حفیظ نعمانی

05 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو اپنے مزاج کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ وہ جب کرکٹ کے کھلاڑی تھے تو چھکے مارنے کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے تھے اس کے بعد جب کمنٹیٹر ہوئے تو دوسرے کے موزوں اور اپنے ناموزوں شعروں کی وجہ سے توجہ بٹورتے رہے۔ سیاست میں آئے تو کامرانی نے قدم چومے امرتسر کی سیٹ سے لڑے اور کامیاب ہوئے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے مودی جی نے ان کی امرتسر کی سیٹ لے کر ارون جیٹلی کو دے دی جو راجیہ سبھا کے ممبر تھے اور سدھو کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیا۔ دیکھا تو نہیں سنا ہے کہ شیر دوسروں کا مارا نہیں اپنا شکار کیا ہوا کھاتا ہے۔ سدھو نے بھی راجیہ سبھا کی رکنیت واپس کردی اور بی جے پی کو بھی چھوڑ دیا اس لئے راجیہ سبھا دوسروں کا مارا ہوا شکار ہے۔پنجاب کے صوبائی الیکشن آئے تو عام شہرت تھی کہ عام آدمی پارٹی جس کا پنجاب میں اچھا اثر ہے وہ سدھو کو وزیراعلیٰ بنادے گی لیکن بات بنی نہیں تو انہوں نے راہل گاندھی کا ہاتھ پکڑلیا اور جب کانگریس نے حکومت بنائی تو سدھو کو وزیر بنا دیا۔اسے اتفاق کہا جائے گا کہ پاکستان میں عمران خان کی پارٹی برسراقتدار آگئی تو حلف برداری کی تقریب میں انہوں نے ہندوستان کے وزیراعظم یا کسی دوسرے وزیر کے بجائے اپنے پرانے کرکٹ کے زمانہ کے دوستوں کو دعوت دی جن میں نوجوت سنگھ سدھو بھی تھے۔ ہونے والی بات کہ اور تو کوئی گیا نہیں سدھو اکیلے گئے اور ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ کوئی اچھے وقت میں اپنے مذہب کو نہ بھولے۔ سدھو نے اس محبت بھرے ماحول کو دنیا بھر کے سکھوں کے مذہبی جذبات کے لئے سب سے بڑا تحفہ بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے دوست وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ بابا گرونانک کے گرودوارہ تک آنے کے لئے ہندوستان کے بارڈر سے صرف چار کلومیٹر کا فاصلہ اس کوریڈور کو بغیر ویزے کے آنے جانے کی بات تقسیم کے فوراً بعد سے برابر ہورہی ہے۔ اب 550 واں جنم دن آنے والا ہے اگر یہ کام ہوجائے تو133 اور وہ کام جو کوئی نہ کرسکا سدھو نے کرالیا۔ اتنے اہم کام کے بعد اگر سدھو شکریہ ادا نہ کرتے تو ان کی شرافت پر بھی حرف آجاتا۔ غضب یہ ہوگیا کہ 28 نومبر کو جب پاکستان میں راستہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو سدھو کو ہندوستان کی حکومت کا نمائندہ مانا گیا اور یہ نہ بی جے پی کو ہضم ہورہا ہے نہ دوسروں کو جو وزیر گئے تھے۔