عارف عزیز(بھوپال)

08 نومبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)ہندوستانی وزارت داخلہ کی مردم شماری کے نتائج سے باخبر رکھنے والے ادارے نیشنل اسٹیٹسٹک ڈپارٹمنٹ کے مطابق ہندوستان میں پڑھے لکھے بھکاریوں کی تعداد پونے چار لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ گداگروں میں سیکڑوں گریجویٹ اور ماسٹر ڈگری ہولڈر بھی ہیں جو بھیک مانگ کر لکھ پتی بن چکے ہیں۔ ان میں ۶۰ فیصد کو ہندی اور مقامی زبانوں کے علاوہ انگریزی پر مکمل عبور حاصل ہے۔ تعلیم یافتہ بھکاریوں میں ۲۷ فیصد عورتیں ہیں۔ جبکہ بعض پڑھے لکھے بھکاریوں کی یومیہ ’’کمائی‘‘ چار سے پانچ ہزار روپئے تک ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مذہبی مقامات اور سیاحتی مراکز ہاتھ پھیلانے والوں کے لئے سونے کی کان بن چکے ہیں۔ دوسری جانب پولس کئی بار اِن فقیروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرچکی ہے، تاہم یہ آپریشن ہمیشہ ناکام ثابت ہوئے ہیں۔نیشنل اسٹیٹسٹک ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری میں تقریباً تین لاکھ ۷۵ ہزار شہریوں نے اپنا پیشہ گداگری لکھوایا اور اس پر فخر کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھکاری بننے کا پروگرام اسی وقت ان کے ذہن میں آگیا تھا جب وہ اسکول کی تعلیم مکمل کر رہے تھے۔ ۲۱ فیصد گداگروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھیک مانگنے کا فیصلہ انٹر کرنے کے بعد کیا۔ ماہر سماجیات گورنگ جانی کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بے روزگاری کے سبب ہے۔ لیکن ایک این جی او، مانو سادھنا سے منسلک سماجی ورکر بیرن جوشی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری کا یہ اثر ضرور ہے لیکن تعلیم یافتہ بھکاریوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ کام چور ہیں اور حرام خوری کا شکار ہیں۔ اسی لئے محنت کرنے سے گریز کرتے ہوئے آسان کام کر رہے ہیں۔ یعنی ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ اخبار ’آنند بازار پتریکا‘ کے مطابق ملکی قانون اور آئین میں بھیک مانگنا اور بھیک دینا دونوں قابل دست اندازی پولس ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ دھندا تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ جس کو کوئی کام نہیں کرنا ہوتا وہ ہاتھ پھیلا کر بازار میں آجاتا ہے۔ اس حوالے سے مذہبی و سیاحتی مقامات گداگری کے مرکز بن چکے ہیں۔ سماجی کارکن انیل بسواس کا کہنا ہے کہ حکومت نے بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کے لئے کئی اسکیمیں اور پلان تیار بنائے ہیں، لیکن اُن کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آسکے۔ مردم شماری کے شعبے میں کام کرنے والے ایک افسر اندر کمار ملہوترا کا کہنا ہے کہ ۳۷۰ بھکاریوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس انجینئرنگ اور اسکل ڈیولپمنٹ کا تین سالہ ڈپلومہ بھی ہے۔ جبکہ ۲۱ فیصد بھکاریوں نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے انٹرمیڈیٹ یا سینئر سیکنڈری سرٹیفکیٹ کا امتحان پاس کیا ہوا اور اِس کی سند بھی اُن کے پاس موجود ہے۔ اسی طرح ۴۱۰ بھکاریوں نے بتایا کہ انہوں نے پوسٹ گریجویشن کیا ہوا ہے۔ جبکہ ۱۷۰ بھکاریوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس بیچلر آف انجینئرنگ کی ڈگری موجود ہے۔ ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی ہوا ہے کہ اترپردیش کا ایک گداگر خود کو ڈاکٹر آف فلاسفی بھی بتا رہا ہے، یعنی اس بھکاری نے پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ آگرہ میں تاج محل کے اطراف بھیک مانگنے والے آلوک کمار کا دعویٰ ہے کہ وہ انٹر پاس ہے اور اس سے قبل ہریانہ میں ایک اسٹور پر کام کرتا تھا، لیکن اس کو دن بھر کی محنت کے بعد محض ۱۲۰ روپئے ملتے تھے۔ چنانچہ آلوک کمار نے ہریانہ چھوڑنے اور آگرہ جاکر بھیک مانگنے کا پیشہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ ہی عرصہ میں آلوک کمار کے پاس رقم کی ریل پیل ہونے لگی۔ میڈیا کے مطابق تعلیم یافتہ بھکاریوں میں مہاراشٹرا ریاست پہلے نمبر پر ہے۔ جبکہ آسام، بہار اور اترپردیش دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ آندھرا پردیش، کرناٹک اور تامل ناڈو میں سب سے زیادہ گریجویٹ یعنی ۵۴۰ بھکاری ہیں۔ ’گجرات سماچار‘ اخبار کا کہنا ہے کہ احمد آباد کے بھدرکالی مندر کے اطراف بھیک مانگنے والے ہٹے کٹے دنیش گوڑا بھائی نے فخریہ انداز میں بتایا ہے کہ وہ ایک پروفیشنل ڈسپنسر اور وراڈ بوائے ہے۔ جب اس سے استفسار کیا گیا کہ اسے بھیک مانگنے کی کیا ضرورت پیش آئی تو دنیش کا کہنا تھا کہ وہ چند سال قبل ایک اسپتال میں کام کر رہا تھا لیکن اِس کی تنخواہ صرف تین ہزار روپئے تھی اور کام بھی بارہ گھنٹے کا تھا۔ اس پر اس نے بھیک مانگنے کا پیشہ اختیار کیا۔ پڑھے لکھے بھکاریوں میں سے بعض یقیناًمناسب کام نہ ملنے کی وجہ سے یہ کام کر رہے ہیں، لیکن اِن میں ایسے فقیروں کی تعداد کافی ہے جو محض تن آسانی کے لئے بھیک مانگ رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here