نبی ﷺ کی ذات زندگی کے ہر مر حلہ کے لئے اسوہ اور نمو نہ ہے :کیلنڈرپر نظر رکھنا انسان کو وقت اور معمولات کا پا بند بننے میں مدد کر تا ہے 

بنگلور : 17(سیدھی بات نیوزسرویس ) سید المرسلین رحمۃ للعالمین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس تما م نوع انسانی کے لئے ایک مکمل لا ئحہ عمل اور ضابطۂ حیات ہے آپ ﷺ ہی وہ فرد کامل ہیں جن میں اللہ رب العزت نے وہ تمام اوصاف جا گزیں کئے جو انسانی زندگی کے لئے مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں کیو نکہ آپ ﷺ اپنی قوم میں اپنے رفعت و کردار فا ضلانہ وشیریں اخلاق اور کریمانہ عادات کے سبب سب سے ممتاز تھے مزید یہ کہ نبی ﷺ سب سے زیادہ با مروت سب سے زیادہ خوش اخلاق سب سے زیادہ معزز ہمسا ئے سب سے بڑھ کر دور اندیش سب سے زیادہ راست گو سب سے زیادہ نرم پہلو سب سے بڑھ کر پابند عہد سب سے بڑے امانتدار تھے حتی کہ آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کا لقب ہی امین رکھ دیا تھا ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ نے آپ کی صداقت و دیانتداری کو دیکھ کر ہی آپ ﷺ سے نکاح کی تھی۔ آج بتاریخ ۱۶ نومبر۲۰۱۸ ؁ ء جامع مسجد سٹی میں نماز جمعہ سے قبل مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے فر مایا نیز آپ نے آج ہر طرف سامانِ دنیا کی ریل پیل ہے ہر کو ئی عیش کوشی کا متمنی ہر ایک دنیوی زندگی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کا آرزو مند ہے ہر شخص سامانِ عیش کا طلبگار ہر کو ئی دنیاوی آسائش میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کا آرزو مند امیر ہو کہ غریب بس اسی فکر دنیا میں عمر عزیز کٹ رہی ہے اور دن بدن دوسری دنیا کے قریب ہو رہے ہیں حالانکہ ایک مسلمان ہو نے کے نا طے ہم پر ذمہ داری ہے کہ ا سباب عیش و عشرت اختیار کر نے میں اپنے آقا سروردو عالم ﷺ کے طرز عمل کو اپنا ئیں نبی پاک ﷺ نے اسباب ووسائل کی وسعت پر قادر ہو تے ہو ئے بھی دنیوی عیش سے اعراض کیا بقدر زیست دنیا استعمال کر کے اہل دنیا کے لئے انمٹ نقوش ثبت کر گئے جن میں اہل دنیا کے لئے راہ عمل ہے جسے اپنا کر ایک مسلمان اپنی اخروی زندگی سدھار سکتا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت النبی ﷺ کے پہلوؤں کو اجاگر کریں ان واقعات کو عملہ تحریک کا ذریعہ بنائیں جب زندگی حالات سے دو چار ہو تو ان واقعات کے استحضار سے اپنے قلب و دماغ کو صبر و شکر کا عادی بنا ئیں ویسے تو آپ ﷺ کی کل زندگی ہی روشن ابواب پر مشتمل ہے انہی میں آپ کی ایک زندگی کا پہلو زاہدانہ ہے آپ ﷺ نے زہد اختیار ی ہے اس میں اعتدال ہے آپ ﷺ کی مُسرفانہ زندگی سے بیزار ہے اس میں قلب و زبان صبر و شکر کا لبادہ اوڑھے ہو ئے ہے ہمارے لئے یہی اسوہ ہے جب انسان راحت کا عادی ہو جا ئے تو اس پر مجاہدہ بہت ہی شاق گذرتا ہے مشقت کو جھیلنا بڑا گراں گذرتا ہے جس کی بنا پر مصائب میں الجھ کر مسکرانا اس کے لئے دشوار مر حلہ ہوتا ہے راحت جسمانی کے لئے ایک بچھونا و بستر بھی ہے آپ ﷺ کے بچھونے کی کیفیت بتاتے ہو ئے ابن مسعودؓ فر ما تے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایسی چٹا ئی پر آرام کیا جس سے نبی پاک ﷺ کے جسم مبارک پر کچھ نشانات پڑھ گئے ابن مسعودؓ کو رہا نہ گیا وہ بول پڑے کہ اگر آپ ﷺ اجازت دیں تو میں نرم چٹا ئی بچھادوں آپ ﷺ نے فر ما یا میرے لئے دنیا کی کیا ضرورت