نورانی مسجددرگاہ محلہ چکبالاپور کی پہلی منزل کی تعمیر کے آغاز پر مولانا محمد مقصود عمران رشادی کااظہار خیال

بنگلور : 05دسمبر (سیدھی بات نیوزسرویس )اللہ تعالیٰ کی محبت میں رونا اور آہیں بھر نا یہ عمل اللہ کو بہت پسند ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے ذریعہ کثرت سے رونے کی تر غیب دی حضرت ابو ہریرہؓ سے روا یت کر تے ہیں نبی پاک ﷺ نے فر مایاجہنم میں وہ آدمی دا خل نہیں ہو گا جو خوف خدا سے رو ئے یہاں تک کہ دودھ تھن میں لوٹ جا ئے ۔یعنی دودھ کا تھن میں جانا ناممکن ہے اسی طرح خوف خدا سے رونے والے کا دوزخ میں جانا بھی ناممکن ہے مذکورہ زرین خیالات کا اظہار بروز چہارشنبہ5 ڈسمبر ۲۰۱۸ ؁ ء کومسجد نورانی درگاہ محلہ چکبالاپورکی بالائی منزل کے سنگ بنیاد کے موقع پر بنگلور سٹی جامع مسجد کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے نیز آپ نے فر مایا نبی پاک ﷺ فر ما تے ہیں کہ کسی مؤمن بندہ کی آنکھوں سے ندامت اور خوف الہی کی وجہ سے آنسو نکل آ ئیں اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں تو اس چہرہ پر اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ حرام فر ما دیتے ہیں۔ شیخ شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری کا معمول تھا کہ ہمیشہ اپنے آنسو چہرے پر مل لیتے اور فر ما تے کہ میں نے حکیم الامت ؒ کو دیکھا کہ اپنے آنسو کو اسی طرح چہرے پر مل لیتے تھے اللہ کی طرف سے بنا ئی ہو ئی جنت بھی ہے جہنم بھی ہے برے اعمال پر جہنم کا فیصلہ اچھے اعمال پر جنت میں دا خلہ بڑے بڑے حکمران گذرے جنہوں نے اپنی حکومت کا غلط استعمال کیا دنیا ہی میں عذا ب الہی کے مستحق ہو گئے سلیمان بن عبد الملک کا جب انتقال ہوا لاش ہلنے لگی بیٹوں کے کہا ہمارا باپ زندہ ہے کہا نہیں بلکہ عذاب میں جلدی ہو رہی ہے چہرہ سیاہ پڑھ چکا ہے اس کے بر خلاف ایسے حکمران جنہوں نے انصاف کو سامنے رکھا اچھے عمال کئے جن میں ایک نام عمر بن عبد العزیز ؒ کا بھی آتا ہے اپنی حکومت کے مختصر عرصہ میں ایسی عدل وانصاف والی حکومت کی دنیا اس کی مثال پیش کر نے سے قاصر ہے دنیا والوں نے بھی دیکھ لیا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا تھا زید بن اسلمؒ کہتے ہیں کہ عمر بن عبد العزیز ؒ کی ایک چھوٹی صندوقچی تھی جس میں ٹاٹ کا لباس تھا اور طوق تھا ان کے گھر کے اندر ایک کمرہ تھا جس میں نماز پڑھا کر تے تھے اس کمرہ میں کو ئی دا خل نہ ہو تا تھا جب رات کا آخری حصّہ شروع ہوتا تو اس صندوقچی کو کھولتے اور ٹاٹ کا لباس پہنتے اور طوق اپنے گلے میں ڈالتے پھر صبح تک روتے رہتے اور اپنے رب سے دعا ئیں کر تے رہتے تھے جب صبح ہو جاتی تو صندوقچی کو بند کر دیتے۔
مولانا محمد مقصود عالم رشادیمدرس جامع العلوم نے فر مایا کہ اللہ کا فضل و احسان کے نورانی مسجد درگاہ محلہ کی کی تعمیر بھی ہو ئی آبادی بھی بڑھی جس کی وجہ سے دوسری منزل کی تعمیر کی ضرورت پڑی تو ذمہ داروں نے عادل احمد شریف صاحب کے تعاون سے بالائی منزل کی تعمیر کا بیڑہ اٹھا یا یہ اللہ کے ہاں قبولیت کی علامت ہے اور فر مایا کہ اسی پر بس نہ کریں اور آبادی کی فکر کریں نمازیوں سے تلاوت سے اپنی عبا دتوں کے ذریعہ سے جس کی وجہ سے جنت میں ایسی نعمتیں ملیں گی جو کانوں نے سنا بھی نہیں آنکھوں نے دیکھا بھی نہیں اور ہمارے خیالات سے با لا تر نعمتیں ہوں گی اس موقع پر مسجد عمارؓ ٹیانری روڈ کے امام مفتی مولانا نور اللہ رشادی نے عوام الناس کو اپنے قیمتی خطاب میں اپنی سوچ کو بدلنے اور اللہ سے ہونے کا یقین پیدا کر نے اور اللہ کے فیصلے پر را ضی رہنے کی طرف تو جہ مبذول کرا ئی اور آپ نے فر مایا کہ مال و دولت سب اللہ کی طرف آزمائش ہیں اللہ کسی کو دیکر آزماتا ہے اور کسی کو مصیبت میں مبتلا کر کے آزماتا ہے سب چیزوں میں اللہ ہی کی طرف رجوع ہو نا چاہئے آج ر امت مسلمہ افتراق وانتشار کا شکار ہو گئی آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان پھر سے مساجد کو اجتماعی زندگی کامرکز بنایں اور مساجد کو وہ مقام دیں جو انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا ہے تاکہ امت اپنا عروج رفتہ پھر سے حاصل کرسکے
الحاج عادل احمد شریف گلو ب انجینئر نگ کمپنی جنہوں نے مسجد کی نچلے حصہ تعمیر پوری اپنی نگرا نی و مکمل تو جہ کے ساتھ کی انہوں نے ایک اللہ والے کے تعاون سے پہلی منزل کی تعمیر کا بھی بیڑا اٹھا ہے بتلایا کہ انہوں نے اپنا حلال پیسہ لگا رہے ہیں ان کے حق میں دعا فر ما ئیں الحاج عادل احمد شریف کے بڑے بھا ئی الحاج خلیل احمد شریف نے نو جوانوں کے لئے اعلی اخلاق اختیار کر نے اور اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کی تر غیب دی علی الخصوص اپنے بڑوں اور بزرگوں اور والدین کی تعظیم و تکریم بجا لا نے اور ان کی با توں پر عمل پیرا نے اور ان کے تجربات سے فا ئدہ اٹھا نے تا کید کی
اس اجلاس کا آغازمسجد نورانی کے امام مولانا محمد طاہر کی قرأت اور حافظ محمد شہزاد کی نعت پاک سے ہوا مولانا مقصود عالم رشادی نے کلمات خیر مقدم پیش کئے اور نظامت کے فرائض انجام دئے حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی کی مستجاب دعاؤں کے ساتھ پہلی منزل کی تعمیر کا آغاز ہوا اجلاس مذکور میں علماء و عمائدین کے علاوہ ملی کونسل کے ذمہ داران مسجد نورانی دگارہ کے ذمہ داران وغیرہ شریک اجلاس رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here