حکیم سراج الدین ہاشمی

08 نومبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)جس طرح اسمبلی الیکشن قریب آرہے ہیں، اسی طرح ملک کے عوام اور سیاسی جماعتوں کے لیڈران بی جے پی حکومت سے بیزار ہوتے جارہے ہیں اور ایسا صاف طور پر محسوس ہورہا ہے کہ اب ملک کے ووٹرز بی جے پی سے ہٹتے جارہے ہیں یعنی وہ ووٹرز جو پہلے بی جے پی کے حق میں تھے اور حکومت قائم کرنے کے بھی حق میں تھے کہ حکومت بی جے پی کی ہونی چاہیے؛ لیکن جب بی جے پی اقتدار مین آئی تو ان ووٹرز کو صرف پریشانیاں اور مشکلات کے علاوہ کچھ نہیں ملا، لہٰذا وہ ووٹرز اب بدل رہے ہیں، ان کے بدلنے کی وجہ یہ ہی ہے کہ جس طرح ملک میں چاروں طرف رافیل سودے کی ہاہاکار ہے اور اس ہاہاکار میں اب حقیقت نظر آرہی ہے تو ووٹرز بدلنے شروع ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ان ووٹرز کے بدلنے کی صرف ایک وجہ رافیل ہی نہیں ہے بلکہ دیگروجوہات بھی ہیں یعنی ملک اب کئی سال پیچھے ہوگیا اور ترقی تو درکنار جو کچھ پہلے سیتگرقی رہی وہ بھی تنزلی میں تبدیل ہورہی ہے۔اسی روشنی میں سیاسی لیڈران بھی اپنے اپنے سیاسی رُخ بدلتے ہوئے ان جماعتون سے الگ ہورہے ہیں جن سیاسی جماعتوں کا رجحان اس وقت رافیل سودہ ایک گھٹالہ ہوتے ہوئے بھی بی جے پی حکومت کی جانب ہے یعنی این.سی.پی. سے تعلق رکھنے والے اور بہار کے کٹیہار سے پانچ مرتبہ ایم.پی. منتخب ہونے والے طارق انور اس مذکورہ سیاسی جماعت جو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں کیونکہ طابق کو یہ قطعی گوارہ نہیں ہوا کہ ان کی پارٹی اس طرح کا کھلا سودا رافیل جو صاف گھٹالہ محسوس ہورہا ہے ان کی جماعت بی جے پی حکومت کی جانب رُخ کئے ہوئے ہے، اس طرح طارق انور اپنے ضمیر کی آواز، حالاکہ وہ پہلے کانگریش کے سینئر لیدر تھے؛ لیکنکچھ وجوہ سے کانگری چھوڑ دی تھی؛ لیکن اب انیس سال بعد پھر کانگرس میں شامل ہوگئے ہیں، اور ان کا یہ قدم وقت کی پکار ہے اور اس روشنی میں قابل ستائش ہے، اسی طرح وہ سیاسی جماعتیں جو ملک کے حالات کو بدترین صورت میں دیکھ رہی ہیں، ان جماعتوں کے لیڈران بھی اجلدازجلد کانگریس میں شامل ہوں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here