بنگلہ دیش:13 اگست (سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)بنگلہ دیش میں 2 طالبعلموں کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے ایک اور طالبعلم کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے بعد نئے سرے سے بھڑک اٹھے ہیں۔ روزنامہ ڈھاکہ ٹریبیون کی خبر کے مطابق دو ہفتے قبل 2 طالبعلموں کی ہلاکت کا سبب بننے والے ٹریفک حادثے کے بعد طالبعلموں کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا گیا اور یہ مظاہرے 8 دن تک جاری رہے۔ اخبار کے مطابق آج پھر ایک طالبعلم کے ٹریفک حادثے کے نتیجے میں لقمہ اجل بننے کے بعد مظاہرے دوبارہ سے شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاع کے مطابق رنگ پور شہر میں ایک دسویں جماعت کے سائیکل سوار طالبعلم کو ایک بس ڈرائیور پیچھے سے ٹکر مار نے کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا جبکہ طالبعلم موقع پر دم توڑ گیا۔ طالبعلم کے گرد جمع ہونے والے غم و غصے سے بھرے طالبعلموں اور شہریوں نے ڈھاکہ۔رنگ پور موٹر وے کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا اور شاہراہ پر موجود متعدد گاڑیوں کا نقصان پہنچایا۔ پولیس نے ڈنڈوں اور آنسو گیس سے مداخلت کی ۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق مظاہرین کی طرف سے پتھراو کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حادثے کا سبب بننے والی بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، ڈرائیور ، ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر بس چلا رہا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here