لیکن اس کارنامہ نے سدھو کا قد بڑھا دیا اور راہل گاندھی نے فوراً فصل کاٹنے کے لئے سدھو کو راجستھان بھیجا جہاں سابق چیف الیکشن کمشنر کی مہربانی سے مدھیہ پردیش سے ایک ہفتہ کے بعد اس لئے الیکشن ہورہا ہے کہ ان کے آقا مودی جی اور ان کے مصاحب امت شاہ ہارتی ہوئی بازی کو جتانے کے لئے دس بیس ریلیاں اور کرلیں نیز دو چار سو کروڑ روپئے اور جتنی دارو بانٹ سکتے ہیں بانٹ کر الیکشن جیت لیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے پانچ صوبوں کے الیکشن جو تین دن میں ہوسکتے تھے ان کو 20 دن میں صرف اس لئے بانٹ دیا کہ ان کے آقا وزیراعظم ہر صوبہ کی ہر آبادی میں دل کی بھڑاس نکال لیں۔ نوجوت سنگھ سدھو جس کو امرتسر کی سیٹ چھین کر جیٹلی کو دینے کا زخم آج بھی یاد ہے اس نے تقریر کرتے وقت ڈاکٹر منموہن سنگھ کی نصیحت کے بجائے مودی جی کا جارحانہ انداز اپناتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ کانگریس نے ملک کو چار گاندھی دیئے اور بی جے پی نے تین مودی اور ساتوں کے نام بھی گنادیئے وزیراعظم مودی کے نام سے پہلے للت مودی اور نیرو مودی کے نام لینے سے جو ماحول بنانا چاہا وہ وہی انداز ہے جو مودی جی اور امت شاہ اپنائے ہوئے ہیں۔ سدھو نے کہا کہ پانچ برس سے وزیراعظم دنیا بھر میں گھوم گھوم کر صنعتکاروں کو نیوتہ دیتے گھوم رہے ہیں لیکن خود ان کو جب بلٹ ٹرین یاد آئی تو جاپان یاد آیا اور سردار پٹیل کی ہزاروں کروڑ میں مورتی بنوانا ہوئی تو چین یاد آیا اور اپنے ملک کے ماہروں کی قسمت میں وہی پکوڑے بنانا رہ گیا۔سدھو کے ساتھ گئے ہوئے دونوں مرکزی وزیروں اور ان کی پارٹی بی جے پی کو سدھو کا یہ کارنامہ ہضم نہیں ہورہا ہے لیکن پاکستان میں کھڑے ہوکر سدھو نے جو کہا ہے کہ جب بھی کوئی کرتار پور کا سفر نامہ یا تاریخ لکھے گا تو وہ ناممکن ہے کہ اسے عمران خان کی سیر چشمی نہ لکھے کہ 71 برس سے سب نے کوشش کی لیکن گیند اور بلّے کی دوستی نے وہ کردیا جو کوئی نہ کرسکا۔ عمران خان نے کشمیر کو مسئلہ بتایا ہمارے ملک کے باشمتیٔ منھ بنا رہے ہیں کہ انہوں نے کشمیر کا نام کیوں لیا۔ اور یہ نہیں سوچتے کہ عمران خان اس ملک کے وزیراعظم ہیں جہاں اظہر مسعود نام کا ایک دہشت گرد کہہ رہا ہے کہ اگر مسجد کی زمین پر رام مندر بنا تو تباہی مچا دوں گا۔ یہ ہم بھی جانتے ہیں کہ زبان سے کہنا آسان ہے اور کرنا چاہا تو ہندوستان گھس کر مارے گا لیکن اس کا خیال رہنا چاہئے کہ حافظ سعید اور اظہر مسعود دونوں صرف کشمیر کی لڑائی لڑرہے ہیں اور جس طرح ہندوستان کے عوام کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ مانتے ہیں اسی طرح پاکستان کا ہر مسلمان یہ مانتا ہے کہ کشمیر ایک مسئلہ ہے اور اس کا فیصلہ اقوام متحدہ کرے گا اور اٹل جی تسلیم کرچکے ہیں کہ اس مسئلہ پر بات ہوگی۔ اس لئے کسی کی زبان بند نہ کی جائے ہندوستان اپنا کام کررہا ہے الیکشن ہورہے ہیں لوک سبھا کے لئے جیت کر جانے والے دستور ہند کا حلف لیتے ہیں اور دستور کی بات کرتے ہیں۔ اور یہ اس کیلئے کافی ہے کہ وہ ہندوستان کو اپنا ملک مانتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here