PTI9_27_2018_000177B

08 نومبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)(دیپک گوسوامی)بات1993 کی ہے۔ مدھیہ پردیش کا تب بٹوارا نہیں ہوا تھا۔ اسمبلی انتخابات کے نتیجے آئے تو کانگریس نے بی جے پی سے اقتدار چھین لیا تھا۔ 320 سیٹوں والی اس وقت کے مدھیہ پردیش میں کانگریس کو 174 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔یہ وہ دور تھا جب ریاستی کانگریس میں عظیم رہنماؤں کی کثرت تھی، ایسے عظیم رہنما جن کے مدھیہ پردیش میں ہی نہیں بلکہ مرکزی سیاست میں بھی دخل ہونے کے ساتھ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ان کی نزدیکیاں تھیں۔سابق وزیراعلیٰ ارجن سنگھ، شیاماچرن شکل، مادھوراو سندھیا، سبھاش یادو، ودیاچرن شکل، موتی لال وورا جیسے بڑے نام تب ریاستی کانگریس میں موجود تھے۔لیکن جب اکثریت حاصل شدہ کانگریس کے سامنے اپنے قانون ساز پارٹی کے رہنما یعنی وزیراعلیٰ کے انتخاب کا سوال آیا تو مذکورہ تمام عظیم رہنماؤں میں سے بیشتر کا مقصد عہدہ پانے کا تھا۔لیکن، تب ان تمام ناموں کو پیچھے چھوڑ‌کر جس چہرے پر وزیراعلیٰ کی مہر لگی، وہ تھے-دگوجئے سنگھ۔ وہ تب پارٹی کی ریاستی اکائی کے صدر تھے۔ راج نیتی نامہ-مدھیہ پردیش کتاب کے مصنف سینئر صحافی دیپک تیواری بتاتے ہیں،اس وقت شیاماچرن شکل کا بھی نام وزیراعلیٰ بننے کے دوڑ میں تھا۔ وہیں، ارجن سنگھ سبھاش یادو کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کی حمایت میں تھے۔ لیکن، دگوجئے سنگھ نے تب سیدھا اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راو کے ساتھ جوڑ-توڑ‌کر لی تھی اور کمل ناتھ بھی دگوجئے سنگھ کے ساتھ آ گئے۔وہ آگے کہتے ہیں،وہیں، ایک طبقہ تھا جو مادھوراؤ سندھیا کو وزیراعلیٰ کی شکل میں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس وقت ودیاچرن شکل بھی ریاست کے بڑے رہنما تھے، ان کا بھی ایک اپنا درجہ تھا جو شیاماچرن کے ساتھ تو نہیں تھا لیکن دگوجئے کا مخالف تھا۔ پارٹی میں ہی بہت سے درجہ ہوا کرتے تھے، ان تمام چیلنج سے پار پاکر دگوجئے وزیراعلیٰ بنے تھے۔ ایک بار دگوجئے وزیراعلی کی کرسی پر بیٹھے تو 10 سالوں تک وہاں جمے رہے۔بقول دیپک تیواری،98-1993 کا ان کا پہلاٹرم ان تمام بڑے ناموں اور پارٹی کے اندر ہی اپنے سیاسی حریف سے جوجھنے میں بیتا۔ لیکن جب 1998 کے انتخابات میں پھر سے کانگریس ان کی قیادت میں جیتی تو ریاست اور پارٹی میں ان کا قد بڑھ گیا۔ سال 2000 آتےآتے ریاست تقسیم کے بعد شکلا بندھوؤں اور موتی لال وورا چھتیس گڑھ نکل گئے۔ مادھوراؤ سندھیا کی موت ہو گئی۔اس بیچ، ارجن سنگھ نے بھی اپنی نئی سیاسی جماعت بنا لی تھی۔ تو کل ملاکر دگوجئے ریاست کے واحد بڑے چہرے تھے جو کانگریس میں بچے رہ گئے۔ اس لئے سیاسی اٹھا پٹک کے وہی ماہر کھلاڑی دگوجئے سنگھ آج جب کیمرے کے سامنے کہتے نظر آتے ہیں،میں انتخابات میں اس لئے تشہیر نہیں کرتا کیونکہ میری تشہیر کرنے سے پارٹی کے ووٹ کٹتے ہیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایک وقت سیاست کے چانکیہ، موجودہ کانگریس صدر راہل گاندھی کے سیاسی گرو کہے جانے والے دگوجئے اب پارٹی میں دراصل حاشیے پر دھکیلے جا چکے ہیں؟