مسلمانوں کی ماکولات اور مشروبات میں حلال ہونے کیساتھ پاک اور صحت کیلئے نفع بخش ہونا ضروری ہے 

بنگلور، 10 جولائی(سیدھی بات نیوز سرویس /محمد فرقان): اسلام مسلمان دشمن مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ اغیار ہر چیز سے مسلمانوں کو تکلیف دینا چاہتے ہیں وہ کوئی بھی موقع چھوڑنا نہیں چاہتے۔اسلام میں اپنی صحت کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن آج یہود ونصارا نے ایسی چیزوں کو عام کردیاہے جو صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ جس کی ایک کڑی بوائیلر مرغی ہے۔ان خیالات کا اظہارشیر کرناٹک، شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔شاہ ملت نے فرمایا کہ بوائیلر مرغی جس کی ایک قسم کو فارم مرغی کہا جاتا ہے آج کل بہت ہی زیادہ عام ہوچکی ہے۔جب انسانوں کی آبادی بڑھی اور یہ محسوس ہوا کہ دیسی مرغی لوگوں کے مطالبے کو مکمل نہیں کرپارہی ہے تو 1960ء میں بوائیلر مرغی کی ایجاد ہوا۔ برطانیہ کے ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے یہ بات بتائی ہے کہ بوائیلر مرغی کی ایجاد اسی طریقے سے ہوی جیسے فارم کی خنزیر کا ہوا تھا۔ مولانا نے فرمایا کہ جب اسلام مسلمان دشمنوں کو یہ معلوم ہوا کہ بوائیلر مرغی کا مطالبہ بڑھتا جارہا ہے تو مسلمانوں کو تکلیف دینے کیلئے انہوں نے مردار چیزوں کو انکی غذا میں شامل کردیا جس میں مردار جانور کا خون اور انتڑی شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ خنزیر کے گوشت کا برادہ بھی انکو دیا جاتا ہے۔مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ بوائیلر مرغی کو سنکھیا نام کا ایک انجکشن دیا جاتا ہے جو ایک خطرناک زہر ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس قسم کی مرغی میں کوئی طاقت نہیں ہوتی اسے وقت سے پہلے انجکشن وغیرہ کے ذریعے موٹا اور بڑا کردیا جاتا ہے جو صرف آنکھوں کا دھوکہ ہوتا ہے اور اس کا استعمال اپنی صحت کو نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ بوائیلر مرغی حرام ہے لیکن مسلمانوں کی ماکولات اور مشروبات میں حلال ہونے کیساتھ پاک ہونا اور صحت کیلئے نفع بخش ہونا ضروری ہے۔جس کی ایک مثال انہوں نے بتائی کہ تھوک حلال ہے لیکن اسکا استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ پاک نہیں۔مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے اپیل کی کہ آج ہی سے بوائیلر مرغی جیسی زہریلی خوراک لینا بند کریں اور اپنے رفقاء کو بھی آگاہ کریں۔ ورنہ مستقبل میں اسکے نقصانات اور کئی ایسے بیماریاں سر اٹھائیں گے کہ سنبھالا نہ جاسکے گا۔ اسکے بدلے دیسی مرغی وغیرہ کا استعمال کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here