06 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پردہ اٹھانے کے لیے تحقیقات سلسلہ نتیجہ آنے تک جاری رہے گا۔وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں نیٹو کے وزراء خارجہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔2 اکتوبر کو سعودی عرب کے استنبول میں قونصل خانے میں قتل کئے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق سوالات کے جواب دیے ۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور رزلٹ آنے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اگر ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کروانے سے گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے امریکہ کی جانب سے ترکی کو دیے جانے والے ایف 35 جنگی طیاروں کی وصولی کے بارے میں جاری بحث مباحثہ کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ارجنٹائن میں جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں ایف-35 طیاروں کے معاملے پر بات چیت کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے خود ہی موضوع چھیڑتے ہوئے ترکی کے اس پروجیکٹ میں ایک اہم ایکٹر ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کو منسوخ نہیں کیا گیا ہے اور اس وقت کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔انہوں نے امریکہ کے شام سے متعلق خصوصی نمائندے جیمز جیفری کے آستانہ اجلاس میں شام کے آئینی کمیشن کے اراکین کا تعین نہ کرنے ذکر کرتے ہوئے اس سلسلے کے اختتام پذیر ہونے سے متعلق بیان پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا غیر مناسب بیان ہے، میرے خیال میں یہ جیفری کا اپنا بیان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیفری کے دورہ ترکی پر سب سے اہم ایجنڈا دریائے فرات کا مشرقی دہانہ تھا۔انہوں نے روس اور یوکرائن کے درمیان موجود کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ25 اکتوبر کو روس کی جانب سے یوکرائن کی کشتی پر قبضہ کرنے اور عملے کے افراد کو رہا نہ کرنے سے یہ مسئلہ ابھی تک الجھا ہوا ہے۔ اس علاقے میں روس یوکرائن ممالک کے عوام آباد ہیں۔آئندہ کسی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لئے دونوں ممالک کی نگرانی میں اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ترکی دونوں ممالک میں ثالث کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here