کیا بی جے پی کےمشاورتی کمیٹی کے رہنماؤں کی طرح ہی وہ بھی بس برائے نام کے لئے کانگریس میں رہ گئے ہیں؟اگر ایسا ہے تو اپنی چالاکی اور سیاسی سمجھ سے بڑے-بڑے عظیم رہنماؤں کو پچھاڑ‌کر وزیراعلیٰ بننے والے دگ وجئے آخر کیوں اب پارٹی میں ان حالات میں پہنچ گئے ہیں؟ اور ایسی ان کی کیا مجبوری ہے کہ حاشیے پر دھکیلے جانے کی بےعزتی کے بعد بھی وہ پارٹی کی سرگرمیوں میں بڑھ-چڑھ‌کر شامل ہونے کے لئے اتاو لے دکھائی دیتے ہیں؟سال 2003 کے اسمبلی انتخابات میں جب مدھیہ پردیش میں دگوجئے کی قیادت میں کانگریس کی ہار ہوئی اور وہ 230 سیٹوں والی اسمبلی میں صرف 38 سیٹوں پر سمٹ گئی تو دگ وجئے سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ اگلی ایک دہائی تک کوئی انتخاب نہیں لڑیں‌گے اور نہ ہی ریاست کی سیاست میں دخل دیں‌ گے۔ وہ دی وائر کے ساتھ بات چیت میں خود کہتے ہیں،2003 میں مجھ پر الزام لگا تھا کہ دگ وجئے سنگھ کی وجہ سے کانگریس انتخاب ہار گئی۔ اس لئے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، اب آپ لوگ جتائیے۔ 10 سال کا یہ عہد لینے کے بعد دگوجئے کانگریس کی مرکزی تنظیم کی سیاست میں فعال ہو گئے۔ 2008 میں وہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی)کے جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ اس دوران انہوں نے اتر پردیش، آسام، بہار، آندھر پردیش جیسی ریاستوں میں پارٹی کی پالیسیاں بنائیں۔ان کو میڈیا میں راہل گاندھی کے سیاسی گرو کے طور پر بھی پیش کیا جانے لگا۔ تب راہل گاندھی کے جلسہ میں وہ اکثر ان کے قریب ہی نظر آتے تھے۔کانگریس نے بھی ان پر خوب بھروسہ دکھایا اور گوا، کرناٹک، آندھر پردیش اور تلنگانہ جیسی ریاستوں کی ان کو ذمہ داری سونپا جہاں کانگریس کی حکومت بنانے کے لئے ان کو مقامی قیادت کے ساتھ پالیسیاں بنانی تھیں۔2013 میں ان کا خودکااعلان کردہ 10 سالہ بنواس ختم ہوا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی اگر ان کو لوک سبھا کے انتخابات میں اتارنا چاہے‌گی تو وہ اتریں‌گے۔ حالانکہ، ان کو تب لوک سبھا کا ٹکٹ نہیں ملا تھا لیکن 2014 میں پارٹی نے ان کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ ضرور دے دیا تھا۔اس بیچ، دگ وجئے سنگھ اپنے بیانات کو لےکر ہمیشہ سرخیوں میں چھائے رہتے تھے، پھر چاہے وہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹرپر ان کے ذریعے سوال اٹھانا رہا ہو، امریکہ کے ذریعے دہشت گرد اسامہ بن لادین کی لاش سمندر میں پھینکنے پر اعتراض جتانا ہو یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر ان کا حملہ آور رخ ہو۔یو پی اے حکومت کے دور میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب دگوجئے سنگھ کی بیان بازی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دگوجئے کانگریس کے ایسے ہتھیار ہیں جس کو پارٹی چاروں طرف سے گھرنے پر چلاتی ہے اور ان کا ایک متنازع بیان ہر مدعا سے ملک کا دھیان بھٹکا دیتا ہے۔