی، اس سے ثابت ہوگیاکہ انسانیت کبھی نہیں مرسکتی، انسانیت کے دیوں کو جو نفرت کی آندھیاں بجھانا چاہتی ہیں، ہمیں ان آندھیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ محبت کی شمعیں روشن رکھنی ہوگی، انہی کی روشنی میں ہمارا ملک ترقی کے منازل طے کریگا،نفرت کی کھیتی کرنے والوں کو کبھی آب و دانہ نصیب نہیں ہوگا، جس طرح سبودھ سنگھ نے اپنے فریضہ کو انجام دیا، اس طرح ملک کے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی اور اسے بخوبی انجام دینا ہوگی، ہمیں ملک کو اس طرح کے حالات سے بچانے کے لئے آپسی محبت و تعلق کو برقرار رکھنا ہوگا اور حکومت کو نفرت پھیلانے والے افراد پر نکیل کسنی ہوگی،سیاسی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے تحفظ کو مقصدِاول بنانا ہوگا، ملک کے ہر شہری سے محبت کرنی ہوگی، ایسا ہوا تو ہندوستان پھر سے جنت نشان بنے گااور پھر سے لوگ اس کی محبت کی مثالیں پیش کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here