نئی دہلی:06 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع) نیوی نے انل امبانی کی کمپنی ریلائنس نیول انجینئرنگ لمیٹڈ(آر این ای ایل)کے ساتھ ہوئے ایک معاہدے کے تحت فراہمی میں ہوئی دیری کی وجہ سے کاروائی کی ہے۔ نیوی نے 2500 کروڑ روپے کے اس معاہدے میں آر این ای ایل کا بینک گارنٹی کو بھنا لیا ہے۔اس معاہدے کے تحت آر این ای ایل کے ذریعے نیوی کو 5 آف شور پیٹرول وہیکلس کی فراہمی کی جانی تھی،جس میں سے اب تک دو او پی وی ہی بحریہ کو دئے گئے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ دیری کے لئے بحریہ نے یہ کارروائی کی ہے۔ بحریہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس قرار کی جانچ‌کر رہی ہے۔سوموار کو سالانہ نیوی ڈے پر بحریہ چیف ایڈمرل سنیل لانبا ایک پریس کانفرنس میں تھے، جب ان سے ریلائنس کے ذریعے فراہمی میں کی گئی دیری کے بارے میں سوال کیا گیا۔اس پر انہوں نے کہا،آر این ای ایل کو کوئی ترجیح نہیں دی گئی ہے اس کی بینک گارنٹی کو بھنا لیا گیا ہے۔ اس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اس عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بینک گارنٹی عام طور پر کئی وجہوں جیسے کسی آرڈر میں دیری، اس کے منسوخ ہونے یا خراب مظاہرہ کی وجہ سے بھنائی جاتی ہیں، حالانکہ اس کی کئی دوسری وجہیں بھی ہو سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں بینک گارنٹی کی کل معاہدہ رقم کا 10 فیصد ہے، حالانکہ بحریہ کے ذریعے بینک گارنٹی کی رقم کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں گئی ہے۔ایڈمرل لانبا سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا کمپنی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے لئے کسی طرح کا دباؤ ڈالا گیا ہے، جس پر ایڈمرل لانبا نے کہا کہ یہ معاہدہ ابھی منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا اشارہ تھا کہ اس مدعے پر آخری فیصلہ حکومت کرے‌گی۔نیوی چیف کے بیان پر آر این ای ایل سے فوراً کوئی تبصرہ نہیں ملا ہے۔ دی وائر کی طرف سے اس بارے میں ریلائنس نیول کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا ہے، ان کا جواب آنے پر اسے خبر کو اپڈیٹ کیاجائے‌گا۔واضح ہوکہ نیوی کے لئے پانچ او پی وی کی فراہمی کا یہ معاہدہ بحریہ کے پی-21146پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ 2500 کروڑ روپے کا یہ اصل قرار Pipavav defence offshore engineering کو 2011 میں ملا تھا۔انل امبانی گروپ نے 2016 میں اس کمپنی پر اپنا حق حاصل کر لیا تھا۔ اصل معاہدے کے تحت پہلے او پی وی کی فراہمی 2015 کے شروع میں کی جانی تھی۔ حالانکہ، اس وقتِ مقررہ کو کئی بار بڑھایا جا چکا ہے۔جولائی 2017 میں کافی تکنیکی دیری کے بعد پہلے دو او پی وی بحریہ کو ملے۔ اس بارے میں اب تک کوئی جانکاری نہیں ہے کہ باقی کے 3 او پی وی کی فراہمی کب تک ہوگی۔پچھلے کئی مالی سہ ماہی میں آر این ای ایل کی مالی حالت پر سوال اٹھ چکے ہیں۔ ایڈمرل لانبا نے بھی یہ بتایا کہ کمپنی فی الحال کارپوریٹ قرض تشکیلِ نو کے عمل میں ہے۔مالی سال 2018 کی چوتھی سہ ماہی میں کمپنی کے ذریعے دکھائے گئے 409 کروڑ روپے کے نقصان کے بعد، اپریل 2018 میں کمپنی کے آزاد آڈیٹرس نے انل امبانی کی اس کمپنی کے  مسلسل چلتے رہنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے تھے۔ستمبر 2018 میں ختم ہوئی سہ ماہی میں اس نے کل 363.13 کروڑ روپے کا نقصان دکھایا ہے۔ نقصان کا یہ اعداد و شمار ستمبر 2017 میں 150.67 کروڑ روپے کا تھا۔پچھلے کچھ مہینوں میں کمپنی کچھ سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں کے ذریعے این پی اے ہوتے ہوتے بچی ہے،ساتھ ہی آئی ڈی بی آئی بینک جیسے عطیات کنندگان کے ذریعے دیوالیہ عدالتوں میں گھسیٹی جا چکی ہے۔پچھلے کافی وقت سے انل امبانی گروپ کی کئی کمپنیاں قرض اور عدالتوں کے گھیرے میں ہیں۔ گزشتہ اکتوبر میں سویڈن کی ٹیلی کام کمپنی ایرکسن نے انل امبانی کی رلائنس کمیونی کیشنس(آرکام)کے ذریعے بقایا نہ چکائے جانے پر ملک کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔کمپنی نے آرکام پر جان-بوجھ کر 550 کروڑ روپے کا بقایا نہ چکانے کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے انل امبانی اور آرکام کے افسروں کے ہندوستان چھوڑنے پر روک لگانے کی مانگ کی تھی۔وہیں انل امبانی کا ریلائنس ڈفینس 58،000 کروڑ روپے کے رافیل جیٹ لڑاکو ہوائی جہاز معاہدے کو لےکے تنازعات کے گھیرے میں ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر کمپنی کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ، کمپنی کے ساتھ ہی مودی حکومت بھی ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔(بشکریہ دی وائر)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here