05 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)بابری مسجد رام مندرتنازعہ میں مسلمان جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں۔ فرقہ پرستوں کی سازشوں کا ہرگزشکارنہ بنیں۔ ملک کے اصل مسائل پرپردہ ڈالنے کیلئے جذباتی مدعوں کواچھالاجارہاہے۔ ان خیالات کا اظہار بنگلورو میں علمائے کرناٹک کے تحت منعقدہ اجلاس میں علمائے کرام اورسرکردہ شخصیات نے کیا۔ “ملک کی موجودہ صورتحال اور ہماری ذمہ داریاں” کے موضوع کے تحت بنگلورو کے ٹینس پولین میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔علمائے کرناٹک کے بینرتلے اس اجلاس کا انعقاد سابق ریاستی وزیرآرروشن بیگ نے کیا۔ معروف عالم دین مولانا سجاد نعمانی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ مولانا نے کہا کہ مسلمانوں نے بابری مسجد اوررام مندرتنازعہ کی حقیقت کو نہیں سمجھا۔دراصل یہ معاملہ سیاسی تھا۔ ملک میں آنجہانی وزیراعظم وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کی سفارشات کونافذ کرتے ہوئے او بی سی یعنی دیگرپسماندہ طبقات کو ریزرویشن دیا۔ اس کے بعد سنگھ پریواراور بی جے پی نے او بی سی کو اپنی جانب کھینچنے کیلئے رام جنم بھومی تحریک شروع کی، لیکن مسلمان اِس سیاسی چال کو سمجھ نہیں پائے۔ اُس وقت کی مسلم قیادت بھی مناسب فیصلہ لینے میں ناکام رہی۔ اوبی سی اورسنگھ پریوارکے درمیان موجود مسئلہ فوراً ہندومسلم ایشوبن گیا۔مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ جب بھی ملک میں ہندومسلم کی بنیاد پر تحریکیں چلیں مسلمانوں کو ہی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان دلت، پچھڑے اورپسماندہ طبقات کے ساتھ اچھے روابط قائم کرتے فرقہ پرستی کی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ مولانا سجاد نعمانی نے کہاکہ ملک کےاصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک بارپھررام مندر کا معاملہاٹھایاجارہاہے۔ لیکن مسلمان فرقہ پرستی کی سیاست میں نہ اُلجھیں، صبر سے کام لیتے ہوئےعدالت کے فیصلہ کا انتظارکریں۔ اجلاس کے منتظم اورسابق ریاستی وزیرآرروشن بیگ نے کہا کہ مسلمان سیاسی اورسماجی طورپربیداررہیں۔ جوشیلی تقریروں، اشتعال انگیزبیانوں پرتوجہ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے قریب آتے ہی نئی نئی سیاسی چالیں، حربے استعمال کئے جائینگے لیکن مسلمان سیاسی شعوراورحکمت عملی کے تحت کام کریں، فرقہ پرست طاقتوں کو کوششوں کو کامیاب ہونے نہ دیں۔ اجلاس میں کرناٹک کے معروف عالم دین مولانا تنویرپیراں ہاشمی اورمولانا شبیرندوی اوردیگرعلمائے کرام نے شرکت کی۔علمائے کرام کے علاوہ دانشور، سیاسی اورسماجی شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ علمائے کرناٹک نےکہا کہ آنے والے دنوں میں مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے سیاسی شعورپیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ ملک کی سیکیولرفضا کومضبوط کرنے، ہندومسلم بھائی چارہ کو فروغ دینے، فرقہ پرستوں کی کوششوں کو ناکام بنانےکیلئےحکمت عملی تیار کی جائےگی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here