دمشق:08 نومبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)اقوام متحدہ نے دمشق کے نواح میں واقع الیرموک کیمپ میں فلسطینی مہاجرین کو واپسی کی اجازت دینے پر شامی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔شامی فورسز نے مئی میں دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی مہاجرین کے کیمپ سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا لیکن اس کے بعد سے شامی حکومت نے وہاں قبل از جنگ مقیم ہزاروں فلسطینیوں کو واپسی کی اجازت نہیں دی تھی۔شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے تمام فلسطینی مہاجرین کی کیمپ میں واپسی کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے ۔ تاہم انھوں نےا س کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے لیے بحالی اور امداد کا کام کرنے والی ایجنسی اُنروا نے شامی حکومت کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ اُنروا کے ترجمان کرسٹوفر گننس کے بہ قول یرموک کیمپ میں مارچ 2011ء میں شام میں خانہ جنگی چھڑنے سے قبل قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی مقیم تھے۔ان میں سے بہت سے برسرروزگار تھے لیکن گذشتہ سات سال کے دوران کیمپ میں مختلف جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد وہاں سے ہزاروں فلسطینی دوسرے مقامات کی جانب چلے گئے تھے اور ان تک اُنروا کی رسائی نہیں رہی تھی۔ترجمان گننس کا کہنا تھا کہ کیمپ شامی فوج اور داعش کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں تباہ ہوچکا ہے اور اس وقت وہاں چند سو خاندان ہی مقیم ہیں۔یرموک کیمپ میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اور باغی جنگجو گروپوں کے درمیان متعدد مرتبہ لڑائی ہوئی تھی۔داعش، القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی جنگجو گروپوں نے اس کیمپ پر قبضے کے لیے متعدد مرتبہ یلغاریں کی تھیں۔شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں کیمپ کے مکین کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہوگئے تھے اور جنگ کے ان دونوں فریقوں نے اس کیمپ کا ایک سال سے زیادہ عرصے تک محاصرہ کیے رکھا تھا ۔النصرۃ محاذ اور شامی فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیمپ کے مکینوں کو کئی کئی دن تک ایک وقت کا بھی کھانا نہیں مل سکا تھا اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے تھے۔یادرہے کہ یرموک کیمپ فلسطینی علاقوں پر صہیونی ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو آباد کرنے کے لیے 1957ء میں قائم کیا گیا تھا۔پہلے یہاں عارضی خیمے لگائے گئے تھے لیکن اس کے بعد پختہ عمارتیں تعمیر کردی گئی تھیں اور یہاں اُنروا کے زیر اہتمام سولہ اسکول قائم تھے۔یرموک کیمپ میں مارچ 2011ء سے قبل شام میں آباد تمام فلسطینی مہاجرین میں سے 30 فی صد رہ رہے تھے۔ اُنروا نے اس کیمپ کی اصل حالت میں بحالی ، مکانوں اور تعلیمی اداروں کی تعمیر کے لیے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here