بہر حال، پارٹی میں دگوجئے کے برے دور کی شروعات تب ہوئی جب 2017 میں گوا صدر کے طور پر وہ گوا میں کانگریس کی حکومت بنوانے میں ایسے وقت میں ناکام ہوئے جب انتخابی نتیجوں میں کانگریس کو بی جے پی سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں۔نتیجتاً کچھ ہی وقت بعد ان سے گوا کے ساتھ-ساتھ انتخابی مورچہ پر کھڑے کرناٹک ریاست کی ذمہ داری بھی واپس لے لی گئی۔ دو مہینہ بعد ان کے تلنگانہ کے صدر کے طور پر بھی چھٹی کر دی گئی۔اب وہ صرف راجیہ سبھا رکن پارلیامان رہے اور پارٹی میں ان کے پاس آندھر پردیش کی ذمہ داری بچی تھی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری تھے۔ لیکن، 2018 میں مرکزی سیاست میں دگوجئے کا کردار تب پوری طرح سے ختم ہو گیا جب ان کو پارٹی کے نو منتخب صدر راہل گاندھی کی اے آئی سی سی میں جنرل سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور آندھر پردیش کی بھی ذمہ داری لے لی گئی۔ کیرل کے سابق وزیراعلیٰ اومان چنڈی کو یہ دونوں ذمہ داری سونپ دی گئیں۔کانگریس کو لگی گوا کی چوٹ کے بعد آہستہ آہستہ پارٹی نے پوری طرح سے دگوجئے سے کنارہ کر لیا۔ فی الحال وہ صرف مدھیہ پردیش کانگریس کو آرڈیشن کمیٹی کے صدر ہیں۔ جہاں ان کو پارٹی کی طرف سے پارٹی کی ریاست اکائی میں موجود گٹ بازی سے نپٹنے کا کام سونپا گیا ہے۔حالانکہ،کمیٹی کے صدر کے طور پر ان کی تقرری بھی متنازعہ رہی۔ ظاہری طور پر یہ کمیٹی گٹ بازی ختم کرنے کی کانگریس کی ایک قواعد ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ دگوجئے کو سادھنے کی ایک کوشش محض تھی۔ گٹ بازی دور کرنے کے لئے بنائی گئی یہ کمیٹی خود گٹ بازی کی ہی دین تھی۔ واقعہ یوں تھا کہ نرمدا پری کرما یاتراختم کرنے کے بعد دگوجئے سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ ہر اسمبلی حلقہ میں جائیں‌گے اور کارکنان اور رہنماؤں کو متحد کرکے آئندہ انتخابات کے لئے پارٹی کو تیار کریں‌گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے رہنماؤں میں اس حد تک گٹ بازی ہے کہ کوئی کسی کی نہیں سنتا۔اس بیچ کانگریس کاایک اندرونی سروے میڈیا میں سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ دگوجئے کا عوام کے درمیان جانا کانگریس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اور کانگریس نے ان کو یاترا پر جانے سے روک دیا۔اس دوران کمل ناتھ کی تاج پوشی بھی بطور صدر ہو گئی۔ انہوں نے 12 مئی کو ہدایت جاری کی کہ بنا پارٹی کی اجازت کوئی بھی یاترا نہیں نکالی جائے‌گی۔پھر اچانک 22 مئی کو پارٹی نے دگوجئے سنگھ کی صدارت میں کوآرڈی نیشن کمیٹی کی تشکیل کرکے دگوجئے کو وہی کام سرکاری طور پر سونپ دیا جو کہ وہ پہلے ذاتی یاترا کے ذریعے کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہاں بھی ان کے پر کاٹنے میں کوئی کمی نہیں رکھی۔نجی سمونویہ یاترا میں پہلے جہاں دگوجئے ہر اسمبلی کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن کانگریس کی رسمی ہم یاترا میں ان کو ضلع سطح پر ذمہ داری سونپی گئی۔ ساتھ ہی پارٹی میں ان کے کٹر حریف ستیہ ورت چترویدی کو بھی کمیٹی کا ممبر بنادیا۔ماہرین مانتے ہیں کہ یاترا سے روکے جانے کے بعد دگوجئے کی ناراضگی دور کرنے کے لئے صرف ان کو تسلی دینے کے لئے ان کی صدارت میں کمیٹی بنائی گئی۔سیاسی مبصرگرجا شنکر کہتے ہیں،اگر انتخاب کے ٹھیک پہلے کسی سیاستداں کو اس کی پارٹی چار-چھے مہینے کی نجی یاترا(نرمدا یاترا) کرنے کے لئے چھٹی دیتی ہے تبھی صاف ہو جاتا ہے کہ اس رہنما کے ہونے نہ ہونے سے پارٹی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اس لئے دگوجئے کے معاملے میں پارٹی نے ستمبر 2017 میں ہی اشارہ دے دیا تھا کہ وہ جو کرنا چاہیں کریں، اب پارٹی کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔ نرمدا یاترا کی بات کریں تو دگوجئے سنگھ 30 ستمبر 2017 کو نرمدا پری کرما یاترا پر نکلے تھے۔ اس کو انہوں نے اپنی ذاتی مذہبی یاترا قرار دیا تھا۔ تقریباً چھے مہینہ چلی یہ یاترا ریاست میں نرمدا ندی سے لگی 90 اسمبلی سیٹوں سے ہوکر گزری تھی۔یاترا بھلےہی مذہبی تھی لیکن دگوجئے کی فیس بک اور ٹوئٹر ٹائم لائن بتاتی تھی کہ اس دوران سیاستدانوں کا ہجوم ان کی یاترا میں دیکھا گیا۔ سیاست میں دخل رکھنے والے سادھو-سنتوں سے وہ دعائیں لیتے دکھائی دئے۔ ساتھ ہی یاترا کے دوران لوگوں سے ملتے جلتے اور ان کے مسائل کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھتے رہے۔اس لئے تب ان کی یاترا سیاسی سرگرمی سے جوڑ‌کر دیکھی گئی۔ حالانکہ وہ تب تو انکار کرتے رہے لیکن بیتے دنوں دی وائرکو دئے انٹرویو میں انہوں نے یاترا کے سیاسی سرگرمی سے جڑے ہونے کی بات قبول کی تھی۔تب کہا گیا کہ نرمدا یاترا انتخابات کو دیکھتے ہوئے دگوجئے کی ریاست میں اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانے کی اور خود کو شیوراج کے سامنے ایک طاقتور چہرے کی شکل میں پیش کرنے کی ایک قواعد ہے۔ ان کو اس دوران ریاست میں کانگریس کی طرف سے پھر سے وزیراعلیٰ کے دعوے دار کے طور پر دیکھا جانے لگا تھا۔ہاں، ان کا مقصد بھی کچھ بڑا تھا، تبھی تو یاترا ختم ہوتے ہی وہ ہر اسمبلی میں جاکر یاترا نکالنے کے خواہش مند تھے۔ لیکن کانگریس ان کو لےکر الگ ہی سوچ رکھتی تھی۔ پہلے تو ان کی یاترا روکی اور پھر ان کو اے آئی سی سی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔اس پورے واقعہ کے بعد دگوجئے وضاحت کرتے نظر آئے کہ وہ ریاست کے وزیراعلیٰ نہیں بنیں‌گے۔ لیکن، اس بیچ ان کے حامی ان کو وزیراعلیٰ بنانے سے متعلق کیمپین بھی چلاتے نظر آئے۔ حالانکہ، دگوجئے نے اس کیمپین سے کنارہ کر لیا۔لیکن، کہیں نہ کہیں ریاست کی سیاست میں اہمیت پانے کی چھٹپٹاہٹ تو ان میں دیکھی ہی گئی ہے۔ جس کا ثبوت ملتا ہے جب وہ اگست مہینے میں دی وائر سے کہتے ہیں،ریاست میں کانگریس پچھلے دو اسمبلی انتخابات اس لئے ہاری کیونکہ میں نہیں تھا۔ لیکن، اب میں پورے طور پر فعال ہوں۔ میں نے نرمدا جی کی 3100 کلومیٹر کی پری کرما کی ہے۔ شیوراج کے اسمبلی حلقہ میں 11 دن پیدل چلا ہوں اور اب میں ضلع‎-ضلع جا رہا ہوں،گاؤں-گاؤں جاؤں‌گا اور چیلنج دیتا ہوں شیوراج کو کہ اس بار حکومت بناکر دکھا دے۔ اس بار دگوجئے سنگھ ہرجگہ جائے‌گا۔ پہلے کانگریس جہاں بلاتی تھی صرف وہاں جاتا تھا۔ اس بار مضبوطی سے میں کانگریس پارٹی کی ہی حکومت بنواؤں‌گا۔ اس لئے جب راہل گاندھی کے بھیل کے میدان میں منعقد جلسہ ہو یا دوسرے انعقاد، مختلف منچوں پر ان کی غیرموجودگی رہی، جہاں کانگریسی کی انتخابی تشہیر میں ریاست کے تمام بڑے رہنماؤں کے بڑے بڑے کٹ آؤٹ لگائے جاتے تھے، لیکن دگوجئے وہاں سے غائب تھے۔ یہی وجہ رہی کہ اپنےکو نظر اندازکیے جانے سے غم زدہ ہوکر وہ کیمرے کے سامنے اپنا درد بیان کر بیٹھے۔گرجا شنکر کہتے ہیں،دگوجئے کوئی عوام کے مسیحا نہیں ہیں اور نہ ہی عوام ان کے غلام کہ 10 سال انہوں نے ریاست کی سیاست میں کچھ نہیں کیا، اب آپ جیسے ہی آئیں‌گے تو لوگ آپ کے پیچھے پاگل ہو جائیں‌گے۔ یہ بڑی-بڑی ڈینگ ہانکنا کہ میں نہیں تھا تو کانگریس ہاری، صرف اور صرف اپنے کو نظر انداز کیے جانے کی دہشت ہے ،دگوجئے کی خود کو اہم، مفید ثابت کرنے کی ایک کوشش کہیےیا خود کو دلاسہ دینا مانیے۔ وہ آگے کہتے ہیں،کسی بھی پارٹی میں ہر رہنما کو اپنی افادیت ثابت کرنی پڑتی ہے۔ میڈیا نے بول دیا کہ بڑے رہنما ہو تو پارٹی بھی مان لے‌گی، ایسا نہیں ہے۔ بڑے رہنما ہیں آپ تو آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے‌گا۔ 15 سالوں سے دگوجئے سنگھ نے ایسا کیا کام کیا کہ پارٹی میں ان کی افادیت بنی رہے؟ اس دوران ان کی کیا کامیابیاں رہیں؟ بس میڈیا کی تشہیر رہی کہ وہ راہل کے گرو ہیں، بڑے رہنما ہیں۔ راہل کے گرو کے طور پر ان کو انہوں نے خود یا پارٹی نے نہیں، میڈیا نے پیش کیا تھا۔ گرجا شنکر کی بات منطقی تب لگنے لگتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ فی الحال کمیٹی کے صدر کے طور پر بھی وہ پارٹی کی گٹ بازی دور نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے ضلع‎-ضلع‎ دورے کئے لیکن زمینی حالت یہ ہے کہ اسمبلی سطح سے لےکر ریاستی کانگریس کی اعلیٰ قیادت تک گٹ بازی اس قدر موجود ہے کہ کانگریس جو کہ 15 اگست تک انتخابات کے لئے ٹکٹ مختص ختم کرنے والی تھی، وہ اکتوبر ختم ہونے تک اس کام کو انجام نہیں دے سکی۔ایک طرف ایک سیٹ سے دس-دس امیدواروں کی دعویداری رہی تو دوسری طرف کمل ناتھ، سندھیا، دگوجئے، اجئے سنگھ جیسے بڑے عظیم رہنمااپنے-اپنے چہیتوں کو ٹکٹ دلانے میں ایک دوسرے کے فریب میں لگے رہے جس کے چلتے ٹکٹ کس کو دیا جائے، اس پر آسانی سے اتفاق ہی نہیں ہو سکا۔وہیں، گٹ بازی دور کرنے والے دگوجئے خود کے خلاف ہو رہی گٹ بازی بھی دور نہیں کر سکے ہیں۔ دگوجئے کی یاترا کو سندھیا کے تسلط والے گوالیار-چنبل منڈل میں نہیں ہونے دیا گیا۔ یہاں 32 اسمبلی سیٹیں ہیں۔جو کئی سوال کھڑے کرتے ہیں۔ جیسے-کیا خود کوآرڈی نیٹر دگوجئے کے انتخابی انتظام وانصرام کمیٹی کے صدر جیوترادتیہ کے ساتھ تعلقات مضبوط نہیں ہیں؟ کیا پارٹی کو ان کے کوآرڈی نیٹر کی صلاحیت پر شک ہے؟ یا پھر اصل میں کمیٹی کی تشکیل صرف دگوجئے کو سادھنے کی ایک کوشش محض تھی جس کا کہ ہم نے اوپر تجزیہ کیا۔