بیدر:17 نومبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(محمدامین نوازبیدر)اردو زبان کو سکھانے کے مراکز ہر ایک ضلع میں قائم کئے جائیں گے ۔اس بات کا اعلان یہاں اردو تعلیمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کرناٹکا اردو اکادمی کے چیر مین مبین منور نے کہا۔ا دارہ تحریکِ اردو ادب ، یس آئی او، ادارہ ادب اسلامی کے ساتھ اکادمی نے مل کر یہ اجلاس منعقد کیا تھا ۔ جس میں ضلع کے چھ سو سے زائد اردو معلم و معلمات کے علاوہ دیگر اردو دانوں نے حصہ لیا ۔ انہوں نے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اردو کے خادم نہیں بلکہ سپاہی ہیں۔ اردو آپ کا اوڑھنا بچھونا اور تکیہ ہے ۔ اگر آپ محنت کریں تو اردو دنیا میں ایک نیا انقلاب آجائیگا ۔ اردو آپ سے سر فراز ہو جائے گی ۔ اسلام کے بارے میں دین کے بارے میں بچوں کو سکھائیں۔ آپ کے سکھلائے ہوئے علم کی وجہ سے ہزاروں بچے زندگی بھر آپ کو دعائیں دیں گے ۔ اردو کومٹانے کے لئے حکومتوں نے کئی منصوبے بنائے لیکن اردو ختم نہیں ہوئی ۔ ہندوستان کی آزادی میں اردو زبان کا بہت بڑا حصہ رہا ہے ۔ آج اردو کی حفاظت میں بڑا حصہ مدارس کا ہے ۔ ان عربی مدارس میں اردو زبان ایک اہم ترین رول نبھارہی ہے، اور عربی مدارس کے معلم حضرات جو مساجد میں بچوں کو صبح شام تعلیم دیتے ہیں اور جو معلم حضرات بچوں کو گھر گھر جاکر عربی کی تعلیم دیتے ہیں ان سے عاجزان درخواست کی کہ طلباء و طالبات کو کم سے کم اتنی اردو سکھا دیں کے وہ قرآن مجید کو معنی کے ساتھ پڑھ سکیں جس سے ان کی دنیا اور دین دونوں سنور جائیں۔ مبین منور صاحب نے شرکاء سے ایک دعا کا حوالہ دیتے ہوئے اللھم اغفرلی ولوالدی والا استاذوالمومنین والمومنات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استاذکا درجہ ماں باپ کے بعد آتا ہے اور یہ بچے انکی حیات تک یہ دعائیں مانگتے رہینگے اور آپ کے درجات کو بلند فرماتے رہنیگے۔ ان ننھی کلیوں کو پھلنے پھولنے دیجیئے تاکہ انکی خوشبو سے زمانہ معطر ہوتا رہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم ایل اے شفیع احمد نے کہا اردوہماری اپنی زبان ہے ہم ہی اس کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔ اردو میں ہمارا بہت بڑا دینی سرمایہ ہے ۔ آج بھی ملک کے پارلیمان میں اکثر ممبران اردو ہی میں تقریر کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کھر گے نے اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کی ۔ اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے رینک نذیر احمد نے خلائی سائنسدان کی حیثیت سے دنیا بھر میں نام کمایا۔کئی ایجادات کیں ہمیں چاہئے کہ ہمارے بچوں کو کم از کم گھر میں ہی اردو سکھائیں۔ اکادمی کے ممبر ناطق علی پوری نے کہا اردو زبان کی موجودہ حالت کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ اب ہم ہی اسے بچا سکتے ہیں۔شفیق عابدی نے کہا زبان کو تجارت نہ بنائیں، عبادت بنائیں۔ ایک فکری انقلاب اپنے آپ میں پیدا کریں۔ مائیں یہ فکری انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔ ماہر تعلیم تنویر احمد نے تعلیمی نظام پر بصیرت افروز تقریر کی اور کہا کہ جو بچے ذہین ہوتے ہیں ان کو ذہن سازی ضروری ہے۔ پیچھے رہ جانے والے طلباء کی بھی اچھی رہنمائی ہونی چاہئیے۔ اجلاس میں تحریک اردو ادب کے صدر تاج الدین شریف نے اچھے اساتذہ کی ستائش کیلئے ان کی ہمت افزائی کے لئے انہیں اسٹیج پر بٹھایا اور چیرمین مبین منور و دیگر مہمانوں کے ذریعہ گلپوشی کی اور یادگار تحفہ دیا ۔ اجلاس کی نظامت امتیاز عمری نے کی۔ تاج الدین شریف نے سلیقہ سے اجلاس کا اہتمام کیا، اس کی ستائش سب نے کی ۔ اجلاس میں ڈی ڈی پی آئی اور بی ای او نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور DDPI کو ایک میمورننڈم بھی دیا گیا جس میں تقریباً 83نوکریاں بھرتی کرنے کی ، کتابوں کو وقت پر مہیا کرنے کی، کارنجی پروگرام کو اُردو مدارس کے لئے الگ کرنے کی درخواست کی۔ مبین منور اس حوالہ سے بھی DDPI کو کہا کہ نوکریاں بھرتی کرنے کے لئے اساتذہ کی ضرورت ہے تو وہ اُردو اخباروں میں اشتہار دیں۔مدارس لی سالانہ کتابوں کی وقت پر فراہمی پر مبین منور نے کہا کہ اس ضمن میں وہ محترمہ زہرہ جبین صاحبہ سے بات کرچکے ہیں اور محترمہ نے یقین دلایا کہ اس بار کتابیں وقت پر فراہم کی جائینگی۔تاج الدین شریف کے شکریہ کے ساتھ کانفرنس اختتام کو پہنچا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here