بنگلور : 06نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس ) کرناٹک میں تین لوک سبھا اور دو اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی منگل کو جاری ہے۔ یہاں بیلاری سیٹ پر بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے کانگریس امیدوار بی ایس اگرپا نے جیت درج کی ہے۔ وہیں، جام کھنڈی اسمبلی سیٹ پر بھی کانگریس امیدوار آنند نیاما گوڑا نے جیت حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ رام نگر اسمبلی سیٹ پر وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی اہلیہ انیتا کمار سوامی نے جیت حاصل کی ہے۔ منڈیا لوک سبھا سیٹھ پر جے ڈی ایس کے اُمیدوارایل آر شوارامے گوڈا نے تین لاکھ چوبیس ہزار نوسو پچیس ووٹوں کی بڑت سے جیت حاصل کی ہے۔ یعنی انہوں نے جملہ پانچ لاکھ اُنسٹھ ہزار تین سو دو ووٹ حاصل کئے، جب کہ بی جے پی کے اُمیدوار ڈاکٹر سدارامیا نے دو لاکھ چوالیس ہزار تین سو ستہہتر ووٹ حاصل کئے ہیں۔  شیموگہ کی بات کریں تو یہاں لوک سبھاکے بی جے پی اُمیدوار بی وائی راگھویندرا تھے جو کہ ایڈیورپا کے فرزند ہیں، اور مخلوط حکومت کے اُمیدوار مدھوبنگارپا تھے جس میں راگھوویندرا نے باون ہزار ووٹوں کی بڑت سے جیت درج کی ہے۔ رام نگرممیں وزیرِ اعلیٰ کرناٹک کمار سوامی کی اہلیہ انیتا کمار سوامی نے تاریخی جیت درج کی ہے، جمکھنڈی یعنی باگل کوٹے میں کانگریس اُمیدوار سدو نیام گوڈا نے جیت درج کی ہے،انہوں نے ستانوے ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تو بی جے پی کے اُمیدوار کل کرنی شری کنٹھا سبارواؤ نے 57ہزار پانچ سو سینتیس ووٹ ہی حاصل کرپائے۔  اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈوراؤ نے کہا کہ اب بی جے پی کو دکشن بھارت سے ہی نکال باہر کرنے کا وقت آگیاہے، اس بار جے ڈی ایس اور کانگریس کی مخلوط حکومت نے پوری طرح اکثریت سے جیت حاصل کی ہے اب تو بی جے پی کو سبق حاصل کرلینا چاہئے، بی جے پی کی اصلیت سے عوام واقف ہوچکی ہے ،ا وران نتائج کا اثر دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں براہِ راست ہوگا۔،بلاری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کاگڑھ کہاجانے والے علاقے میں بھی جیت درج کی ہے ، جس سے بی جے پی کے تئیں عوام کا اعتماد کس قدر گرچکاہے ، یہ ظاہر کرتاہے۔
سابق وزیرِ ااعظم اور جے ڈی ایس کے قومی صدر دیوے گوڈا نے اس جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی مخلوط حکومت کو گرانے کی چکر میں تھی اور اب عوام نے ان کو جواب دے دیا ہے، انہوں نے کرناٹک کے عوام کو مبارکبادی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترقیات کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہی ہماری کامیابی ہے۔ پانچ میں سے چار سیٹوں پر کانگریس۔ جے ڈی ایس کی سبقت پر سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے ٹویٹ کیا کرناٹک میں 4-1 ریزلٹ دیکھ کر لگ رہا ہے جیسے کوہلی کی کپتانی میں بھارت نے کوئی ٹیسٹ سیریز جیتی ہو۔ اتحاد نے کر دکھایا۔وہیں، آندھراپردیش کے وزیرسومی ریڈی چندرموہن ریڈی نے کہا ہے کہ کرناٹک کے ضمنی انتخابات کے نتائج مودی کیلئے سبق ہیں۔ انہوں نے ان نتائج پر وجئے واڑہ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کے ضمنی انتخابات کے نتائج مودی حکومت پر عوام کی مخالفت کی ایک مثال ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ 2019 کے انتخابات میں این ڈی اے کو شکست ہوگی۔ ہفتہ کے روز ہوئی ووٹنگ میں یہاں تقریباََ 67 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ ان ضمنی انتخابات کو ریاست میں حکمراں کانگریس- جے ڈی ایس اتحاد کی مقبولیت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج کا اثر 2019 میں کرناٹک کی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بیلاری پارلیمانی حلقہ میں کانگریس کے وی ایس اگرپا ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی امیدوار جے شانتا کو ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی ہے۔ ایسے میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بیلاری کے عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔  کانگریس کے کارکنان نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here