ان میں سے کچھ سوالوں کے جواب تب مل گئے جب 31 اکتوبر کو دہلی میں راہل گاندھی کے سامنے سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں سندھیا اور دگوجئے آپس میں بھڑ گئے۔ دونوں ہی اپنے-اپنے حامیوں کے لئے ٹکٹ کی مانگ‌کے رہے تھے۔ دونوں کا جھگڑا سلجھانے کانگریس صدر کو تین رکنی کمیٹی کی تشکیل تک کرنی پڑی۔سینئر صحافی رشید قدوائی دگوجئے سنگھ کی بے عزتی کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،وہ اپنی عمر اور اپنی سیاست کے طریقے کی وجہ سے حاشیے پر آ گئے۔ پہلا تو پارٹی چاہتی تھی کہ ان کی عمر کے رہنما فعال سیاست سے آہستہ آہستہ کنارے ہو جائیں اور راہل گاندھی کی نوجوان نسل کو موقع دیں۔ لیکن 2014 کی شرمناک ہار‌کے بعد پارٹی اپنا وہ فارمولا نافذ نہیں کر پائی۔ پھر اس دوران ملک کی سیاست میں بی جے پی کی جیت اور نریندر مودی کے عروج سے ایک بڑی تبدیلی آئی۔ وہ آگے کہتے ہیں،کانگریس کا وہ پرانا فارمولا جس میں اعلیٰ ذات کا آدمی اقلیت اور دلتوں کے مفاد کی بات کرے تو ایک اچھا مجموعہ بن جاتا تھا، وہ ختم ہو گیا۔ تَکثیریت پھیل گئی۔ جس میں اقلیتوں کی بات کرنے والوں اور ان کے مسیحا کا سیاسی اسپیس بہت کم ہو گیا۔ دگوجئے سنگھ انہی بدلی ہوئی سیاسی حالات کے حساب سے کانگریس کے لئے بیکار ہو گئے۔ ان کا سیاسی ماڈل بدلتے حالات کے مطابق نہیں تھا اور ان کی سب سے بڑی کمی یا کمزوری رہی کہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں خود کو بدل نہیں پائے۔ وہیں، مدھیہ پردیش کے انتخابات میں دگوجئے کو سامنے نہ لانا دیپک تیواری کانگریس کی حکمت عملی بھی مانتے ہیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ دگوجئے اب کانگریس کے لئے بوجھ سے ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں،بی جے پی نے دگوجئے کو مدھیہ پردیش میں اتنا بڑا شیطان ثابت کر دیا ہے کہ ان کی ریاست میں انتخابی امیج پوری طرح سے ختم ہو گئی ہے۔ دگوجئے نے بھی اس امیج کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ آگے کہتے ہیں،دگوجئے سنگھ کو مدھیہ پردیش کی سمجھ بہت اچھی ہے۔ ریاست میں پارٹی میں کس کی کیا حیثیت ہے یہ وہ بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ اس لئے وہ پردے کے پیچھے تو کانگریس کے لئے فائدےمند ہیں لیکن اگر وہ سامنے آتے ہیں تو جیسا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ پارٹی مانتی ہے کہ ان کے بولنے سے ووٹ کٹتے ہیں، تو یہ پارٹی ہی نہیں مانتی ہرکوئی ماننے لگا ہے۔ اس لئے ان کا پردے کے پیچھے رہنا پارٹی کی حکمت عملی بھی ہے اور ساتھ ہی ان کو پارٹی اس لئے بھی کنارے کر رہی ہے کہ وہ اب ایک طرح کے بوجھ زیادہ بن گئے ہیں، اس طرح کانگریس دگوجئے کے معاملے میں دو طرفہ پالیسی اپنا رہی ہے۔ بات صحیح بھی ہے کہ کیونکہ دگوجئے سنگھ آج جب کانگریس کی خاص تشہیر سے دور ہیں تب بھی وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اور بی جے پی کی کیمپین ان کے ہی نام کے ارد-گرد گھوم رہی ہے۔