میری اور دنیا کی مثال ایک مسا فر کی طرح ہے مولانا مناظر حسن گیلانی ؒ کا قول بڑے نرالے اندازنقل کیا کہ بتایا کہ خاک کے فرش کے سوا جس کے پاس کو ئی فرش نہ تھا وہ اگر خاک پے سو یا تو کیا خاک سویا ، جو تخت پر سو سکتا تھا وہ مٹی پر سو یا تو اس کا سو نا ایسا خالص سو نا جس میں کو ئی کھوٹ نہیں لباس میں کسی سادگی دنیا مثال پیش نہیں کر سکتی نبی پاک ﷺ کو قمیص کپڑوں میں زیادہ پسند تھی حضرت عا ئشہؓ نے ابو بر دہ ؓ کو ایک موٹا سا جبہ اور ایک موٹا سا ازار نکال کر بتایا کہ اور اس بات کی نشا ندہی کی کہ یہی وہ دونوں کپڑے ہیں جن میں نبی پاک ﷺ اس دنیا سے پر دہ فر ما گئے تکلفات سے احتراز کی بنیاد پر آپ ﷺ عمدہ سے عمدہ لباس سے دور تھے ایک صحابی نے ایک عمدہ لباس عطا کیا جس میں آپ ﷺ نے نماز ادا کی اور نماز کے فوراً بعد اسے اتارا اور لوٹا دیا دوسرا لباس زیب تن فر مایا اور ارشاد فر مایا کہ لے جاؤ اس سے میری نماز میں خلل واقع ہوا
ظاہری طور پر جسم انسانی کی بقاء کا ذریعہ غذا ہے لیکن وہی غذا انسان کے لئے مفید ہے جو بندگی پر قائم رکھنے کا سبب بنے اصل مقصود اطاعت اور بندگی ہے جب مقصود اصلی سے صرف نظر کر کے غذا کے لئے دوڑ ڈھوپ ہو گی تو ظاہر ہے اس میں حر مت و حلت کے پہلو کو بھی نظر انداز کیا جا ئے گا یہ غذا انسان کے لئے مفید ہو نے کے بجا ئے مضر ہو گی نبی پاک ﷺ کھانے میں بڑا احتیاط کر تے تھے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نبی پاک ﷺ کے طعام کی کیفیت بیان کر تے ہو ئے کیفیت بتا ئی کہ عموما جو کی روٹی اور سر کہ کا استعمال کر تے اور دعا بھی فر ماتے اے اللہ آ محمد کے رزق کو بقدر زیست بنا جبکہ نبی ﷺ کے لئے پہاڑوں کو سونا بنانے کی پیش کش کی گئی تو نبی ﷺ نے فر مایا اے خدا میں تو یہ پسند کر تا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں ایک دن بھو کا رہوں تا کہ جب کھاؤں تو شکر ادا کروں جب بھو کا رہوں تو آپ کی جانب گریہ زاری کروں نبی پاک ﷺ کے اسی طرز عمل و تر بیت کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ کرامؓ بھی اسی طرز عمل کو اپنانے کے لئے کو شاں رہتے ۔جامع العلوم گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے دیدہ زیب اور خوبصورت کیلنڈر 2019 ؁ ء کا جامع العلوم جامع مسجد سٹی کے صدر الحاج علیم اللہ خان مشتاق اور سکریٹری الحاج سید نور الامین انور کے ہاتھوں اجراء کا عمل میں آیا مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی نے بتایا کہ جامع مسجد و مسلم چاریٹیبل فنڈ ٹرسٹ بنگلور سٹی کی در خواست پر IMA کونسل کی جانب سے جامع العلوم جامع مسجد کے لئے دوہزار کیلنڈر مہیا کرا ئے گئے جس پر مولانا IMA کے سر براہ عالیجناب منصور احمد خان صاحب کا ٹرسٹ کی جانب سے شکریہ ادا کیا اس موقع پر جامع مسجد سٹی کے امام و خطیب حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی الحاج سی یم علیم اللہ خان مشتاق صدر جامع العلوم جامع مسجد سکریٹری الحاج سید نو ر الامین انور نائب صدر الحاج ڈاکٹر ظہیر الدین نائب سکریٹری الحاج سید عبد الغفورخازن الحاج عطار سید مرتضیٰ حسین عرف غفران انٹرنل آڈیٹر عبد العظیم اڈوکیٹ معین عبند الکریم ٹرسٹی جے شفیع اللہ ٹرسٹی سید اسلم ٹرسٹی مشیر احمد خان ٹرسٹی نثار احمد مالک گلستان الیکٹریکلس شیوا جی نگر وغیرہ حاضر تھے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here