شیوراج ہوں یا بی جے پی صدر امت شاہ، ہر جلسہ میں وہ دگوجئے کے 10 سال کی مدت کا ذکر کرنا نہیں بھولتے۔ہر جلسہ میں وہ دگوجئے کے لئے شریمان بنٹادھار لفظ کو استعمال کرکے عوام کو ان کا زمانہ یاد کراتے ہیں۔ اس لئے اگر دگوجئے کو کانگریس سامنے کرتی تو بی جے پی کا حملہ کانگریس پر تیز تو ہوتا ہی، ساتھ ہی وہ پورے انتخاب کو شیوراج بنام دگوجئے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی جو کہ بی جے پی کے لئے فائدے اور کانگریس کے لئے نقصان کا سودا ہوتا۔یہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ مندسور میں کسانوں کے ساتھ ہوئے گولی کانڈ کو شیوراج حکومت کے خلاف بھنانے میں جٹی کانگریس اگر دگوجئے کو ساتھ لےکر چلتی تو دگوجئے کے دورحکومت میں کسانوں پر ہوئے ملتائی گولیکانڈ کی پرچھائی بھی اس کو ستاتی۔ جس سے کہ مندسور کیس پر شیوراج کو گھیرنے کی اس کی مہم کہیں نہ کہیں متاثر ہوتی۔ شاید اس لئے ہی 6 جون 2018 کے راہل گاندھی کے مندسور جلسہ کے منچ پر ریاست کے تمام بڑے کانگریسی رہنما موجود تھے، سوائے دگوجئے کے۔دیپک تیواری کہتے ہیں،مدھیہ پردیش میں اس بار انتخاب بی جے پی بنام کانگریس نہیں، بی جے پی بنام عوام ہے اور کانگریس امید لگائے بیٹھی ہے کہ اینٹی ان کمبینسی کی وجہ سے عوام اس کی حکومت بنوائے‌گی۔ اس لئے وہ کسی چہرے کو آگے نہیں کر رہی ہے کہ جیسے ہی کانگریس کے رہنما سامنے آتے ہیں تو عوام کانگریس کے رہنماؤں سے بی جے پی کے رہنماؤں کی توقع زیادہ بڑھنے لگتی ہے اور بات دگوجئے کی ہو تو سیدھے سیدھے بی جے پی فائدے میں چلی جاتی ہے۔ وہیں، رشید مانتے ہیں کہ دگوجئے اس کانگریسی کلچر کی قربانی گئے جہاں ناکامی کے لئے پارٹی اعلیٰ قیادت پر انگلی نہیں اٹھائی جاتی اور نیچے والوں پر ساری غلطیاں تھوپ‌کر قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں،کانگریس زیادہ تر ریاستوں میں ہاری ہے۔ ان میں سے ہی ایک گوا تھا۔ گوا میں سب سے بڑی پارٹی بننے کے بعد بھی حکومت نہ بننے کے پیچھے کئی وجوہات تھے۔ لیکن صرف دگوجئے سنگھ کو الزام دینا مناسب نہیں تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کانگریس کو آندھر پردیش میں بھی مسائل کاسامناکرناپڑا، کرناٹک میں بھی اپنے بل حکومت بننے کی امید تھی لیکن بن نہ سکی۔ وہ آگے کہتے ہیں،ایسے معاملوں میں کانگریس کا ایک کلچر چلا آ رہا ہے راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو الزام نہیں دیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم ہوتا ہے، ان کو الزام دیا جاتا ہے۔ دیگر رہنما اور اہلکاروں کو الزام دیا جاتا ہے۔ اتر پردیش یا دیگر کسی بھی ریاست میں دیکھیں، بی جے پی اگر آگے آئی ہے تو کانگریس کو ہی ہراکر آگے آئی ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ لیکن کبھی راہل اور سونیا پرانگلی نہیں اٹھی۔ اس کلچر کا خمیازہ بھی دگوجئے سنگھ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ وہیں، نظرانداز ہونےکے بعد بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے دکھائی دینا دگوجئے کی مجبوری اس لئے ہے کیونکہ ان کو اپنے بیٹے جئے وردھن سنگھ کو سیاست میں سیٹ کرنا ہے، جو کہ راگھوگڑھ سے ایم ایل اے ہیں۔رشید کہتے ہیں،ان کو اپنے حاشیے پر جانے کا اتنا افسوس نہیں ہے۔ وہ اپنے ایم ایل اے بیٹے، جو اگر دوسری بار جیت جاتے ہیں اور کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو ان کو ایک اچھی وزارت ملنے کی امید ہے، کی پرواہ میں ہیں۔ وہیں، دگوجئے سنگھ کے حامی پوری ریاست میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کو ان حامیوں کے لئے بھی سیاست کرنی ہے۔ ان کی بھی سیٹنگ کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دگوجئے کی پارٹی سے رسوائی کانگریس کو نقصان پہنچائے‌گی، اس بات سے رشید کنارہ کرتے ہیں۔وہیں،گرجا شنکر مانتے ہیں،دگوجئے ہوں یا کمل ناتھ یا پھر سندھیا، یہ لوگ اگر ریاست کے اتنے ہی بڑے رہنما ہوتے تو تین بار کانگریس انتخابت کیوں ہارتی؟ مطلب کہ تینوں ریاست میں کوئی بڑے رہنما نہیں ہیں۔ اس لئے مدھیہ پردیش کانگریس میں ایسا کوئی رہنما نہیں دکھتا جو ناراض ہونے پر پارٹی کو نقصان پہنچانے کی حالت میں ہو۔وہ کہتے ہیں،دگوجئے 15 سالوں سے ریاست سے دوری بنائے رکھے۔ سندھیا اور کمل ناتھ مدھیہ پردیش میں رہے ہی نہیں کبھی۔ ریاست میں ان لوگوں کی اصل میں کوئی زمین ہی نہیں ہے۔ اس لئے وہ کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ بہر حال، ماہرین مانتے ہیں کہ دگوجئے کا فائدہ کانگریس کو نقصان پہنچانے میں نہیں، جتانے میں زیادہ ہے۔ کیونکہ اس حالت میں ایک تو ان کا بیٹا سیاست میں سیٹل ہو سکتا ہے اور دوسرا اگر کمل ناتھ وزیراعلیٰ بنتے ہیں تو کہیں نہ کہیں دگوجئے کو ان سے نزدیکی کا فائدہ مل سکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ان کو اپنی راجیہ سبھا کی سیٹ بھی بچانی ہے۔ لیکن، ساتھ ہی وہ قبول کرتے ہیں کہ یہ فائدہ بھی دگوجئے کے ڈوبتے ہوتے سورج کوپھر سے طلوع نہیں کرا سکتا ہے۔حالانکہ، اتنا تو طے ہے کہ کانگریس نے دگوجئے کو پیچھے کرکے وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی صدر امت شاہ اور شیوراج سنگھ چوہان سے کانگریس کو ٹارگیٹ کرنے کا ایک مدعا چھین لیا ہے۔رشید کہتے ہیں،اس سے کانگریس کو تھوڑا سیاسی فائدہ ملنے کی امید ہے اور یہ بات دگوجئے خود جانتے ہیں۔ ارجن کی طرح کانگریس کا نشانہ مچھلی کی آنکھ پر ہے کیونکہ اگر مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں سے وہ دو ریاست نہیں جیتی تو اس کے وجود کے اوپر ایک بڑا بحران آنے والا ہے۔ اس لئے دگوجئے کے معاملے میں پارٹی نے کوئی خطرہ نہیں لیا۔ بہر حال، اس بیچ دگوجئے سنگھ کا سونیا گاندھی کو لکھا ایک خط بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں وہ اپنے 57 حامیوں کو ٹکٹ دلانے کی گہار‌کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی خط میں انہوں نے پارٹی میں اپنے نظرانداز ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔ حالانکہ، دگوجئے نے اس خط کو فرضی ٹھہرایا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here